Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین۱۷؍ جولائی کو پٹری پر دوڑے گی، جانئے۶؍ اہم باتیں

Updated: July 13, 2026, 9:52 PM IST | New Delhi

انڈین ریلویز نے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی متوقع طور پر۱۷؍ جولائی کو اس جدید ٹرین کا افتتاح کریں گے، جو جند اور سونی پت کے درمیان چلائی جائے گی۔

The inauguration of this hydrogen train is expected on July 17. Photo: X
اس ہائیڈروجن ٹرین کا افتتاح ۱۷؍ جولائی کو متوقع ہے۔ تصویر: ایکس

ہندوستان کی طویل عرصے سے متوقع ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین جلد ہی خدمات کیلئے تیار ہے۔ چنئی کے انٹیگرل کوچ فیکٹری (ICF) میں تیار کی گئی اس ٹرین کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے۔ ہائیڈروجن سے چلنے والی اس ٹرین کے متعدد آزمائشی تجربات ریسرچ ڈیزائنز اینڈ اسٹینڈرڈز آرگنائزیشن (RDSO) نے کامیابی سے مکمل کئے ہیں۔ مئی۲۰۲۶ءمیں ریلوے بورڈ نے ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو چلانے کی منظوری دی تھی۔ ۲۲؍ مئی۲۰۲۶ء کو جاری کردہ ایک خط میں آر ڈی ایس او اور شمالی ریلوے کو اس ٹرین کے آغاز کی منظوری سے آگاہ کیا گیا۔ 
انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے شمالی ریلوے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کے۱۷؍ جولائی۲۰۲۶ء کو شروع ہونے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق، ’’فی الحال ٹرین کے۱۷؍جولائی کو آغاز کا منصوبہ ہے اور اس کیلئےتیاریاں جاری ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: گیان واپی، متھرا، سنبھل تنازعات میں ہندو اور مسلم فریقین نے سپریم کورٹ کی تصفیے کی تجویز مسترد کردی

ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کے بارے میں ۶؍ اہم باتیں 
(۱)جند-سونی پت روٹ پر چلے گی
ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین ہریانہ کے جند اور سونی پت کے درمیان۸۹؍ کلومیٹر طویل روٹ پر چلائی جائے گی، جو شمالی ریلوے کے دہلی ڈویژن کے تحت آتا ہے۔ یہ ٹرین اپنے سفر کے دوران۱۲؍ اسٹیشنوں پر رکے گی۔ ان اسٹیشنوں کے نام درج ذیل ہیں :
جند سٹی (Jind City)
پانڈو پنڈارا ( Pandu Pindara)
للت کھیڑا (Lalit Khera)
بھمبیوا (Bhambeva)
ایشاپور کھیری (Ishapur Kheri)
بوٹانہ (Butana)
کھنڈرائی (Khandrai)
گوہانہ (Gohana)
رابھرا (Rabhra)
لاتھ (Lath)
موہانہ (ہریانہ)(Mohana Haryana)
بروسنی (Barwasni)
ٹرین کے نمبر 74010/74009 ہوں گے

یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر کےریاستی درجہ کی بحالی کیلئے عمر عبداللہ کا ’ دہلی چلو‘تحریک کا اعلان

(۲)زیادہ سے زیادہ رفتار ۷۵؍کلومیٹر فی گھنٹہ
یہ ہائیڈروجن ٹرین۷۵؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے چلے گی۔ ۱۰؍ کوچوں پر مشتمل اس ٹرین میں دو ڈرائیونگ پاور کاریں (DPCs) ہوں گی، جن میں ہر ایک کی طاقت ۱۲۰۰؍کلوواٹ ہوگی۔ مجموعی طاقت۲۴۰۰؍ کلوواٹ ہوگی۔ اس کے علاوہ آٹھ مسافر کوچ شامل ہوں گے۔ اس کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دنیا کی سب سے طویل ہائیڈروجن ٹرین سیٹ اور براڈ گیج پر چلنے والی دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین بن جائے گی۔ 
(۳) ڈیزل DEMU سے ہائیڈروجن فیول سیل ٹرین میں تبدیلی
جند-سونی پت ہائیڈروجن ٹرین ہائیڈروجن فیول سے چلائی جائے گی۔ اس میں ۱۲۰۰؍ کلوواٹ کا ہائیڈروجن فیول سیل پروپلشن سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو بجلی پیدا کرکے ٹرین کو چلائے گا۔ یہ ٹرین دراصل ڈیزل الیکٹرک ملٹی پل یونٹ (DEMU) کو جدید ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی میں تبدیل کرکے تیار کی گئی ہے۔ ریلوے کے مطابق ’’ہائیڈروجن ایک اعلیٰ توانائی رکھنے والا ایندھن ہے، جس کی توانائی کی کثافت۱۲۰؍ میگا جول فی کلوگرام ہے، جبکہ ڈیزل کی۴۳؍ میگا جول فی کلوگرام ہوتی ہے۔ اس کی دیکھ بھال نسبتاً کم ہے اور اس سے کاربن اخراج بھی محدود رہتا ہے۔ اس ہائبرڈ نظام میں بنیادی توانائی کا ذریعہ پروٹون ایکسچینج میمبرین فیول سیل (PEMFC) ہوگا، جبکہ اضافی اور زیادہ توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بیٹری بینک استعمال کیا جائے گا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی کے دونوں گروہوں نے الیکشن کمیشن میں جوابات جمع کرائے

(۴) صرف پانی کی بھاپ خارج ہوگی
وزارتِ ریلوے کے مطابق ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی میں ہائیڈروجن کے کیمیائی عمل سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں صرف پانی کی بھاپ خارج ہوتی ہے، اس لئے یہ روایتی ڈیزل یا دیگر فوسل فیول سے چلنے والی ٹرینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ماحول دوست ہے۔ 
(۵) ری فیولنگ کا جدید نظام
ٹرین میں ہائیڈروجن بھرنے کیلئے جند (ہریانہ) میں خصوصی ہائیڈروجن ذخیرہ اور ری فیولنگ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز کو پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسوز سیفٹی آرگنائزیشن (PESO) سے کمپریسڈ ہائیڈروجن گیس ذخیرہ کرنے اور فراہم کرنے کا لائسنس حاصل ہو چکا ہے۔ ریلوے کے مطابق:ہائیڈروجن کمپریشن سسٹم نصب کیا گیا ہے، تکنیکی معاونت اور ضروری اسپیئر پارٹس کا انتظام موجود ہے، بیک اپ کمپریسر بھی فراہم کیا جا رہا ہے اورہائیڈروجن لیک ڈیٹیکٹر، فلیم ڈیٹیکٹر اور دیگر حفاظتی سینسرز کی باقاعدہ جانچ اور صفائی کی جائے گی تاکہ محفوظ آپریشن یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: موشی کچرا ڈپوحادثہ، ملبے سے مزید۷؍ لاشیں برآمد

(۶) ہندوستان بھی ہائیڈروجن ٹرین چلانے والے ممالک میں شامل
اس ٹرین کے آغاز کے بعد ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جو ماحول دوست ریلوے نظام کیلئے ہائیڈروجن ٹرینوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں جرمنی، جاپان، چین اورامریکہ شامل ہیں۔ حال ہی میں سوئزرلینڈ نے بھی ایک ہائیڈروجن ٹرین متعارف کرائی، تاہم، وہ نارو گیج (NG) ریلوے نیٹ ورک کیلئے تیار کی گئی ہے، جبکہ ہندوستان کی ٹرین براڈ گیج کیلئے تیار کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK