ہندوستانی وزارت داخلہ نے میں غیر ملکی شہریوں کے لیے پاسپورٹ، ویزا قوانین میں نرمی کر دی، تازہ ترین ترمیم نیپال، بھوٹان اور پاکستان کے شہریوں کے درمیا ن سفر اور شناختی پروٹوکول میں آسانیاں پیدا کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 6:28 PM IST | New Delhi
ہندوستانی وزارت داخلہ نے میں غیر ملکی شہریوں کے لیے پاسپورٹ، ویزا قوانین میں نرمی کر دی، تازہ ترین ترمیم نیپال، بھوٹان اور پاکستان کے شہریوں کے درمیا ن سفر اور شناختی پروٹوکول میں آسانیاں پیدا کرتی ہے۔
وزارت داخلہ نے ۲۰۲۵ءکے امیگریشن اینڈ فارینرز ایگزیمپشن آرڈر میں ترمیم کرتے ہوئے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی چھ غیر مسلم مذہبی برادریوں کے افراد کیلئے ہندوستان میں قیام سے متعلق نئے ضوابط نافذ کئےہیں۔ ترمیم کے مطابق، ان برادریوں سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو مذہبی ظلم و ستم کا حوالہ دیتے ہوئے۳۱؍ دسمبر۲۰۲۴ء تک بغیر قانونی سفری دستاویزات کے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے، انہیں ملک میں مزید قیام کیلئے ’’مناسب ویزا‘‘ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ بدھ کو ان نئے ضوابط کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ جمعرات کو انہیں باضابطہ طور پر شائع کیا گیا۔ یہ قواعد ان افراد پر بھی لاگو ہوں گے جن کی سفری دستاویزات کی مدت ختم ہوچکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ’کنگ‘ کے گانے میں دپیکا کے زعفرانی لباس پہننے پر بی جے پی رکن اسمبلی معترض
ان قواعد کے تحت افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت کے پیروکاروں، عیسائیوں، جین مت کے ماننے والوں اور پارسیوں کو ہندوستان میں داخل ہونے اور قیام کرنے کیلئے درست پاسپورٹ یا ویزا کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، نئی ترمیم میں بغیر درست پاسپورٹ اور ویزا کے بھارت میں داخلے کی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ ترمیم۲۰۱۹ء کے متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس قانون کا مقصد افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی چھ مذہبی اقلیتوں، یعنی مسلمانوں کے علاوہ دیگر برادریوں کے پناہ گزینوں کو تیزی سے ہندوستانی شہریت فراہم کرنا ہے۔ اس کیلئے شرط ہے کہ متعلقہ افراد کم از کم چھ سال ہندوستان میں مقیم رہے ہوں اور۳۱؍ دسمبر۲۰۱۴ء تک ملک میں داخل ہوچکے ہوں۔ مرکزی حکومت نے مارچ۲۰۲۴ء میں اس قانون کے نفاذ کے قواعد جاری کئے تھے۔ بدھ کو کی گئی اس ترمیم میں بھارتی، بھوٹانی اور نیپالی شہریوں کے سفر سے متعلق کئی دیگر دفعات میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، جبکہ تبتی پناہ گزینوں کو دی گئی چھوٹ کی مختلف اقسام کو بھی ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں عبد السید کی کامیابی کے حوالے سے اویسی کے بیان پر سیاسی بحث تیز
بعض پاکستانی شہریوں کیلئے ضوابط میں نرمی
نئی ترمیم میں طویل عرصے سے ہندوستان میں مقیم بعض افراد کو بھی راحت فراہم کی گئی ہے، جنہیں اپنے غیر ملکی پاسپورٹ کی تجدید میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں وہ پاکستانی شہری شامل ہیں جو۳۱؍ دسمبر۲۰۰۹ء سے پہلے درست پاسپورٹ پر مستقل طور پر ہندوستان میں رہنے کے ارادے سے داخل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ تقسیمِ ہند کے دور کے بعض ایسے مہاجرین بھی شامل ہیں جو پاکستان سے واپس آکر شرائط کے تحت کیرالا میں آباد ہوئے، نیز ہند نژاد وہ افراد بھی اس زمرے میں شامل ہیں جنہوں نے ملائیشیا یا سنگاپور کی شہریت حاصل کرلی ہے، لیکن اب اپنے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کروا پارہے ہیں۔ ترمیم شدہ قواعد کے مطابق، ان زمروں میں شامل افراد کو بھی ہندوستان میں اپنا قیام جاری رکھنےکیلئے ویزا حاصل کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: اشتعال انگیزی پر پریانک کھرگے کی بی جےپی لیڈروں کو جیل بھیجنے کی دھمکی
نیپال اور بھوٹان سے آگے سفر کیلئے نئے ضوابط
ترمیم میں ’’ویزا مینوئل‘‘ کی تعریف بھی شامل کی گئی ہے۔ اس سے مراد مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ وہ دستاویز ہے جس میں ویزا، امیگریشن اور ان سے متعلق دیگر معاملات کے بارے میں ہدایات درج ہوتی ہیں۔ نئے قواعد کے مطابق، نیپال یا بھوٹان جانے والے ہندوستانی شہریوں اور ہندوستان میں داخل ہونے یا یہاں سے روانہ ہونے والے نیپالی اور بھوٹانی شہریوں کو امیگریشن حکام کے سامنے ویزا مینوئل میں متعین کردہ شناختی دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ ہندوستانی شہریوں کو بھوٹان اور نیپال جانے کیلئے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، اگر کوئی ہندوستانی شہری ہندوستان-نیپال یا ہندوستان-بھوٹان سرحد کے راستے کسی تیسرے ملک جانا چاہتا ہے تو اسے اپنا پاسپورٹ پیش کرنا ہوگا۔
اسی طرح بھوٹانی اور نیپالی شہریوں کو ہندوستان آنے کیلئے بھی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، اگر وہ چین، مکاؤ، ہانگ کانگ یا پاکستان سے سفر کرتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہوں، وہاں سے روانہ ہوں یا ہندوستان کے راستے کسی دوسرے ملک جائیں تو انہیں پاسپورٹ اور ویزا دکھانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: کیرالا، کوچی: ۷؍نومبرکو سی جے پی کا دوبارہ ’اینٹی اس آئی آر‘ احتجاج کا اعلان
تبتی پناہ گزینوں اور فوجی اہلکاروں کیلئے چھوٹ
وہ تبتی شہری جو ۱۹۵۹ءسے۳۰؍ مئی۲۰۰۳ء کے درمیان کھٹمنڈو میں ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ اجازت ناموں پر ہندوستان آئے تھے، یا بعد میں ہندوستان-نیپال سرحد پر مقررہ امیگریشن مراکز کے ذریعے خصوصی اجازت نامے حاصل کرکے داخل ہوئے تھے، انہیں پاسپورٹ اور ویزا کی شرط سے بدستور مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ تاہم، انہیں متعلقہ حکام سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ پاسپورٹ اور ویزا کی شرط سے چھوٹ میں ہندوستانی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں، جو سرکاری ڈیوٹی پر ملک میں داخل ہوتے یا باہر جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ سرکاری ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے اہل خانہ کو بھی یہ چھوٹ حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ مرمت کیلئے ہندوستان آنے والے جنگی جہازوں یا سرکاری بحری جہازوں پر سوار غیر ملکی فوجی اہلکار بھی اس زمرے میں شامل ہیں۔ ۹؍ جنوری ۲۰۱۵ءتک ہندوستان میں پناہ لینے والے رجسٹرڈ سری لنکن تمل شہریوں کو بھی پاسپورٹ اور ویزا کی شرط سے بدستور مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔