Inquilab Logo Happiest Places to Work

اےآئی کیلئے کتابوں کی قربانی؟ بہتر چیٹ بوٹس کی دوڑ میں لاکھوں مطبوعہ کتابیں تلف

Updated: July 30, 2026, 10:10 PM IST | San Francisco / New York / London

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ایک غیر متوقع رجحان کو جنم دیا ہے۔ تازہ تحقیقات، عدالتی دستاویزات اور پبلشنگ انڈسٹری سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کئی اے آئی کمپنیاں لاکھوں مطبوعہ کتابیں خرید کر انہیں ڈجیٹل شکل دے رہی ہیں تاکہ اپنے ماڈلز کو خالص انسانی تحریروں سے تربیت دے سکیں۔ متعدد رپورٹس کے مطابق اس عمل میں کتابوں کی جلدیں کاٹ کر صفحات اسکین کیے جاتے ہیں، جس کے بعد اصل نسخے اکثر قابلِ استعمال نہیں رہتے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک خاموش مگر غیر معمولی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ چند برس پہلے تک اے آئی ماڈلز کی تربیت کیلئے انٹرنیٹ کو سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہی انٹرنیٹ ان کمپنیوں کیلئے کم قابلِ اعتماد بنتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویب پر شائع ہونے والے لاکھوں مضامین، بلاگز، ای بکس اور ویب صفحات اب خود مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر نئے ماڈلز کو مسلسل اسی مواد پر تربیت دی جائے تو ان کے معیار، درستگی اور زبان پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی خدشے نے بڑی اے آئی کمپنیوں کو دوبارہ چھپی ہوئی کتابوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں براہِ راست یا درمیانی اداروں کے ذریعے بڑی تعداد میں مطبوعہ کتابیں خرید رہی ہیں۔ ان میں عام ناول، درسی کتب، سوانح عمریاں، تحقیقی تصانیف، انسائیکلوپیڈیاز اور ایسی نایاب کتابیں بھی شامل ہیں جو برسوں سے دوبارہ شائع نہیں ہوئیں۔ ان کتابوں کو اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ان کا متن مکمل طور پر انسانی ذہن کی تخلیق ہے اور اس میں اے آئی سے پیدا ہونے والی ’’ڈیٹا آلودگی‘‘ شامل نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کسی مضبوط سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیرنو کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا

پرانی کتابیں ٹیکنالوجی صنعت کیلئے نئی قیمتی دولت

امریکی ٹیکنالوجی ویب سائٹ 404 Media کی تحقیق کے مطابق بعض کمپنیاں اپنی خریداری کو نمایاں ہونے سے بچانے کیلئے کتابیں خود خریدنے کے بجائے تھوک سپلائرز اور ثالث کمپنیوں کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ اس طریقے سے ہزاروں بلکہ لاکھوں کتابیں مختلف ذرائع سے جمع کی جا رہی ہیں تاکہ ان کا ڈجیٹل متن تیار کیا جا سکے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس رجحان نے امریکہ اور یورپ کے سیکنڈ ہینڈ کتاب فروشوں اور نایاب کتابوں کے تاجروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی ہے، جہاں اچانک بڑے پیمانے پر خریداری کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس رجحان کی بنیادی وجہ خود مصنوعی ذہانت ہے۔ ماہرین اسے "AI Data Contamination" یا "Model Collapse" جیسے خدشات سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک اے آئی ماڈل کو زیادہ تر اسی مواد پر تربیت دی جائے جو پہلے ہی کسی دوسری اے آئی نے تخلیق کیا ہو تو وقت گزرنے کے ساتھ معلومات کی درستگی، تنوع اور تخلیقی معیار متاثر ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی ہاتھوں سے لکھی گئی پرانی کتابیں آج ٹیکنالوجی صنعت کیلئے ایک نئی قیمتی دولت سمجھی جا رہی ہیں۔

اے آئی ڈیٹا کتابوں میں ہے

اسی تناظر میں Futurism نے ایک ماہر کے حوالے سے لکھا کہ ’’دنیا کا بہترین اے آئی ٹریننگ ڈیٹا اب بھی کتابوں کی الماریوں میں رکھا ہوا ہے۔‘‘ یہ جملہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ برسوں پہلے لکھی گئی کتابیں آج بھی زبان، اسلوب، تحقیق اور فکری تنوع کے اعتبار سے انٹرنیٹ پر موجود بڑی مقدار میں اے آئی سے تیار کردہ مواد سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہیں۔ اعداد و شمار بھی اس بدلتے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیقی مطالعے میں ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۶ء کے دوران شائع ہونے والی ۱۴۴۱۹؍ سیلف پبلشڈ کتابوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق فروخت ہونے والی کتابوں کی تعداد میں ۲ء۱۹؍ گنا اضافہ ہوا، لیکن مجموعی آمدنی صرف ۹ء۸؍ گنا بڑھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس فرق کی ایک وجہ اے آئی کے ذریعے تیار ہونے والی کتابوں کی غیر معمولی تعداد ہے، جس نے اشاعتی دنیا میں مواد کا سیلاب پیدا کر دیا ہے، جبکہ اعلیٰ معیار کی انسانی تحریر پہلے سے زیادہ نایاب بنتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: زلزلے کے بعد شاپنگ مال میں خوفناک دھماکہ، سیکڑوں افراد دب گئے

کتابیں اے آئی کا خام مال بنائی جارہی ہیں

ادھر متعدد پبلشنگ ماہرین اور کتاب فروشوں کا کہنا ہے کہ مطبوعہ کتابیں اب صرف قارئین کیلئے نہیں رہیں بلکہ وہ مصنوعی ذہانت کی معیشت کا اہم خام مال بنتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق پہلے کتاب کی قیمت اس کے قاری سے طے ہوتی تھی، مگر اب اس کی قدر اس بنیاد پر بھی دیکھی جا رہی ہے کہ وہ کسی اے آئی ماڈل کو کتنا بہتر بنا سکتی ہے۔ یہی تبدیلی دنیا بھر میں کتابوں کی خریداری، تحفظ اور استعمال کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رجحان محض ایک کاروباری حکمت عملی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی آئندہ نسل کیلئے بنیادی وسائل کی دوڑ ہے۔ تاہم اس دوڑ نے ایک ایسے سوال کو بھی جنم دیا ہے جس کا جواب ابھی باقی ہے: اگر مستقبل کی ذہین مشینیں انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں پر انحصار کر رہی ہیں، تو کیا انہی کتابوں کی بقا بھی یقینی بنائی جا رہی ہے، یا انہیں محض ڈیٹا میں تبدیل کر کے خاموشی سے تاریخ کا حصہ بنایا جا رہا ہے؟ 

کتابیں تلف کرنے کا رجحان

اگرچہ اے آئی کمپنیاں اس عمل کو محض ’’ڈجیٹلائزیشن‘‘ قرار دیتی ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں سب سے زیادہ بحث ’’ڈسٹرکٹیو اسکیننگ‘‘ (Destructive Scanning) پر ہو رہی ہے۔ اس طریقۂ کار میں کتاب کی جلد مشین سے الگ کر دی جاتی ہے، صفحات کو تیز رفتار اسکینرز سے گزار کر ڈجیٹل فائل میں تبدیل کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اصل کتاب اکثر دوبارہ بائنڈ نہیں کی جاتی۔ پبلشنگ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ وقت اور لاگت دونوں بچاتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں اصل مطبوعہ نسخہ ہمیشہ کیلئے ضائع ہو سکتا ہے۔ یہ طریقہ لائبریریوں کی روایتی غیر تباہ کن اسکیننگ سے مختلف ہے، جہاں کتاب کو محفوظ رکھتے ہوئے ڈجیٹل نقل تیار کی جاتی ہے۔

معاملے کو عالمی توجہ کب ملی؟

اس معاملے کو عالمی توجہ اس وقت ملی جب امریکی کمپنی Anthropic کے خلاف جاری کاپی رائٹ مقدمے کی عدالتی دستاویزات منظرعام پر آئیں۔ ان دستاویزات کے مطابق کمپنی نے بڑی تعداد میں قانونی طور پر خریدی گئی کتابوں کو اسکین کرنے کیلئے ان کی جلدیں الگ کروائیں تاکہ تیز رفتار ڈجیٹلائزیشن ممکن ہو سکے۔ عدالت میں کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے کتابیں خریدنے کے بعد ان کی ڈجیٹل نقول صرف اے آئی تربیت کیلئے استعمال کیں، جبکہ مصنفین اور ناشرین نے اسے کاپی رائٹ کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔ مقدمے کے بعض حصوں میں عدالت نے یہ رائے دی کہ قانونی طور پر خریدی گئی کتابوں کی اسکیننگ مخصوص حالات میں ’’فیئر یوز‘‘ کے دائرے میں آ سکتی ہے، تاہم اس سے جڑے دیگر کاپی رائٹ سوالات بدستور زیر سماعت ہیں۔

یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ بعض کمپنیوں نے کتابوں کی خریداری براہِ راست اپنے نام سے کرنے کے بجائے درمیانی اداروں کا سہارا لیا۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد بڑی تعداد میں خریداری کو نمایاں ہونے سے بچانا اور مختلف سپلائرز سے خاموشی کے ساتھ کتابیں جمع کرنا تھا۔ اس کے بعد انہیں ایسے مراکز تک پہنچایا گیا جہاں صنعتی پیمانے پر اسکیننگ کی سہولت موجود تھی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور سعودی عرب کا عراق پرمشترکہ حملہ

قدیم اور نایاب کتابوں کے تاجروں کو بھی تشویش

اس رجحان نے قدیم اور نایاب کتابوں کے تاجروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نیدرلینڈز، برطانیہ اور امریکہ کے متعدد کتاب فروشوں نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ حالیہ عرصے میں ایسی کتابوں کی غیر معمولی طلب دیکھی گئی جو برسوں سے مارکیٹ میں کم دستیاب تھیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بعض نایاب ایڈیشن نجی ڈیٹا پروسیسنگ مراکز تک محدود ہو جائیں گے اور مستقبل کے محققین کیلئے ان تک رسائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ تاہم ان خدشات کی تصدیق کیلئے جامع اعداد و شمار ابھی دستیاب نہیں ہیں۔

مصنفین اور پبلشرز کی تنظیمیں اس معاملے کو صرف کتابوں کی تباہی نہیں بلکہ تخلیقی حقوق کے تناظر میں بھی دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کتاب کی ایک قانونی کاپی خرید لینے سے اس کے پورے متن کو مصنوعی ذہانت کے تجارتی ماڈل کی تربیت میں استعمال کرنے کا اخلاقی یا قانونی حق خود بخود حاصل نہیں ہو جاتا۔ اسی بنیاد پر امریکہ سمیت مختلف ممالک میں متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں، جہاں یہ طے ہونا باقی ہے کہ اے آئی تربیت کیلئے کتابوں کا استعمال کس حد تک قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جدید زبانی ماڈلز کو اعلیٰ معیار کی انسانی تحریر کے بغیر بہتر بنانا ممکن نہیں

ادھر ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مؤقف مختلف ہے۔ ان کے مطابق جدید زبانی ماڈلز کو اعلیٰ معیار کی انسانی تحریر کے بغیر بہتر بنانا ممکن نہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر مصنوعی مواد کی بڑھتی ہوئی مقدار مستقبل میں مسئلہ مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر اے آئی کو صرف اے آئی کے لکھے ہوئے متن سے سکھایا جاتا رہا تو معلومات کی درستگی، استدلال اور زبان کا معیار متاثر ہوگا، اس لیے مستند انسانی تحریر اب ناگزیر ہو چکی ہے۔

اسی بحث نے ایک بڑے اخلاقی سوال کو جنم دیا ہے۔ اگر آنے والے برسوں میں دنیا کی بہترین تحریریں چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ڈیٹا مراکز میں محفوظ ہوں، جبکہ ان کی اصل مطبوعہ شکل آہستہ آہستہ ختم ہوتی جائے، تو کیا انسانی تہذیب کا تحریری ورثہ عوامی اثاثہ رہے گا یا مصنوعی ذہانت کی معیشت کا خام مال بن کر رہ جائے گا؟ یہی سوال اب پبلشنگ انڈسٹری، مصنفین، لائبریریوں اور پالیسی سازوں کے درمیان عالمی بحث کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

انسانی علم پر حقیقی اختیار کس کے پاس ہوگا؟

مصنوعی ذہانت کی اس نئی دوڑ نے ایک ایسا سوال بھی کھڑا کر دیا ہے جس کا تعلق صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ تہذیب، علم اور تاریخ سے ہے۔ اگر دنیا کی بہترین کتابیں بڑے پیمانے پر ڈجیٹل ڈیٹا میں تبدیل ہو کر چند نجی کمپنیوں کے سرورز تک محدود ہو جائیں تو انسانی علم پر حقیقی اختیار کس کے پاس ہوگا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بحث صرف اس بات کی نہیں کہ اے آئی کو کیا سکھایا جا رہا ہے، بلکہ اس بات کی بھی ہے کہ مستقبل میں علم تک رسائی کے دروازے کس کے ہاتھ میں ہوں گے۔

لائبریریوں اور آرکائیوز سے وابستہ ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ مطبوعہ کتاب محض متن نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے عہد کی مادی دستاویز بھی ہوتی ہے۔ اس کی جلد، کاغذ، طباعت، حاشیے، ایڈیشن اور اشاعتی تاریخ آئندہ نسلوں کیلئے تحقیقی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اصل نسخے ختم ہوتے گئے تو ڈجیٹل نقل اگرچہ متن محفوظ رکھ سکتی ہے، مگر کتاب کی تاریخی اور ثقافتی شناخت مکمل طور پر منتقل نہیں کر سکتی۔ اشاعتی صنعت کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ اے آئی ماڈلز کی صلاحیت بڑھانے کی دوڑ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ OpenAI، Anthropic، Google، Meta اور دیگر بڑی کمپنیاں مسلسل زیادہ معیاری تربیتی مواد کی تلاش میں ہیں، جبکہ دنیا بھر کے مصنفین، ناشرین اور میڈیا ادارے اپنے تخلیقی حقوق کے تحفظ کیلئے نئی قانونی حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔ متعدد ممالک میں اس بات پر بھی غور ہو رہا ہے کہ آیا اے آئی تربیت کیلئے کتابوں اور دیگر تخلیقات کے استعمال پر نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریکارڈ ساز پرواز: ملبورن سے ٹولوس تک ۲۴ گھنٹے ۲۵ منٹ کی نان اسٹاپ فلائٹ، ۳۶ لاکھ افراد نے ٹریک کیا

کچھ ماہرین اس بحث کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کو بہتر بنانے کیلئے انسانی علم کا استعمال خود کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ ہر نئی ٹیکنالوجی گزشتہ نسلوں کے علم پر ہی تعمیر ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس عمل میں مصنفین کو مناسب معاوضہ، ناشرین کو قانونی تحفظ اور نایاب کتابوں کو مستقل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ ان کے خیال میں اگر شفاف ضابطے اور واضح اصول وضع کیے جائیں تو ٹیکنالوجی کی ترقی اور علمی ورثے کا تحفظ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔

دوسری جانب بعض محققین خبردار کرتے ہیں کہ اگر انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار کردہ مواد کی مقدار مسلسل بڑھتی رہی تو مستقبل میں مستند انسانی تحریر پہلے سے کہیں زیادہ قیمتی اثاثہ بن جائے گی۔ ایسی صورت میں لائبریریاں، قومی آرکائیوز اور ذاتی کتابوں کے ذخیرے صرف ثقافتی ادارے نہیں رہیں گے بلکہ مصنوعی ذہانت کی معیشت کے بنیادی وسائل بھی سمجھے جائیں گے۔ یہی امکان اب حکومتوں، جامعات اور پبلشنگ انڈسٹری کو نئی حکمت عملی مرتب کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

تاہم اس تبدیلی کے ساتھ ایک سوال بدستور قائم ہے: اگر بہتر چیٹ بوٹس بنانے کی قیمت انسانی علمی ورثے کے اصل نسخوں کی قربانی بننے لگے، تو کیا ٹیکنالوجی کی یہ پیش رفت واقعی ترقی کہلائے گی، یا آنے والی نسلیں اسے اس دور کے سب سے بڑے ثقافتی نقصان کے طور پر یاد کریں گی؟ یہی سوال آج مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے زیادہ، انسان کے اپنے علمی مستقبل کے بارے میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK