Updated: July 08, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
میٹا نے اپنا اے آئی امیج جنریشن ماڈل ”میوز امیج“ لانچ کیا ہے جس کا استعمال کرکے اب کوئی بھی شخص، کسی بھی پبلک انسٹاگرام اکاؤنٹ کا یوزر نیم اے آئی پرامپٹ میں لکھ کر اس شخص کے چہرے کی ایک نئی تصویر تیار کر سکتا ہے۔ یہ کام اکاؤنٹ ہولڈر کے علم، اجازت یا اطلاع کے بغیر کیا جاسکتا ہے۔ انسٹاگرام کے اس نئے فیچر کے سامنے آنے کے بعد پرائیویسی سے جڑے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا (Meta) نے ۷ جولائی کو اپنا اے آئی امیج جنریشن ماڈل ”میوز امیج“ (Muse Image) لانچ کیا ہے، جسے براہِ راست میٹا اے آئی (Meta AI)، انسٹاگرام اور وہاٹس ایپ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس فیچر کی ایک انتہائی اہم تفصیل کے بارے میں صارفین کا جاننا بے حد ضروری ہے جسے لانچ کے اعلان میں نمایاں نہیں کیا گیا تھا: اس امیج جنریشن ٹول کے ذریعے اب کوئی بھی شخص کسی پبلک انسٹاگرام اکاؤنٹ کا یوزر نیم اے آئی پرامپٹ میں لکھ کر اس شخص کے چہرے کی ایک نئی تصویر تیار کر سکتا ہے۔ یہ کام اکاؤنٹ ہولڈر کے علم، اجازت یا اطلاع کے بغیر کیا جاسکتا ہے۔ انسٹاگرام کے اس نئے فیچر کے سامنے آنے کے بعد پرائیویسی سے جڑے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کی دستخط کردہ چمڑے کی جیکٹ نیلامی کیلئے پیش
انسٹاگرام کا امیج جنریشن فیچر کیسے کام کرتا ہے؟
”میوز امیج“ کے ذریعے کسی کی بھی تصویر بنانے کا طریقۂ کار کافی آسان ہے۔ ایک صارف میٹا کے اے آئی امیج جنریٹر میں ایک پرامپٹ لکھتا ہے اور اس میں کسی بھی پبلک انسٹاگرام اکاؤنٹ کا یوزر نیم شامل کر دیتا ہے۔ میٹا کا سسٹم خود کار طریقے سے اس پروفائل سے تصاویر نکالتا ہے اور اس شخص کی شباہت پر مبنی ایک نئی اے آئی تصویر بنانے کیلئے انہیں بصری حوالے (visual references) کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس عمل میں اکاؤنٹ کے مالک کو کوئی نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوتا۔ اس میں منظوری کا کوئی مرحلہ شامل نہیں ہے اور نہ ہی متاثرہ صارف کی رضامندی مانگی جاتی ہے۔
میٹا کے ہیلپ سینٹر نے اس ڈیفالٹ (پہلے سے طے شدہ) سیٹنگ کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے: ”اگر آپ کا اکاؤنٹ پبلک ہے اور ڈیفالٹ سیٹنگز پر ہے، تو لوگ میٹا پر اے آئی فیچرز کا استعمال کرتے ہوئے آپ کے انسٹاگرام مواد سے نیا مواد تیار کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔“ کمپنی صارفین کو اس تبدیلی سے آگاہ کرنے کیلئے کوئی پش نوٹیفکیشن نہیں بھیجے گی۔ تمام پبلک اکاؤنٹس کو خود کار طریقے سے اس فیچر میں شامل (opted in) کر دیا گیا ہے اور اس سے باہر نکلنے (opt out) کا پورا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بابائے انٹرنیٹ وِنٹ سرف ریٹائر، اے آئی کے مستقبل پر اہم انتباہ جاری
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ میٹا نے اپنے سپورٹ دستاویزات میں لکھا ہے: ”میٹا پر اے آئی فیچرز کے ذریعے تیار کئے گئے مواد کے بارے میں آپ کو مطلع نہیں کیا جائے گا۔“ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی شخص ابھی آپ کے چہرے کی درجنوں اے آئی تصاویر بنا کر شیئر کر سکتا ہے اور آپ کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہوگا۔
اس فیچر کو کیسے بند کریں؟
اپنے موبائل میں انسٹاگرام ایپ کھولیں، اپنے پروفائل پر جائیں، اوپر دائیں جانب موجود تین افقی لکیروں (تھری لائنز) پر ٹیپ کریں، پھر Settings کھولیں، وہاں Sharing and Reuse تلاش کریں اور پھر "Allow people to use your content on Instagram and with AI features on Meta" کے تحت Posts اور Reels دونوں آپشنز کو بند یا آف (toggle off) کر دیں۔ ایک اہم بات ذہن میں رکھیں: اس فیچر کو بند کرنے سے وہ تصاویر حذف نہیں ہوں گی جو آپ کی سیٹنگ تبدیل کرنے سے پہلے آپ کی شباہت کا استعمال کرتے ہوئے بنائی جا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی گاڑیوں کےکوالیٹی چیک میں بری طرح ناکام، فورڈ نے ۳۰۰؍ تجربہ کار انجینئروں کو دوبارہ ملازمت دی
میٹا کا تمام پبلک اکاؤنٹس کو پہلے سے اس فیچر کا حصہ بنانے کا فیصلہ، بجائے اس کے کہ ان سے پہلے اجازت لی جاتی، سوچا سمجھا ہے۔ پہلے اجازت لینے کی صورت میں ڈیٹا سیٹ چھوٹا رہ جاتا؛ جبکہ پہلے سے شامل رکھنے کی سیٹنگ (opt-out defaults) دستیاب چہروں کے نمبر کو زیادہ سے زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ کمپنی اس وقت نوعمروں کی ذہنی صحت سے متعلق ایک الگ کیس میں ۴ء۱ کھرب ڈالر کے جرمانے کا سامنا کر رہی ہے، اس کے باوجود اس نے یہ فیچر لانچ کیا ہے جو نوعمروں سمیت تمام صارفین کی پرائیویسی کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔