وزارت داخلہ نے نئے پولیس اسٹیشنوں کے قیام کیلئے نئے اصول مرتب کئے ، اگر کسی علاقے میں جرائم زیادہ ہوئے تو وہاں ایک کے بجائے ۲؍ پولیس اسٹیشن ہو سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 4:09 PM IST | Agency | Mumbai
وزارت داخلہ نے نئے پولیس اسٹیشنوں کے قیام کیلئے نئے اصول مرتب کئے ، اگر کسی علاقے میں جرائم زیادہ ہوئے تو وہاں ایک کے بجائے ۲؍ پولیس اسٹیشن ہو سکتے ہیں۔
ریاستی حکومت نے ۱۹۶۰ء کے بعد پہلی مرتبہ ریاست میںنئے پولیس اسٹیشن قائم کرنے کے رہنما خطوط میں تبدیلی کی ہے۔ پہلے آبادی کے اعتبار سے پولیس اسٹیشن قائم ہوا کرتے تھے لیکن اب جرائم کے اعتبار سے پولیس اسٹیشن قائم ہوں گے۔ یعنی اگر جرائم زیادہ ہو تو ایک ہی علاقے میں ۲؍ الگ الگ پولیس اسٹیشن ہو سکتے ہیں۔ ریاست میں بڑھتی ہوئی آبادی، شہروں کی تعداد میںاضافہ ، صنعتی اور سیاحتی شعبوں کی توسیع، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے مدنظروزارت داخلہ نے نئے پولیس اسٹیشنوں کے قیام کیلئے نئے معیارات طے کئےہیں۔ ان میں علاقے کی سماجی ، معاشی اور ثقافتی شناخت پر اثر انداز ہونے والا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ اگر علاقے میں پچھلے ۳؍ سال میں جرائم کی تعدادبڑھی ہو تو وہاں نیا پولیس اسٹیشن قائم کیا جائے گا۔نئے پولیس اسٹیشن کیو ۳؍ زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وزیر تعلیم کی جانب سے ٹی ای ٹی امتحان کے آن لائن انعقاد کا اعلان
ممبئی کے علاوہ پولیس کمشنریٹ میں نئی کیٹیگری نافذ
محکمہ داخلہ کے مطابق نئے اصول ممبئی پولیس کمشنریٹ کو چھوڑ کر ریاست کے تمام پولیس کمشنریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے حلقۂ اختیار میں نافذ ہوں گے ۔ نئے پولیس اسٹیشنوں کو ’اے ‘، ’بی‘ اور’ سی‘ میں درجہ بند کیا جائے گا۔ ہر کیٹیگری کیلئے افرادی قوت کی علاحدہ ضروریات مقرر کی گئی ہیں۔
جرائم کی شرح کو مد نظر رکھا جائے گا
نئے پولیس اسٹیشن قائم کرتے وقت مختلف عوامل جیسے آبادی اورجرائم کی شرح کو خاص طور پر دھیان میں رکھا جائے گا ۔ جہاں جرائم زیادہ ہوتے ہیں اسے اے کیٹیگری، جہاں اوسط جرائم ریکارڈ کئے گئے ہیںاسے ’ بی ‘ کیٹیگری اور جہا ں نسبتاً کم جرائم ہوتے ہیں اسے ’ سی ‘ کیٹگری میں شمار کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ صنعتی علاقہ، سیاحتی علاقہ، حساس آبادی، عدالتیں، ٹریفک اور سیکوریٹی کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
درجہ بندی کیسے ہوگی؟
’اے‘ کیٹیگری کے پولیس اسٹیشنوں میں ضلع ہیڈ کوارٹرس اور ان علاقوں کو شامل کیا گیا ہے جہاں جرائم زیادہ ہوتے ہیں۔ تعزیرات ہند /بی این ایس کے پارٹ ون سے پارٹ ۵؍ کے تحت ۴۰۰؍ سے زیادہ جرائم ریکارڈ کرنے والے، مخلوط آبادی کا ۳۵؍ فیصد سے زیادہ آبادی ، بڑی اور اہم مقدس یا سیاحتی مقامات والے علاقے اے کٹیگری میںشامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ: موسمیاتی تبدیلی نے سمندروں کا درجہ حرارت ۲؍ درجہ سیلسیس بڑھا دیا
۔’ بی‘ کیٹیگری میں تعلقہ ہیڈ کوارٹرس،۲۰۰؍ سے ۴۰۰؍جرائم ریکارڈ کرنے والے اسٹیشن، ایک ہزار سے زیادہ صنعتی ملازمین والے علاقے، بڑے ریلوے اسٹیشنوں اور ایسے مقامات کا احاطہ کیا جائے گا جہاں اکثر بھیڑ بھاڑ یا ہجوم کو قابو میں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاترا کے مقام کیلئے ، ایک ہزار سے زائد صنعتی ورکرس، ایڈیشنل سیشن ججوں یا جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالتیں، بار بار مارچ اور سیکوریٹی کی ضروریات،اسٹیڈیم، بڑے سیاحتی مقامات،۱۵؍ سے ۳۵؍ فیصد آبادی والے علاقے اس کیٹیگری میں شامل کئے جائیں گے۔
’سی‘کیٹیگری:۱۵۰؍ سے ۲۰۰؍جرائم ریکارڈ کرنے والے پولیس اسٹیشنوں کا احاطہ اس زمرے میں ہو گا۔
یہ بھی پڑھئے: تکارام منڈے کی ہدایت پر ممبئی کے اسکولوں کا مینو بدلا، جنک فوڈ پر پابندی
ممبئی کیلئے الگ معیار
ممبئی پولیس کمشنریٹ کیلئے الگ معیار مقرر کئے گئے ہیں۔ ممبئی شہر کی گنجان آبادی، نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ممبئی کے تمام موجودہ پولیس اسٹیشنوں کو ’اے‘ کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ ممبئی میں نئے قائم ہونے والے پولیس اسٹیشن کی ضرورت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ۳۶۲؍ اہلکار ( آفیسر اور اسٹاف)مقرر کی گئی ہے۔
نکسل زدہ ضلاع کیلئے علاحدہ اصول
ممبئی کی طرح نکسل واد سے متاثرہ گڈچرولی اور گوندیا اضلاع کیلئے اے ، بی اور سی کیٹیگری نافذ نہیں کی گئی ہے ۔نکسل مخالف مہم ،ایل آر پی، ناکہ بندی، سڑک کھولنے، امن و قانون اور مقامی سطح پر خصوصی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس علاقے میں نئے پولیس اسٹیشنوں کیلئے علاحدہ افرادی قوت مقرر کی گئی ہے۔ اس خصوصی منصوبہ میں کل۱۲۸؍ افرادی قوت فراہم کی جائے گی۔ یہ نظرثانی بامبے ہائی کورٹ کی ان ہدایات کے بعد کی گئی ہے جن میں ریاستی حکومت کو ۲۰۲۳ءکے ضوابط پر دوبارہ غور کرنے اور پولیس اسٹیشنوں کے قیام کے علاوہ ان کیلئے درکار عملے سے متعلق ایک جامع پالیسی تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نظرثانی شدہ تجویز اکتوبر ۲۰۲۵ء میں پیش کی گئی تھی۔