Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کا بنگلہ دیش سے غیر قانونی تارکین کی تصدیق کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ

Updated: May 08, 2026, 11:07 AM IST | New Delhi

ہندوستان نے بنگلہ دیش سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی شہریت کی تصدیق کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔ دوسری جانب ڈھاکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ہندوستان سرحد کے ذریعے لوگوں کو زبردستی بنگلہ دیش میں دھکیل رہا ہے، جس پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

Randhir Jaiswal. Photo: INN
رندھیر جیسوال۔ تصویر: آئی این این

 ہندوستان نے جمعرات کو بنگلہ دیش سے کہا کہ وہ شہریت کی تصدیق کے عمل کو تیز کرے تاکہ ’’غیر قانونی تارکینِ وطن‘‘ کی واپسی کا عمل آسانی سے مکمل ہو سکے۔ ڈھاکہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر نئی دہلی آسام اور بنگال کی سرحدوں کے ذریعے مبینہ بنگلہ دیشی دراندازوں کو ’’زبردستی دھکیلنے‘‘ کی کوشش کرتا ہے تو وہ مناسب کارروائی کرے گا۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہ اگر بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے دوران’’پش اِن‘‘ کیا گیا تو ڈھاکہ کارروائی کرے گا، ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا:’’ان تبصروں کو غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی ہندوستان سے واپسی کے بنیادی مسئلے کے تناظر میں دیکھا جانا چا ہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’الیکشن کمشنر کا آزاد اور خود مختار ہونا ضروری‘‘

جیسوال نے کہا کہ اس عمل کیلئے بنگلہ دیش کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’بنگلہ دیش کے پاس شہریت کی تصدیق کے۲؍ ہزار ۸۶۲؍ سے زائد کیس زیر التوا ہیں، جن میں سے بعض پانچ برس سے بھی زیادہ عرصے سے رکے ہوئے ہیں۔ ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہندوستان میں موجود تمام غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کو ہمارے قوانین، طریقہ کار اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق واپس بھیجا جائے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش شہریت کی تصدیق کے عمل کو تیز کرے تاکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی آسانی سے ہو سکے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وِجے کو حکومت سازی کی دعوت نہ دینے پر برہمی

بدھ کو بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بنگلہ دیش سنگباد سنگستھا نے خلیل الرحمان کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے لوگوں کو بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی اطلاعات ’’نامناسب‘‘ ہیں کیونکہ یہ کام باقاعدہ سفارتی اور قانونی ذرائع سے نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا:’’ہم ہر کیس کا جائزہ لے رہے ہیں، اور ہم صرف انہی افراد کو قبول کریں گے جن کے بارے میں ثبوت موجود ہو کہ وہ بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ ‘‘ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے بدھ کو’’۶۶؍ ہندوستانی شہریوں کو گرفتار کیا جو ماتیرانگا اور پنچھری کے مختلف سرحدی مقامات سے غیر قانونی طور پر کھاگڑاچھڑی میں داخل ہوئے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ناگپور ریت مافیا: نائب تحصیلدار جے سی بی پر لٹکا رہا اور ڈرائیور اسے دوڑاتا رہا

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان میں سے۲۷؍ گجرات کے بنگالی بولنے والے رہائشی تھے، جو ایک مقامی گھر میں مقیم پائے گئے۔ ان افراد نے دعویٰ کیا کہ انہیں گجرات سے ہوائی جہاز کے ذریعے لایا گیا اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں نے سرحد پار کرانے میں مدد دی۔ گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش نے ڈھاکہ میں تعینات ہندوستانی قائم مقام ہائی کمشنر پون بادھے کو طلب کیا تھا۔ یہ اقدام آسام کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسواشرما کے دوطرفہ تعلقات سے متعلق ’’توہین آمیز‘‘ بیانات کے بعد کیا گیا۔ شرما کے گزشتہ ہفتے کے آخر میں دیئےگئے دو بیانات ایک اے بی پی نیوز کو انٹرویو میں اور دوسرا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کو ڈھاکہ نے’’توہین آمیز‘‘قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اسپیم کالز سے متاثر ممالک کی فہرست میں پانچویں مقام پر، ۲۰۲۵ء میں ۶۶؍ فیصد کالز اسپیم نکلے

ڈیلی اسٹار کے مطابق، انہوں نے۱۵؍ اپریل کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا:’’میں ہر صبح خدا سے دعا کرتا ہوں کہ یونس کے دور جیسی صورتحال برقرار رہے اور تعلقات مزید بہتر نہ ہوں۔ ‘‘۲۵؍ اپریل کو ایکس پر اپنی ہندی اور انگریزی پوسٹ میں شرما نے لکھا:’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ ہم آسام سے دراندازوں کو نکالتے وقت اس بات کو یاد رکھتے ہیں، کیونکہ وہ خود نہیں جاتے۔ مثال کے طور پر یہ۲۰؍ غیر قانونی بنگلہ دیشی، جنہیں گزشتہ رات واپس دھکیلا گیا۔ آسام لڑے گا، اور پش بیک جاری رہے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK