Inquilab Logo Happiest Places to Work

دادر: چیتیہ بھومی کے قریب طلبہ اور سیاسی پارٹیوں کا حکومت کیخلاف زبردست احتجاج

Updated: July 21, 2026, 12:02 PM IST | Saadat Khan | Dadar

طلبہ نے راستہ بلاک کیا۔’پیپرلیٖک کو روکیں ،جاؤ پردھان جاؤ، سونم سر آگے بڑھیں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ،وزیراعظم استعفیٰ دیں‘ جیسے نعرے لگائے۔پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

Scenes of student protests and police actions can be seen. (Photos: Shadab Khan)
طلبہ کے مظاہروں اور پولیس کی کارروائیوں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ (تصاویر: شاداب خان)

معروف ماحولیاتی کارکن اور سائنسداں سونم وانگ چک اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی )کی جانب سے نیٖٹ  پیپر لیٖک معاملے کے خلاف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کودادر میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن ، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی، شیتکری کامگارپارٹی، سماجوادی پارٹی، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی ار بھارتیہ راشٹریہ کانگریس پارٹی کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا ۔ پولیس نے احتجاج روکنے کی بھرپور کوشش کی ،اس کے باوجود مظاہرین نے حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی لیڈران اوربڑی تعداد میں طلبہ کو حراست میں لے لیا ۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے کے چھاپوں سے معلوم ہوا لوگ دودھ کے نام پر زہر پی رہے ہیں

مظاہرین نے زبردست نعرے لگائے

اعلان کے مطابق چیتیہ بھومی ،دادر میں شام ۴؍بجے احتجاج کا پروگرام تھا لیکن اجازت نہ ملنے اور بھاری تعداد میں پولیس تعینات ہونے سے بھارت لائف ہوٹل ،دادر  کے قریب احتجاج کیا گیا ۔ مظاہرین نے ’’ جائوپردھان جائو، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں، سی جے پی لیڈروں سے بات چیت شروع کریں، سونم وانگ چک کو رہا کریں، پیپر لیٖک کو روکیں، خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دیں، سونم سر آگے بڑھیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں اور وزیر اعظم مودی استعفیٰ دیں‘‘ جیسے نعرے لگائے ۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف   طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نےکارروائی کے دوران طالبات کی بھی پٹائی کی۔

احتجاج سے قبل لیڈران پر کارروائی 

احتجاج سے قبل سی پی آئی لیڈر ملند راناڈے کو تلک نگر پولیس  اسٹیشن نے ان کے چمبور کے گھر میں نظر بند کر رکھا تھا، سی پی آئی لیڈر چندرکانت شندے کو دھاراوی پولیس اسٹیشن  اور نوجوان لیڈر سمیا کو رڈے کو ان کے گھر سے سائن پولیس اسٹیشن لے گئی تھی۔

پولیس نے بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے کامریڈ ملند راناڈے، شیتکری کامگارپارٹی کے ایڈوکیٹ راجندر کورڈے ، سماجوادی پارٹی کے راہل گائیکواڑ ، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے شیلندر کامبلے ، بھارتیہ راشٹریہ کانگریس پارٹی کے سریش چندر راج ہنس اورہم بھارت کے لوگ کے  فیروزمیٹھی بوروالا کے علاوہ متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ممبرا میں عوام کیلئے ریزرو پلاٹ بلڈروں کے سپر د کئے جا رہے ہیں‘‘

طلبہ مشتعل ہوگئے

پولیس کے اس کارروائی کے آدھے گھنٹے کے بعد سی پی آئی لیڈر سوکمار ڈملے، چارول جوشی، ناصر الحق، مجید شیخ، ایس پی لیڈر راہل گائیکواڑ اور رحیم بھائی ٹائر والا کی قیادت میں سیکڑوں  طلبہ و نوجوانوں نے دوبارہ احتجاج شروع کیا جو شام ساڑھے ۵؍بجے تک پرامن طور پر جاری رہا۔ بعدازیں جب پولیس نے انہیں زبردستی ہٹانے کی کوشش کی تو مشتعل طلبہ نے دادر کوتوال گارڈن کے قریب سڑک بلاک کر دی جسے پولیس فورس  نے جلد ہی ختم کر ادیا  ۔ یہاں سےبھی کچھ طلبہ کوحراست میں لیا گیا۔ حکام نے ابھی تک حراست میں لئے گئے افراد کی شناخت کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی ہیں ۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی کارروائی کے دوران کچھ مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیںلیکن تادم تحریر زخمی یا حراست میں لئےگئے افراد کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر طلبہ پر لاٹھی چارج کی مذمت، این سی پی (شرد ) کا ریاست گیر احتجاج

احتجاج کی اجازت نہیں لی گئی تھی : پولیس

   پولیس کے ایک سینئر افسر کےمطابق منتظمین نے احتجاج کی اجازت نہیں لی تھی۔مظاہرین کو حراست میں لینےکی کارروائی مطلوبہ منظوری کے بغیر احتجاج کرنےکی وجہ سے کی گئی ہے۔صورتحال پر نظر رکھنے اور امن و امان قائم رکھنے کیلئے علاقے میں پولیس تعینات رہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK