Updated: March 04, 2026, 12:01 PM IST
| Washington
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گرین ہائوس گیس کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے، امریکہ کی بین الاقوامی کلائمیٹ سائنس تنظیم Climate TRACE کے ڈیٹا کے مطابق ،عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں۲۰۲۵ء میں۳۰۳؍ اعشاریہ ۲؍ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اضافہ ہوا، جس سے کل اخراج۶۰؍ اعشاریہ ۶۳؍ بلین ٹن تک پہنچ گیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گرین ہائوس گیس کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے، امریکہ کی بین الاقوامی کلائمیٹ سائنس تنظیم Climate TRACE کے ڈیٹا کے مطابق ،عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں۲۰۲۵ء میں۳۰۳؍ اعشاریہ ۲؍ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اضافہ ہوا، جس سے کل اخراج۶۰؍ اعشاریہ ۶۳؍ بلین ٹن تک پہنچ گیا۔یہ اعداد وشمار کئی بڑی معیشتوںخصوصاً روس اور چین میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ تنظیم نے مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ تصاویر اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے قریب حقیقی وقت کے اخراج ڈیٹا بیس کے ذریعے۲۰۲۵ء کے نتائج شائع کیے۔
یہ بھی پرھئے: چین ایران کے ساتھ ہے، جنگ بندی کی اپیل؛ خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں
یہ ڈیٹا بیس۱۰؍ بڑے شعبوں اور۶۴؍ ذیلی شعبوں میں تقریباً۷۴۴؍ ملین سہولیات سے۲۰۲۵ء کے اخراج کو ٹریک کرتا ہے، جو ہر ملک اور دنیا بھر کے۹۰۰۰؍ سے زائد شہروں کا احاطہ کرتا ہے۔ڈیٹا بیس کے مطابق، عالمی اخراج میں سالانہ صفر اعشاریہ ۵؍ فیصد اضافہ ہوا،۳۰۳؍ اعشاریہ ۲؍ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اضافہ ہوا، جس سے کل اخراج۶۰؍ اعشاریہ ۶۳؍ بلین ٹن تک پہنچ گیا۔ چین دنیا کا سب سے بڑا اخراج کنندہ ملک رہا، جہاں۲۰۲۵ء میں ۱۷؍ اعشاریہ ۴؍ بلین ٹن گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوئیں۔ ملک میں اخراج میں۴۸؍ اعشاریہ ملین ٹن یعنی صفر اعشاریہ ۲۸؍ فیصد کا اضافہ ہوا۔ جبکہ امریکہ دوسرے نمبر پر رہا، جس نے۷؍ بلین ٹن اخراج کیا، سالانہ۱۶؍ اعشاریہ۲؍ ملین ٹن (صفر اعشاریہ ۲۳؍ فیصد) کا اضافہ۔ہندوستان تیسرے نمبر پر۴؍ اعشاریہ ۲۲؍ بلین ٹن کے ساتھ، لیکن اس نے۲۷؍ اعشاریہ ۵؍ ملین ٹن (صفر اعشاریہ ۶۵؍ فیصد) کی کمی درج کی، جو زیادہ تر بجلی کے شعبے میں کمی کی وجہ سے تھی۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں عمران خان کی سابق اہلیہ پر ایک ہزار پاؤنڈ جرمانہ
اس کے علاوہ ۳؍ اعشاریہ ۲؍ بلین ٹن کے اضافے کے ساتھ روس چوتھے، بڑے اخراج کنندگان میں سے ایک ہے۔ جہاں سب سے تیز سالانہ اضافہ۵۱؍ اعشاریہ ۶؍ ملین ٹن ایک اعشاریہ ۶۴؍فیصد) درج کیا۔انڈونیشیا پانچویں نمبر پر ایک اعشاریہ ۵۵؍بلین ٹن، اس کے بعد برازیل ایک اعشاریہ ۳۸؍بلین، ایران اور جاپان ہر ایک، ایک اعشاریہ ۲۸؍ بلین، سعودی عرب ایک اعشاریہ صفر ۵؍ بلین، اورکنیڈا ۹۵۰؍ملین ٹن۔اگرچہ سعودی عرب کل اخراج میں نویں نمبر پر تھا، لیکن اس نے سب سے بڑا اضافہ۲؍ اعشاریہ ۱۴؍ فیصد یعنی۲۲؍ ملین ٹن درج کیا۔ترکی کے گرین ہاؤس گیس اخراج میں سالانہ ایک اعشاریہ ۴؍ فیصد اضافہ ہو کر۶۲۳؍ اعشاریہ ایک ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہوا۔
ہندوستان کے علاوہ۲۰۲۵ء میں اخراج میں کمی والے ممالک میں میکسیکو، آسٹریلیا، جاپان، یوکرین، یونان، فرانس، پولینڈ، ایکواڈور اور جرمنی شامل ہیں۔بعد ازاں ۱۰؍اہم شعبوں میں تجزیہ کے مطابق، فوسل فیولز (کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس) اخراج میں اضافے کے بنیادی ذرائع رہے۔ فوسل فیول آپریشنز سے اخراج میں ۷؍ اعشاریہ ۱۵۱؍ ملین ٹن (ایک اعشاریہ ۵۶؍ فیصد) کا اضافہ ہوا۔روس کی تیل اور گیس پیداوار نے اس اضافے کا سب سے بڑا حصہ لیا۔ قزاقستان، چین، سعودی عرب اور برازیل میں بھی فوسل فیول پیداوار سے اخراج بڑھا، جہاں برازیل میں اس زمرے میں۲۹؍ فیصد کا اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور کنیڈا کے درمیان یورینیم فراہمی کا تاریخی معاہدہ؛ ۲۰۳۰ء تک ۵۰ ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف
اس کے برعکس، عالمی بجلی کے شعبے سے اخراج میں۲۰؍ اعشاریہ ۳؍ ملین ٹن (صفر اعشاریہ ۱۳ فیصد) کی کمی آئی، جو کرونا وباءکے بعد پہلی کمی تھی۔بعد ازاں ہندوستان اور چین میں صاف توانائی کی طرف منتقلی نے اس کمی میں اہم کردار ادا کیا۔حالانکہ کمی کے باوجود، بجلی کا شعبہ ۲۰۲۵ء میں عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جو کل کا۲۶؍ فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی فضائی بندش، ایک لاکھ شہری بیرونِ ملک پھنس گئے
واضح رہے کہ بجلی کی پیداوار وہ شعبہ ہے جہاں قابل تجدید توانائی خصوصاً ہوا اور شمسی توانائی سب سے زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ قابل تجدید صلاحیت بڑھانے والے ممالک میں شعبہ جاتی اخراج میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔چین اور ہندوستان نے بجلی کے شعبے میں اخراج کم کرنے میں سبقت حاصل کی۔ چین میں بجلی کی پیداوار سے اخراج صفر اعشاریہ ۴؍ فیصد کم ہوا، جو۲۰۱۵ء کے بعد پہلی کمی تھی، جبکہ ہندوستان میں۲؍ اعشاریہ ۶؍ فیصد کمی آئی جو۲۰۲۰ء کے بعد پہلی تھی۔عالمی ٹرانسپورٹ شعبے سے اخراج گزشتہ دہائی میں۱۱؍ اعشاریہ ۲؍ فیصدبڑھا، لیکن نارک ممالک (ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن) نے ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراج میں۶؍ اعشاریہ ۲؍ فیصد کمی کی، جو زیادہ تر الیکٹرک گاڑیوں کے وسیع پیمانے پر استعمال کی وجہ سے تھی۔