• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی میں ہیڈفون کا بڑھتا استعمال، انسانی تعلقات اور ذہنی یکسوئی کیلئے خطرہ

Updated: October 24, 2026, 10:44 AM IST | New York

موسیقی سننے کیلئے ہیڈفون کا مسلسل استعمال نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کا معمول بنتا جا رہا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ عادت سماجی میل جول، ذہنی یکسوئی اور اردگرد کے ماحول سے آگاہی کو متاثر کر سکتی ہے۔ خاموشی اور تنہائی میں اپنے خیالات پر توجہ دینا ذہنی سکون اور انسانی تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

گزشتہ سال نومبر کے وسط تک اتیرا گلی(Atira Gali ) اپنے اسپاٹیفائی اکاؤنٹ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق۳۳؍ ہزار۵۰۰؍ منٹ موسیقی سن چکی تھیں۔ اس رپورٹ میں ان کی موسیقی سننے کی عادات کی تفصیلات درج تھیں۔ اتیرانے کہا، ’’میں ہیڈفون لگائے بغیر برتن بھی نہیں دھو سکتی، کیونکہ مجھے بوریت ہونے لگتی ہے۔ ‘‘نیویارک میں رہنے والی۲۴؍ سالہ اتیرا گلی نے بتایا کہ وہ تقریباً ہر وقت موسیقی یا پوڈکاسٹ سنتی رہتی ہیں۔ ان کے دن کا آغاز اشاعتی ادارے میں اپنی ملازمت پر جانےکیلئے صبح کے سفر سے ہوتا ہے۔ دورانِ کار، جب تک وہ کسی میٹنگ میں نہ ہوں یا ساتھیوں کے ساتھ گفتگو نہ کر رہی ہوں، ان کے کانوں میں ہیڈفون لگے رہتے ہیں۔ گھر واپسی کے سفر، رات کے معمول کے کاموں اور سونے کی تیاری کے دوران بھی وہ ہیڈفون استعمال کرتی ہیں۔ 
گلی کی طرح بہت سے نوجوانوں کو بھی اکثر کانوں میں ہیڈفون لگائے یا موبائل فون کے اسپیکر پر اپنی پسندیدہ موسیقی سنتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایڈیسن ریسرچ کی جانب سے مئی میں جاری کئے گئے ایک سروے کے مطابق، ۱۳؍ سے۳۴؍سال کی عمر کے افراد روزانہ اوسطاً ساڑھے چار گھنٹے کسی نہ کسی طرح کی آڈیو مواد سنتے ہیں، خواہ وہ پوڈکاسٹ ہو، موسیقی یا کوئی اور چیز۔ اسٹریمنگ سروس اسپاٹیفائی کے ایک ترجمان کے مطابق، یکم جنوری سے۲۵؍ نومبر۲۰۲۵ء کے درمیان دنیا بھر میں اسپاٹیفائی پر چلائی جانے والی موسیقی کا تقریباً ۵۶؍ فیصد حصہ جنریشن زی (Gen Z) سے تعلق رکھنے والے صارفین کی جانب سے سنا گیا۔ اگرچہ روزمرہ زندگی میں مسلسل ہیڈفون استعمال کرنا بظاہر بے ضرر عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن محققین کو تشویش ہے کہ اس کا حد سے زیادہ استعمال انسانوں کے درمیان بامعنی تعلقات قائم کرنے اور اپنے ذہن کو متوازن رکھنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کا الہان عمر پر شناختی دھوکہ دہی کا الزام ، استعفیٰ کا مطالبہ

کیا ہیڈفون آپ کو دوسروں سے دور کر رہے ہیں؟
زیادہ تر لوگوں کیلئے ہیڈفون کا استعمال ایک پختہ عادت بن چکا ہے، نہ کہ دوسروں کو جان بوجھ کر کوئی پیغام دینے کا ذریعہ۔ تاہم، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اِروائن کی انفارمیٹکس کی پروفیسر ڈاکٹر گلوریا مارک کے مطابق، ’’لوگ دوسروں سے خود کو الگ رکھنےکیلئے ہیڈفون استعمال کر رہے ہیں، چاہے وہ ایسا غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ ‘‘ یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن میں قائم غیر منافع بخش ادارے سینٹر فار ہیلتھی مائنڈز کے بانی اور ڈائریکٹر رچرڈ ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ مسلسل ہیڈفون لگائے رکھنے کی وجہ سے طلبہ سماجی میل جول کے بے شمار مواقع گنوا رہے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق، میڈیسن کیمپس میں گھومنے پھرنے والے تقریباً۹۰؍ فیصد طلبہ ہیڈفون لگائے رکھتے ہیں۔ ڈیوڈسن نے کہا، ’’دس سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ ‘‘
وہ ولیم جیمز اینڈ ویلاس ریسرچ پروفیسر آف سائیکالوجی اینڈ سائیکاٹری بھی ہیں۔ ان کے مطابق، ’’یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ایک بڑا موقع مختلف لوگوں سے ملنا اور ایسے افراد کو جاننا ہوتا ہے جن کے پس منظر آپ سے مختلف ہوں۔ اگر سب لوگ کانوں میں ہیڈفون لگائے گھومتے رہیں گے تو وہ ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کریں گے۔ ‘‘ڈیوڈسن نے کافی شاپس میں بھی یہی رجحان دیکھا ہے۔ ان کے بقول، لوگ اب فون نکال کر اس میں مصروف ہو جاتے ہیں اور شاذونادر ہی کسی جگہ کھڑے ہو کر انتظار کرتے ہیں۔ ان کیلئے کسی کے آنے تک خاموشی سے انتظار کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شاید کسی دوسرے منتظر شخص کو دیکھ کر مسکرا دینا یا کسی اجنبی سے چند باتیں کر لینا بھی اب معمول نہیں رہا۔ نیویارک میں رہنے والی۲۴؍ سالہ اینابیل فرینکلن نے حال ہی میں ۲۰۰۰ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کے ایک ٹیلی ویژن شو کی قسط دیکھی۔ وہ ایک منظر دیکھ کر حیران رہ گئیں، جس میں مرکزی کردار ایک بینچ پر کسی کا انتظار کرتے ہوئے بیٹھی تھی۔ وہ نہ موسیقی سن رہی تھی اور نہ ہی موبائل فون دیکھ رہی تھی، بلکہ اپنے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا مزید حملوں کا اشارہ، ایران کی امریکی ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

فرینکلن نے کہا، ’’آج کے دور میں کوئی ایسا نہیں کرتا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے آخری مرتبہ کسی کو اپنی مرضی سے خاموشی میں کھوئے ہوئے، تنہا بیٹھ کر اپنے خیالات میں گم دیکھا ہو۔ ‘‘فرینکلن نے بتایا کہ وہ صبح بیدار ہوتے ہی موسیقی سننا شروع کر دیتی ہیں اور ان کا اندازہ ہے کہ دن کے تقریباً۱۲؍ گھنٹے موسیقی یا پوڈکاسٹ سنتے ہوئے گزرتے ہیں۔ ہیڈفون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’میں ان کی محتاج نہیں ہوں، بس انہیں لگائے رکھنا پسند کرتی ہوں۔ میرے لئے یہ زیادہ تر ایک عادت ہے، جو میرے روزمرہ معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ ‘‘تاہم، گلوریا مارک اور رچرڈ ڈیوڈسن جیسے ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ہیڈفون کا ایسا استعمال، جو بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے، انسانوں پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے۔ 
روزمرہ سماجی میل جول کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیڈفون کا مسلسل استعمال تنہائی کے احساس میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس سے امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک شخص متاثر ہوتا ہے۔ ڈیوڈسن کے مطابق، اجنبی لوگوں کے ساتھ مختصر اور اتفاقی ملاقاتیں بھی انسان کی ذہنی و جذباتی کیفیت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن ہیڈفون ان اہم سماجی روابط میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’روزمرہ زندگی میں دوسروں کے ساتھ قائم ہونے والے یہ سادہ تعلقات، خصوصاً اجنبی افراد کے ساتھ، ہماری فلاح و بہبود کیلئے بہت اہم ہو سکتے ہیں۔ یہ مواقع عام ہیں، آسانی سے دستیاب ہیں اور ہماری ذہنی و جذباتی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو اپنی روزمرہ زندگی میں موجود ایسے امکانات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: آنگ سان سوچی کی پانچ سال سے زائد عرصے بعد بیٹے سے پہلی بار فون پر گفتگو

خاموشی کی اہمیت
ہیڈفون کا مسلسل استعمال انسان کی اس صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے جس کے ذریعے وہ ذہنی یکسوئی حاصل کرتا اور اپنے خیالات کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارتا ہے۔ گلوریا مارک نے کہا، ’’میرے خیال میں لوگ اب خاموشی کے ساتھ بیٹھنے، اپنے خیالات کو آزادانہ طور پر بھٹکنے دینے یا بوریت کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ آج ہر مسئلے کا حل ہماری انگلیوں کی پہنچ میں موجود ہے، جو فوراً اس خلا کو پُر کر سکتا ہے۔ ‘‘تاہم، مارک کے مطابق، جس کیفیت کو ہم ذہنی خلا یا بوریت سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت ایک بامعنی اور ذہنی طور پر فائدہ مند تجربہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہیڈفون یا دیگر توجہ بھٹکانے والی چیزوں سے دور رہنے سے انسان کو موجودہ لمحے میں پوری طرح متوجہ رہنے اور اپنے اردگرد کے ماحول کا بہتر شعور حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی کانگریس ویمن الہان عمر نے اپنے بھائی سے مبینہ شادی کے الزام پرخاموشی توڑی

ڈیوڈسن نے کہا، ’’شعور کی صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم جان بوجھ کر اپنی توجہ کسی چیز پر مرکوز رکھیں، بغیر اس کے کہ خیالات کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں کھو جائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ اس کام پر توجہ دے رہے تھے جو آپ کر رہے تھے، یا آپ کا ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا؟‘‘ڈیوڈسن کے مطابق، موسیقی سننا یا موبائل فون پر مسلسل اسکرول کرنا ذہن میں آنے والے غیر مطلوب خیالات، جذبات اور بار بار ایک ہی بات پر سوچتے رہنے کے رجحان سے عارضی طور پر بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ طریقے وقتی طور پر مؤثر ہوتے ہیں، لیکن ان کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔ جیسے ہی موسیقی بند ہوتی ہے یا سرگرمی ختم ہوتی ہے، ہمارا بے چین ذہن دوبارہ پوری شدت سے متحرک ہو جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک طرح کا جھوٹا وعدہ ہے۔ ‘‘ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ ہیڈفون یا اسی طرح کی دیگر توجہ ہٹانے والی سرگرمیوں سے کچھ وقت کیلئے دور رہنا انسان کو اپنے خیالات کے اس بے قابو بہاؤ سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے جو روزمرہ کے کاموں میں خلل ڈالتا ہے۔ ۲۰۱۰ء میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، بالغ افراد اپنی بیداری کے دوران روزانہ تقریباً۴۷؍ فیصد وقت ایسے گزارتے ہیں جب ان کے خیالات اس سرگرمی پر مرکوز نہیں ہوتے جو وہ حقیقت میں انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ڈیوڈسن کو یقین ہے کہ اس کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہوئی ہے۔ ان کے بقول، ’’اوسطاً ایک بالغ شخص اس کام پر توجہ نہیں دے رہا ہوتا جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہر تیسرا طالب علم تعلیم کے بعد بیرونِ ملک جانے کا خواہشمند

ہیڈفون کے بغیر رہنے کا تجربہ
اتیرا گلی بھی اپنے ہیڈفون کے مسلسل استعمال کے اثرات جاننے کیلئےمتجسس تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی چیز سنتے رہنے سے کام کی بوریت کم ہو جاتی ہے اور اسے انجام دینا نسبتاً آسان محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً دفتر جانے کیلئے بور کرنے والا سفر، ناپسندیدہ گھریلو کام یا حتیٰ کہ دفتری ذمہ داریاں بھی موسیقی کے ساتھ بہتر محسوس ہوتی ہیں۔ تاہم، انہیں اس بات کی تشویش بھی تھی کہ شاید موسیقی سننے کی عادت انہیں اس کے بغیر کام کرنے کی صلاحیت سے محروم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یہ فکر بھی ہے کہ کہیں اس عادت کی وجہ سے میری یہ صلاحیت تو متاثر نہیں ہو رہی کہ میں موسیقی کے بغیر بھی یہ سب کام کر سکوں۔ ‘‘
چند ہفتے قبل گلی نے فیصلہ کیا کہ وہ دفتر جاتے وقت موسیقی نہیں سنیں گی۔ وہ یہ جاننا چاہتی تھیں کہ آیا اس طرح وہ اپنے اردگرد کی دنیا کو زیادہ بہتر انداز میں محسوس کر سکیں گی اور دن بھر کے تجربات میں زیادہ ذہنی طور پر موجود رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ آیا اس تجربے سے انہیں ’’اپنے اردگرد کی دنیا میں زیادہ حاضر رہنے اور یوں اپنے دن کے ہر لمحے کو زیادہ شعوری طور پر محسوس کرنے‘‘ میں مدد ملتی ہے یا نہیں۔ اس تجربے کے صرف دو دن بعد ہی انہیں اپنے محلے میں کھلنے والی نئی دکانوں کے چار ایسے بورڈ نظر آئے جنہیں انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ گلی نے کہا، ’’میں نے ان پر پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا، حالانکہ میں روزانہ بالکل اسی راستے سے گزرتی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ جب میرے کانوں میں ہیڈفون ہوتے ہیں تو میں سر جھکائے چلتی رہتی ہوں اور اردگرد کی چیزوں پر توجہ نہیں دیتی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK