الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے باہر احتجاج کے دوران کشیدگی، بھوک ہڑتال جاری،پولیس کا بھاری بندوبست۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 12:42 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Ulhasnagar
الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے باہر احتجاج کے دوران کشیدگی، بھوک ہڑتال جاری،پولیس کا بھاری بندوبست۔
الہاس نگر میں مسلم قبرستان کیلئے مختص اراضی پر تدفین کی اجازت نہ ملنے کے خلاف جاری تحریک نے جمعہ کو فیصلہ کن رخ اختیار کر لیا جب سیکڑوں افراد نے میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے پہنچ کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔برسوں سے زیر التوا اس مسئلے پر عوامی بے چینی کھل کر سامنے آئی اور مظاہرین نے انتظامیہ سے فوری اور واضح فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران بعض ہندو انتہا پسند تنظیموں کے کارکنان نے موقع پر پہنچ کر ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی تاہم پولیس کی بھاری نفری اور سخت حفاظتی انتظامات کے باعث صورتحال قابو میں رہی اور احتجاج پُرامن انداز میں جاری رہا۔
نمازجمعہ کے بعد الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے باہر سیکڑوں مظاہرین نے قبرستان کے حصول کیلئے زبردست احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ برسوں سے اس مسئلے پر انہیں محض سیاسی وعدوں اور جھوٹی یقین دہانیوں کے سہارے ٹالا جا رہا ہے۔ اس تضاد کو عوام کے سامنے لانے کیلئے سوشل میڈیا پر پرانے انتخابی وعدوں اور قائدین کی تقاریر کی ویڈیوز بھی وائرل کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’تمہارے گھروں کی حفاظت امریکی ہتھیاروں سے ہوتی ہے‘‘
اس موقع پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے مہاراشٹر پروگامی مسلم سماج سنگھٹنا کے صدر عبدالغفار شیخ نے کہا کہ یہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ مسلم برادری کے آئینی حقوق اور بنیادی سہولیات سے جڑا وقار کا مسئلہ ہے۔میونسپل انتظامیہ برسوں سے کیلاش کالونی کیمپ نمبر ۵ ؍میں مختص قبرستان کی اراضی کو مسلمانوں کے حوالے کرنے میں ٹال مٹول کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔پچھلے سال بھی قبرستان کیلئے بھوک ہڑتال کی گئی تھی تب میونسپل کمشنر نے یقین دہانی کروائی تھی کہ بہت جلد قبرستان مسلمانوں کے سپرد کی جائے گی مگر ایسا نہ ہوسکا۔سماجی کارکن انل سنہا نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے دباؤ کے آگے قبرستان کی زمین مسلمانوں کو نہیں دی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دورۂ فرانس میں وزیر اعظم مودی نے نور عنایت خان کی قربانی کو یاد کیا
احتجاج کے دوران اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب کچھ ہندو تنظیموں کے کارکنان وہاں پہنچ گئے اور جے شری رام کے نعرے لگانے لگے۔ تاہم اس موقع پر بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم مظاہرین نے بھی تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔ادھر انتظامیہ نے بھاری پولیس فورس تعینات کر رکھی ہے جس پر مظاہرین نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج کو قانون و انصاف کے لئے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی کمشنر وشاکھا موٹگھرے نے مظاہرین سے بات چیت کی اور کچھ مطالبات پر مثبت پیش رفت کا اشارہ دیا ہے لیکن مظاہرین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ محض زبانی یقین دہانیوں پر اکتفا نہیں کریں گے۔