• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ جنگ: ۲۰۲۴ء سے اب تک بھوک کی وجہ سے ۴۶۶ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں: وزارتِ صحت

Updated: October 17, 2026, 10:03 PM IST | Gaza

فلسطینی سرکاری ادارے اور انسانی حقوق کے گروپس کا الزام ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل بھوک کو فلسطینیوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل نے مارچ ۲۰۲۵ء میں سرحدی گزرگاہوں پر پابندیاں مزید سخت کر دیں، جس سے ہزاروں امدادی ٹرک پھنس کر رہ گئے۔ مئی ۲۰۲۵ء کے اواخر میں اس نے ۸۱ دنوں میں پہلی بار ۸۷ ٹرکوں کو داخل ہونے کی اجازت دی۔ اس کے بعد فروری ۲۰۲۶ء تک محدود بنیادوں پر امداد داخل ہوتی رہی، جب جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اس میں محدود اضافہ دیکھا گیا۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے طے شدہ امدادی ٹرکوں میں سے صرف ۳۴ فیصد کو ہی داخلے کی اجازت دی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ کی وزارتِ صحت نے جمعہ کے روز بتایا کہ ۲۰۲۴ء سے لے کر اب تک غذائی قلت اور فاقہ کشی کے باعث ۱۵۷ بچوں سمیت کم از کم ۴۶۶ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں کم از کم ۱۸۹ عمر رسیدہ افراد شامل تھے، جو کل اموات کا ۵ء۴۰ فیصد بنتا ہے۔ وزارت نے یہ اعداد و شمار عالمی یوم خوراک کے موقع پر جاری کئے، جو ہر سال ۱۶ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔

وزارت نے کہا کہ ۲۰۲۶ء کے اختتام تک ۱۴ لاکھ سے زائد افراد، یعنی آبادی کے تقریباً ۶۷ فیصد حصے کو بحرانی سطح کے غذائی عدم تحفظ یا اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے۔ وزارت نے بتایا کہ ”غزہ میں غذائی قلت اور بھوک کی شرح تباہ کن سطح پر پہنچ چکی ہے جو بچوں، بوڑھوں اور کمزور طبقات کی جانیں لے رہی ہے۔“ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ نے اگست ۲۰۲۵ء میں غزہ میں قحط کا اعلان کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطین ایکشن کی حمایت کا نتیجہ؛ سیلی رونی کی کتابیں اب برطانیہ میں فروخت نہیں ہوں گی

بچے اور مائیں متاثر

سال ۲۰۲۴ء سے اگست ۲۰۲۶ء کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شدید غذائی قلت کے ایک لاکھ ۵۸ ہزار سے زائد کیسز ریکارڈ کئے گئے۔ ان میں سے ۱۸ فیصد بچے جان لیوا شدید غذائی قلت کا شکار تھے، جبکہ ۲ء۱۲ فیصد بچے جسمانی نشوونما میں کمی (stunting) سے متاثر ہوئے۔ ۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان ۵ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات ۶ء۱۳ سے بڑھ کر ۴ء۳۳ فی ہزار زندہ پیدائش ہوگئی۔ وزارت کا اندازہ ہے کہ اپریل ۲۰۲۷ء تک ۷۴۲۰۰ بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہوگی۔

وزارت کے مطابق، محصور علاقے کی حاملہ خواتین میں خون کی کمی (انیمیا) کا تناسب جنگ سے پہلے ۴۱ فیصد تھا جو اب بڑھ کر ۲۰۲۶ء میں ۶۱ فیصد ہوگیا۔ ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں تقریباً ۴۰۰۰ اسقاطِ حمل (حمل کے ضیاع) کے واقعات ریکارڈ کئے گئے، جو گزشتہ ۶ ماہ کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ وزارت نے کہا کہ ”غزہ میں اب ہر تین میں سے ایک حمل کو انتہائی خطرناک (high-risk) کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو پر مقدمہ چلاکر اسے سزادینا چاہیے: نوبل امن انعام یافتہ نوی پلے

امداد پر پابندیاں

فلسطینی سرکاری ادارے اور انسانی حقوق کے گروپس کا الزام ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل بھوک کو فلسطینیوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل نے مارچ ۲۰۲۵ء میں سرحدی گزرگاہوں پر پابندیاں مزید سخت کر دیں، جس سے ہزاروں امدادی ٹرک پھنس کر رہ گئے۔ مئی ۲۰۲۵ء کے اواخر میں اس نے ۸۱ دنوں میں پہلی بار ۸۷ ٹرکوں کو داخل ہونے کی اجازت دی۔ اس کے بعد فروری ۲۰۲۶ء تک محدود بنیادوں پر امداد داخل ہوتی رہی، جب جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اس میں محدود اضافہ دیکھا گیا۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے طے شدہ امدادی ٹرکوں میں سے صرف ۳۴ فیصد کو ہی داخلے کی اجازت دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات پر زور، دنیا کے۲۰؍ فیصد بچے انتہائی غربت کا شکار

اقدامات کی اپیل

وزارت نے عالمی برادری سے اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”خوراک کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے جو جنگ کے دوران بھی ختم نہیں ہوتا۔“ اس نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور بوڑھوں کو ترجیح دیتے ہوئے خوراک، علاج معالجے کیلئے درکار سپلیمنٹس اور ادویات کے محفوظ، مسلسل اور بلا روک ٹوک داخلے کو یقینی بنائیں، اور خوراک کی مقامی پیداوار کی حمایت کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK