Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوگل جیمینائی، اسلاموفوبیا کا الزام: ’میں مسلم کیساتھ تنہا ہوں‘ کے جواب پر تنازع

Updated: August 22, 2026, 10:03 PM IST | Washington

گوگل کے مصنوعی ذہانت کے نظام جیمینائی (Gemini) پر اسلام مخالف تعصب کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تنازع اس وقت سامنے آیا جب صارفین نے دعویٰ کیا کہ ’’I’m alone with a Muslim‘‘ یعنی ’’میں ایک مسلمان کے ساتھ تنہا ہوں‘‘ لکھنے پر جیمینائی نے فوری طور پر صارف کو علاقہ چھوڑنے یا ۹۱۱؍ پر کال کرنے کا مشورہ دیا۔

Screenshot of Google Gemini`s before and after responses. Photo: INN
گوگل جیمینائی کے پہلے اور بعد کے جوابات کا اسکرین شاٹ۔ تصویر: آئی این این

گوگل کے اے آئی نظام جیمینائی کے ایک جواب نے مذہبی تعصب اور مصنوعی ذہانت میں ممکنہ اسلاموفوبیا کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور کارکنوں نے ایسے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن میں مبینہ طور پر ’’I’m alone with a Muslim‘‘ لکھنے پر جیمینائی نے صورتحال کو ممکنہ خطرے کے طور پر لیتے ہوئے صارف کو محفوظ مقام پر جانے یا ہنگامی صورت میں ۹۱۱؍ سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس جواب پر اعتراض کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ سوال میں کسی خطرے، دھمکی یا غیر معمولی صورتحال کا ذکر نہیں تھا؛ صرف ساتھ موجود شخص کی مذہبی شناخت بیان کی گئی تھی۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کا جواب ایک عام مسلمان شخص کے وجود کو غیر ضروری طور پر خطرے کے تصور سے جوڑ سکتا ہے۔
فلسطینی نژاد امریکی امام اور اسکالر عمر سلیمان نے بھی اس معاملے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے گوگل کے سابق سرچ نتائج سے متعلق تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کمپنی نے اسلام کے بارے میں اپنے ماضی کے تجربات سے سبق نہیں سیکھا۔ سلیمان کے مطابق اب اس کے اے آئی نظام میں بھی مسلمانوں کے بارے میں ایسا تاثر سامنے آ رہا ہے جسے اسلاموفوبک سمجھا جا سکتا ہے۔ سلیمان نے خاص طور پر ایک تقابلی مثال پیش کی۔ ان کے مطابق جب اسی طرز کے سوال میں ’’I am with an Israeli‘‘ لکھا گیا تو جواب میں مبینہ طور پر نہ حفاظت سے متعلق ہدایت دی گئی اور نہ ۹۱۱؍ سے رابطے کا مشورہ۔ یہی فرق ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ تھا۔

یہ بھی پڑھئے: یہ بھی ناکام ہوں گی: ایران کا ٹرمپ کی نئی اقتصادی پابندیوں پر ردعمل

جواب بعد میں بدل گیا
آن لائن تنقید کے بعد صارفین نے جیمینائی کے ایک نئے جواب کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے، جس میں کہا گیا کہ ’’Being alone with a Muslim person is no different than being alone with anyone else‘‘ یعنی کسی مسلمان شخص کے ساتھ اکیلے ہونا کسی بھی دوسرے شخص کے ساتھ اکیلے ہونے سے مختلف نہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تبدیلی گوگل کی جانب سے باقاعدہ اصلاح تھی، خودکار نظام میں تبدیلی کا نتیجہ تھی یا مختلف صارف، مقام، سیشن اور وقت کے باعث جواب مختلف آیا۔ گوگل کے اے آئی نتائج کے بارے میں آزادانہ جانچ سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک ہی سوال کے جوابات مختلف کوششوں میں بدل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ریکارڈ ’سپر ایل نینو‘ کا خطرہ، ۲۰۲۷ء میں دنیا کا گرم ترین سال بننے کا خدشہ

آزادانہ تجربات میں بھی مختلف نتائج
اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ بعض صارفین نے خود مختلف مذہبی اور نسلی شناختوں کے ساتھ یہی جملہ آزمایا۔ ایک آزاد ٹیسٹ میں مسلمان، عیسائی، سیاہ فام، ہسپانوی نژاد اور سفید فام افراد کے حوالے سے ایک جیسے سوالات کیے گئے۔ ٹیسٹ میں جوابات کے انداز میں فرق دیکھا گیا، تاہم خود محققین نے خبردار کیا کہ یہ ایک محدود نمونے کا تجربہ ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فرق کی وجہ لازماً کسی مخصوص مذہب کے خلاف ماڈل کی مستقل جانبداری ہے۔ ریڈٹ پر بھی متعدد صارفین نے اسی سوال کو مختلف انداز میں آزمایا اور متضاد نتائج رپورٹ کیے۔ بعض کو مسلمان شخص کے بارے میں مکمل طور پر معمول کا جواب ملا، جبکہ کچھ نے حفاظتی ہدایات بھی دیکھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کے ایسے نتائج میں سیشن، مقام، سوال کی ساخت، وقت اور نظام کے اندر موجود حفاظتی یا سرچ میکانزم کا کردار ہوسکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کا ریکارڈ اخراج، ’برین ڈرین‘ کا خطرہ بڑھ گیا

گوگل کے اے آئی پر تعصب کا سوال نیا نہیں
گوگل کے سرچ اور اے آئی نظام پر مذہب سے متعلق نتائج کے حوالے سے تنقید نئی نہیں ہے۔ ۲۰۱۷ء میں بھی مسلمانوں سے متعلق بعض گوگل سرچ نتائج پر شدید اعتراضات اٹھے تھے۔ اس وقت گوگل نے کہا تھا کہ وہ جارحانہ یا واضح طور پر گمراہ کن مواد کو کم کرنے کے لیے اپنے الگورتھم اور تشخیصی طریقوں میں تبدیلیاں کر رہا ہے۔ عمر سلیمان نے اس وقت بھی گوگل سے مطالبہ کیا تھا کہ اسلام پر تنقید اور اسلاموفوبک نفرت انگیز مواد کے درمیان فرق کیا جائے۔ سلیمان نے رواں سال بھی امریکہ میں اسلاموفوبیا میں اضافے کے حوالے سے بات کی ہے۔ اپریل ۲۰۲۶ء میں انہوں نے امریکی نشریاتی پروگرام Here & Now میں آن لائن اسلام مخالف مواد میں اضافے اور اس کے امریکی مسلم کمیونٹی پر اثرات پر گفتگو کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات: ہر۵۰؍ میں سے ایک بچہ ڈجیٹل شناخت کی چوری کا شکار

اے آئی کا تعصب آخر پیدا کہاں سے ہوتا ہے؟
ماہرین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک اے آئی نظام مختلف مذہبی شناختوں کے ساتھ بظاہر ایک جیسے سوالات پر مختلف ردعمل دے تو اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ زبان کے ماڈلز اور اے آئی سرچ نظام ویب مواد، تربیتی ڈیٹا، حفاظتی فلٹرز، سرچ رزلٹس اور دیگر نظاموں کے امتزاج سے جواب تیار کرتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک جواب کو دیکھ کر یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ تعصب تربیتی ڈیٹا میں ہے، سرچ کے نتائج میں، حفاظتی نظام میں یا جواب تیار کرنے کے کسی دوسرے مرحلے میں۔
فی الحال دستیاب شواہد سے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ گوگل کا پورا اے آئی نظام مستقل طور پر اسلاموفوبک ہے۔ لیکن ایک ہی نوعیت کے سوال پر مختلف مذہبی شناختوں کے ساتھ مختلف حفاظتی ردعمل سامنے آنے کا دعویٰ ضرور اس سوال کو زندہ رکھتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت مذہبی شناخت کو کس حد تک اثر انداز ہونے دینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK