Updated: August 29, 2025, 10:10 PM IST
| New Delhi
نیشنل اینول رپورٹ اینڈ انڈیکس آن ویمن سیفٹی (ناری) ۲۰۲۵ء کی رپورٹ کے مطابق ’’کوہیما، وشاکھاپٹنم، بھوبھونیشور، ایزوال، ایٹانگر اور ممبئی خواتین کیلئے محفوظ ترین جبکہ دہلی، کولکاتا، سری نگر اور رانچی غیر محفوظ ترین شہر ہیں۔ اس سروے میں ۳۱ ؍ شہروں کی ۱۲؍ ہزار ۷۷۰؍ خواتین نے حصہ لیا تھا۔
ناری کے اراکین ۲۰۲۵ء کی رپورٹ کا افتتاح کرنے کے بعد۔ تصویر:پی ٹی آئی
نیشنل اینول رپورٹ اینڈ انڈیکس آن ویمن سیفٹی (ناری) ۲۰۲۵ء کی رپورٹ کے مطابق ’’کوہیما، وشاکھاپٹنم، بھوبھونیشور، ایزوال، ایٹا نگر اور ممبئی خواتین کیلئے محفوظ ترین شہر ہیں جبکہ دہلی، کولکاتا،سری نگر اور رانچی اس فہرست میں سب سے نیچے ہیں۔ جمعرات کو ملک بھر کی ۱۲؍ہزار ۷۷۰؍خواتین اور ۳۱؍ سے زائد شہروں میں سروے کرنے کے بعد قومی تحفظ کا اسکور ۶۵؍فیصد ثابت ہوا ہے اوران شہروں کو ’’بہت اوپر‘‘، ’’اوپر‘‘، ’’پر‘‘،،’’نیچے‘‘ یا ’’بہت نیچے‘‘ کا درجہ دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیرج چوپڑا ڈائمنڈ لیگ فائنل میں دوسرے نمبر پر رہے
کوہیما اور دیگر شہر اس فہرست میں سر فہرست ہیں جن کی وجوہات صنفی مساوات، شہری حصہ داری، پولیس کی کارروائی اور خواتین دوست انفراسٹرکچر ہیں۔ دوسری جانب پٹنہ اور جے پور کو کمزور انفراسٹرکچر، سماج میں مردوں کی بالادستی کے تصور اور شہری بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے خواتین کیلئے غیر محفوظ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔ ناری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’کوہیما، وشاکھاپٹنم، بھوبھونیشور، ایزوال، گینگٹاک، ایٹا نگر، ممبئی اور دیگر فہرست میں پہلے رینک پر ہیں جس کی اہم وجہ صنفی مساوات، انفراسٹرکچر، پولیس کی کارروائی اور شہری حصہ داری ہے جبکہ رانچی، سری نگر، کولکاتا، دہلی، فرید آباد، پٹنہ اور جے پور نے نچلا رینک حاصل کیا ہے جس کی وجہ خراب انفراسٹرکچر، سماج میں مردوں کی بالادستی کا نظام اور کمزور ادارہ جاتی ردعمل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: نائب صدر وینس نے کہا کہ ٹرمپ بالکل ٹھیک ہیں،لیکن ضرورت پڑنے پر صدر کی جگہ لینے کیلئےتیار ہوں
سروے کے مطابق ۱۰؍ میں سے ۶؍ خواتین خود کو ’’محفوظ‘‘ جبکہ ۴۰؍ فیصد خواتین خود کو ’’غیر محفوظ‘‘ سمجھتی ہیں۔ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’خواتین میں رات کے وقت، خاص طور پرنقل و حمل کے عوامی ذرائع اور تفریحی مقامات پر، احساسِ تحفظ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ۸۶؍ فیصد خواتین دن کے وقت خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں لیکن رات میں احساس تحفظ کی شرح دن کے مقابلے میں کم ہے۔ تقریباً ۹۱؍ فیصد خواتین خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں جن میں سے ۵۰؍ فیصد خواتین واضح نہیں ہیں کہ ان کے ورک پلیس میں ’’پاش‘‘ (جنسی ہراسانی سے حفاظت کی پالیسی ) ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مراٹھا ریزرویشن: منوج جرنگے کی آزاد میدان میں غیر معینہ بھوک ہڑتال کا آغاز
سروے کے مطابق ایک چوتھائی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ تحفظ کی شکایت درج ہونے کے بعد حکام کی مؤثر کن کارروائی پر بھروسہ رکھتی ہیں۔ تاہم، فی الحال ۶۹؍ فیصد خواتین تحفظ کی کوششوں کو ناکافی سمجھتی ہیں، ۳۰؍ فیصد سے زائد خواتین نے تحفظ کی کوششوں میں کمی کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم، صرف ۶۵؍ فیصد خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ ۲۰۲۳ء تا ۲۰۲۴ء میں حقیقی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔۷۰؍ فیصد خواتین نے کہا کہ ۲۰۲۴ء میں انہوں نے عوامی مقامات پر جنسی ہراسانی کا سامنا کیا تھا جبکہ ۲۴؍ سال سے کم عمر کی خواتین کیلئے یہ اعداد و شمار ۱۴؍ فیصد زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سنبھل فسادات: جوڈیشیل پینل نے ’ہندو آبادی میں کمی‘ کو نومبر ۲۰۲۳ء کے تشدد کی وجہ قرار دیا
سروے میں قریبی علاقوں (۳۸؍ فیصد) اور عوامی نقل و حمل (۲۹؍ فیصد) کو اکثر ہراسانی کے مقامات قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم، تین میں سے صرف ایک متاثرہ خاتون نے ہی اس طرح کی شکایات درج کروائی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’تین میں سے دو خواتین نے ہراسانی کی شکایت درج نہیں کروائی ہے جس کا مطلب ہے کہ این سی آر بی نے بہت سی وارداتیں رپورٹ نہیں کی ہیں۔ رپورٹ میں ناری کی طرح کے سروے کے ذریعے جرائم کے اعداد و شمار کے انضمام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا : اسکولوں میں موبائل فون اور ڈیجیٹل آلات پر پابندی!
رپورٹ لانچ کرنے کے بعد نیشنل کمیشن فار ویمن (این سی ڈبلیو) کی چیئرپرسن وجیہ راہاٹکر نے کہا کہ ’’خواتین کی حفاظت کا معاملہ صرف قانون اور احکام کی بالادستی تک محدود نہیں جبکہ یہ خواتین کی زندگی کے ہر پہلو جیسے تعلیم، صحت، کام کے مواقع اور دیگر کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب خواتین خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں تو وہ خود کو محدود کر لیتی ہیں اور خواتین نہ صرف یہ کہ اپنی بلکہ ملک کی ترقی کیلئے خود کو محدود کرلیتی ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تشکیل کیلئے خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو جسمانی، نفسیاتی، مالی اور ڈجیٹل طور پر محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: ۲۳۳؍ اسلامی اسکالرز جاں بحق، ۸۰۰؍ سے زائد مساجد تباہ، ۳؍ چرچ بھی نشانہ بنے، ۲۰؍ عیسائی فوت
ریہاٹکر نے نشاندہی کی کہ ’’خواتین کو نہ صرف یہ کہ سڑکوں پر ہونے والے بلکہ سائبر کرائمز، معاشی امتیاز اور نفسیاتی ہراسانی سے محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خواتین کی حفاظت کیلئے مثبت اقدامات کرنے پر زور دیتے ہوئے ملک میں خواتین افسران اور عوامی نقل و حمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی تعریف کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یونین ٹیریٹریز میں ۳۳؍ فیصد پولیس افسران خواتین ہیں۔ علاوہ ازیں خواتین کیلئے ہیلپ لائن نمبر، اسمارٹ شہروں میں سی سی ٹی وی لگانے اور ریلوے اسٹیشن اور بس ڈپو میں خواتین کی حفاظت کے نظام کو بہتر بنانے کی تعریف کی۔ انہوں نے سماج سے اپیل کی کہ وہ خواتین کی حفاظت کیلئے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم اکثر نظام کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن ہمیں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ہم نے کیا کیا ہے۔ چاہے وہ ہیلپ لائن ہو، آگاہی پھیلانا ہو، عوامی بیت الخلاء کی صفائی ہو، سماج کے تئیں ہماری ذمہ داریاں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ نرتھ کیپ اور جندال گلوبل لاء اسکول نے ناری انڈیکس شائع کیا ہے اور اسے گروپ آف انٹلیکٹ چوئلس اور اکیڈمیشن (جی آئی اے) نے شائع کیا ہے۔