میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس سامان کو نیلام کرنے کی منظوری دی ہے،جس گودام میں یہ قیمتی سامان رکھا گیا ہے وہاں دیکھ بھال کا فقدان ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 12:23 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس سامان کو نیلام کرنے کی منظوری دی ہے،جس گودام میں یہ قیمتی سامان رکھا گیا ہے وہاں دیکھ بھال کا فقدان ہے۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی جانب سے کورونا وبا کے دوران ہنگامی بنیادوں پر خریدا گیا کروڑوں روپے مالیت کا طبی سامان آج بے توجہی اور بدانتظامی کا شکار ہو کر ضائع ہو رہا ہے۔ طویل عرصے سے گوداموں میں پڑے رہنے کے باعث اس سامان کا ایک بڑا حصہ اپنی میعاد مکمل کر چکا ہے جس کے بعد اب میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس سامان کو نیلام کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چلتی لوکل ٹرین میں نوجوان کےقتل کا ملزم۳۰؍ جون تک پولیس تحویل میں
عیاں رہے کہ کورونا کی ہنگامی صورتحال کے دوران انتظامی راج کے تحت سابق میونسپل کمشنر کی نگرانی میں شہر بھر میں کووڈ مراکز قائم کئے گئے تھے جن کے لئے خطیر رقم خرچ کر کے یہ طبی سازوسامان خریدا گیا تھا۔ تاہم وبا کا زور ٹوٹتے ہی یہ تمام تر سامان مختلف مقامات پر منتقل کرکے یوں ہی چھوڑ دیا گیا جو آج تک سرد خانے کی نذر ہے۔ بدھ کو منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ایم این ایس رکن گنیش لانڈگے نے انکشاف کیا کہ جس گودام میں یہ قیمتی سامان رکھا گیا ہے وہاں دیکھ بھال کا فقدان ہے اور بارش کا پانی داخل ہونے سے سامان مزید تباہ ہو رہا ہے۔ مقامی کارپوریٹر مندار ہلبے نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سامان بروقت کارپوریشن کے مرکزی اور ذیلی اسپتالوں میں تقسیم کر دیا جاتا تو عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آتیں لیکن حکام کی لاپروائی کے باعث اب یہ سامان اسکریپ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ملیش شیٹی نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ جو سامان قابل استعمال ہے اسے فوری طور پر کارپوریشن کے اسپتالوں میں پہنچایا جائے جبکہ ناقابل استعمال سامان کی نیلامی کا عمل شروع کیا جائے۔رپورٹ کے مطابق کورونا کے دوران آکسیجن کی قلت سے نمٹنے کے لئے مقامی اراکین اسمبلی کے فنڈ سے کروڑوں روپے کی لاگت سے آکسیجن ٹینک نصب کئے گئے تھے۔وبا کے خاتمے کے بعد محکمہ صحت نے یہ ٹینک نجی اسپتالوں کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔تاہم نجی شعبہ کی جانب سے کوئی دلچسپی نہ دکھائے جانے کے باعث یہ ٹینک بھی کارپوریشن کے لئے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ کورونا کے خلاف مہم پر میونسپل کارپوریشن نے تقریباً ۲۶۵ کروڑ روپے خرچ کئے تھے جس کا بڑا حصہ اب محض حساب کتاب کی کتابوں تک محدود نظر آتا ہے۔