Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستانی کارگو طیارہ نیویگیشن کی خرابی کی اطلاع کےبعد بحیرۂ عرب کےاوپر غائب، عملے کے ۵ اراکین لاپتہ

Updated: July 08, 2026, 7:33 PM IST | Islamabad

پاکستان کی ’کے ٹو ائیرویز‘ کا شارجہ سے کراچی جانے والا کارگو طیارہ لاپتہ ہوگیا ہے۔ ائیرویز نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کی سلامتی کیلئے تہہ دل سے دعا گو ہیں اور حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جہاز پر سوار عملے کے ۵ اراکین تاحال لاپتہ ہیں جبکہ تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پاکستان کی ’کے ٹو ائیرویز‘ (K2 Airways) کا ایک بوئنگ ۴۰۰-۷۳۷ کارگو طیارہ، جو شارجہ سے کراچی کی طرف پرواز کر رہا تھا، منگل کی رات نیویگیشن سسٹم (سمت شناسی کے نظام) میں خرابی کی اطلاع دینے کے بعد بحیرۂ عرب کے اوپر راڈار سے غائب ہوگیا ہے۔ جہاز پر سوار عملے کے ۵ اراکین تاحال لاپتہ ہیں جبکہ تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔

پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے تصدیق کی کہ طیارے نے رات ۹:۱۸ بجے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی، جس پر کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر اس کی رہنمائی کی۔ تاہم، رات ۹:۲۱ بجے راڈار نے دکھایا کہ طیارہ تیزی سے نیچے گر رہا ہے اور اپنی سمت میں اچانک بڑی تبدیلی کر رہا ہے۔ اس کے بعد، کراچی سے تقریباً ۲۸۷ کلومیٹر دور مغرب میں طیارے کا راڈار سے رابطہ اور تمام مواصلات منقطع ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع

فلائٹ ٹریکنگ سروس ’فلائٹ راڈار ۲۴‘ (FlightRadar24) نے طیارے کے آخری لمحات کی ایک ہولناک تصویر پیش کی ہے۔ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ طیارے نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً ۱۵۲۵ میٹر کی بلندی کھو دی، پھر اگلے ۳۰ سیکنڈ میں تقریباً ۱۸۳۰ میٹر اوپر چڑھا، اس کے بعد ۱۱۱۴۰ میٹر کی بلندی سے تقریباً سیدھا نیچے کی طرف گرنے لگا۔ آخری بار موصول ہونے والی پوزیشن کے مطابق طیارہ سطح سمندر سے محض ۳۳۵ میٹر اوپر تھا اور ۲۲۴۰۰ فٹ فی منٹ (تقریباً ۴۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے نیچے گر رہا تھا۔ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ابتدائی ADS-B ڈیٹا ”بلندی میں کمی، اس کے بعد بلندی پر جانے اور پھر دوسری بار اچانک اور ڈرامائی طور پر بلندی گرنے“ کی نشان دہی کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، شارجہ سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد طیارے کے گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (GNSS) میں خرابی پیدا ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات (UAE) کے قریب نیویگیشن ڈیٹا متاثر ہوا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بحری قزاقی میں عالمی سطح پر ۱۷؍ فیصد اضافہ: اقوام متحدہ کا ۴۴؍ اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ

طیارے کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع

پاکستان نے طیارے کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جس میں پاکستانی بحریہ کا ایک جہاز، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا ایک تجارتی جہاز اور بحریہ کے دو طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک طیارے کا کوئی ملبہ یا بچ جانے والے افراد نہیں ملے ہیں۔ 

کے ٹو ائیرویز نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کی سلامتی کیلئے تہہ دل سے دعا گو ہیں اور حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ یہ بوئنگ ۴۰۰-۷۳۷ کے ٹو ائیرویز کے بیڑے میں شامل واحد طیارہ تھا جس نے دسمبر ۲۰۲۴ء میں ائیرلائنز کے ساتھ اپنی سروس کا آغاز کیا تھا۔ اس سے قبل یہ طیارہ ایروفلوٹ، گاروڈا انڈونیشیا اور ٹی این ٹی ائیرویز کیلئے خدمات انجام دے چکا تھا، اس کے بعد ۲۰۱۲ء میں اسے مال بردار (کارگو) طیارے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: یا تو ایران کےساتھ معاہدہ ہوگا، یا اپنا کام مکمل کریں گے ، ٹرمپ کی پھردھمکی

اگر اس حادثے کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ مئی ۲۰۲۰ء کے بعد پاکستان کا پہلا بڑا شہری فضائی حادثہ ہوگا۔ ۲۰۲۰ء میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کا ایک طیارہ کراچی کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا، جس میں طیارے پر سوار ۹۹ میں سے ۹۷ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK