اسپیس ایکس کے حصص میں مسلسل گراوٹ نے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت کو ایک بار پھر بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ مسک کی مجموعی دولت۷۰۰؍ارب ڈالر سے نیچے آ گئی ہے، جبکہ اپنی بلند ترین سطح سے وہ تقریباً۷۵۰؍ ارب ڈالر کی دولت کھو چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 5:01 PM IST | New York
اسپیس ایکس کے حصص میں مسلسل گراوٹ نے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت کو ایک بار پھر بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ مسک کی مجموعی دولت۷۰۰؍ارب ڈالر سے نیچے آ گئی ہے، جبکہ اپنی بلند ترین سطح سے وہ تقریباً۷۵۰؍ ارب ڈالر کی دولت کھو چکے ہیں۔
ایلون مسک کی دولت پیرکو اسپیس ایکس کے حصص میں ایک اور بڑی گراوٹ کے بعد پہلی بار دسمبر کے بعد۷۰۰؍ارب ڈالر سے نیچے آ گئی ہے۔ اس کمی نے دنیا کے امیر ترین شخص کو مختصر عرصے تک کھرب پتی رہنے کے بعد ایک کھرب ڈالر کی دولت سے مزید دور کر دیا ہے۔ فوربز کے مطابق پیر کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح ۱۰؍ بجکر ۵۰؍بجے تک اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت ۴ء۸؍فیصد گر کر تقریباً۱۰۹ء۵۰؍ڈالر رہ گئی۔ اس تازہ گراوٹ کے بعد ۱۶؍ جون کو۲۲۵ء۶۴؍ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد حصص کی قدر میں تقریباً۵۰؍ فیصد کمی ہو چکی ہے۔ مسک کے پاس اسپیس ایکس کے تقریباً۴ء۸؍ارب حصص ہیں، جبکہ مزید۳۵؍ کروڑ اسٹاک آپشنز بھی موجود ہیں۔ حصص کی قیمت میں کمی کے باعث ان کی دولت میں ۲۹ء۵؍ارب ڈالر کی کمی ہوئی اور ان کی مجموعی دولت تقریباً ۶۹۵ء۷؍ارب ڈالر رہ گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ مسک نے گزشتہ ہفتے اپنی دولت میں ہونے والی اس کمی کا اعتراف بھی کیا، جب انہوں نے ایکس پر خود کو ’’(سابق) کھرب پتی‘‘ لکھا۔ تازہ کمی کے باوجود مسک اب بھی گوگل کے شریک بانی لیری پیج، جن کی دولت کا تخمینہ۲۹۸ء۵؍ ارب ڈالر ہے، اور سرگئی برن، جن کے پاس تقریباً۲۴۷ء۱؍ارب ڈالر ہیں، سے بہت آگے ہیں۔ دونوں دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں مسک سے کافی نیچے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کرسٹل انٹیگریٹیڈ سروسیز نے فرانس کے ای ڈی ایف گروپ کی کمپنی کو خرید لیا
اسٹار شپ کی لانچنگ کے باوجود اسپیس ایکس کے حصص میں گراوٹ
اسپیس ایکس کے حصص میں یہ کمی کمپنی کی جانب سے جمعہ کو اسٹار شپ راکٹ کی کامیاب آزمائشی لانچنگ کے باوجود ہوئی۔ وال اسٹریٹ لانچ سے قبل محتاط نظر آ رہی تھی۔ جے پی مورگن کے تجزیہ کار سیٹھ سیف مین نے ہفتے کے آغاز میں ایک نوٹ میں لکھا تھا کہ تازہ ترین اسٹار شپ ٹیسٹ سے ’’بہت زیادہ تجزیہ‘‘ سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کو ۲۰۲۷ءتک مزید درجنوں لانچز کے دوران ’’پیش رفت اور ناکامیوں ‘‘ دونوں کیلئےتیار رہنا چاہئے۔ ۱۶؍ جولائی کو اسٹار شپ کی ایک لانچ منسوخ ہونے کے بعد اسپیس ایکس کے حصص کو پہلے ہی بڑا دھچکا لگ چکا تھا۔ اس واقعے کے نتیجے میں مسک کی دولت میں ۴۵؍ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی اور ان کی دولت۸۰۰؍ارب ڈالر سے بھی نیچے چلی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے سب سے دولت مند کاروباریوں نے ممبئی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے
کیا اسپیس ایکس کے حصص۱۰۰؍ ڈالر سے نیچے جا سکتے ہیں؟
اب سرمایہ کاروں کی نظر اسپیس ایکس کے حصص کی۱۰۰؍ ڈالر فی شیئر کی اہم سطح پر ہے۔ مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو کہا کہ اگر حصص۱۰۰؍ڈالر سے نیچے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ سرمایہ کار اسپیس ایکس کے مصنوعی ذہانت کے کاروبار کی کوئی قدر نہیں کر رہے۔ مسک کی دولت۱۶؍ جون کو اپنی بلند ترین سطح۱ء۴۵؍ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کے بعد تقریباً ۷۵۰؍ارب ڈالر کم ہو چکی ہے۔ اس کمی میں تقریباً۱۱۶؍ارب ڈالر کی کمی اس وقت ہوئی جب فوربز نے مسک کی دولت کے حساب سے ٹیسلا کے اسٹاک آپشنز کو نکال دیا۔ یہ تبدیلی مسک اور ٹیسلا کے درمیان طے پانے والی نئی ویسٹنگ شرائط کے بعد کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا چین کو ٹرمپ کے ٹیرف سے بچنے میں مدد دینے والے درجنوں ممالک پر الزام
اسپیس ایکس کے آئی پی او کے بعد مسک کھرب پتی بنے
مسک کی دولت نے ۲۰۲۵ءمیں کئی اہم سنگ میل عبور کئے۔ وہ پہلے۶۰۰؍ارب ڈالر اور پھر دسمبر میں ۷۰۰؍ارب ڈالر کی حد عبور کر گئے۔ اس کے بعد فروری میں ان کی دولت۸۰۰؍ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ گزشتہ ماہ اسپیس ایکس کے اسٹاک مارکیٹ میں آنے کے بعد وہ دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے۔ ۱۲؍ جون کو نیس ڈیک پر کمپنی کی شاندار ابتدائی تجارت کے نتیجے میں حصص کی قیمت تیزی سے بڑھی اور صرف چار دن بعد۲۲۵ء۶۴؍ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسپیس ایکس کے حصص میں اس اضافے نے مختصر مدت کیلئے مسک کی دولت کو۱ء۴۵؍ٹریلین ڈالر تک پہنچا دیا، جس سے وہ دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے۔ لیکن اس کے بعد سے اسٹاک کی قدر تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ خبر لکھے جانے کے وقت اسپیس ایکس کے حصص تقریباً۱۱۴؍ڈالر پر ٹریڈ کر رہے تھے، جبکہ مسک نے ۲۴؍ جولائی کو تصدیق کی تھی کہ وہ اب کھرب پتی نہیں رہے۔ اسپیس ایکس کے حصص میں ایک ماہ سے جاری گراوٹ کے باوجود بعض تجزیہ کار کمپنی کے مستقبل کے حوالے سے اب بھی پُرامید ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۹۴۷ء بمقابلہ ۲۰۲۶ء: ہندوستان میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں حیران کن اضافہ
اسپیس ایکس کے پاس۱ء۲؍ ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائن بھی ہیں
اسپیس ایکس کا کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بڑھتا ہوا کردار بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کمپنی نے ایک فائلنگ میں انکشاف کیا کہ اس کے بیلنس شیٹ میں ۱۸؍ ہزار۷۱۲؍ بٹ کوائن موجود ہیں۔ بٹ کوائن کی قیمت تقریباً۶۴؍ لاکھ۱۵؍ ہزار۱۱۱؍ ڈالر ہونے کے باعث ان اثاثوں کی مالیت تقریباً۱ء۲؍ ارب ڈالر بنتی ہے۔ اسپیس ایکس کے حصص کی گرتی ہوئی قیمت نے ہائپر لیکوئڈ پر کمپنی سے منسلک کرپٹو معاہدوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہ معاہدہ اسپیس ایکس کے حقیقی اسٹاک کی قیمت کی قریب سے پیروی کرتا ہے اور ۱۶؍جون کو۲۲۸ء۷۴؍ڈالر کی بلند ترین سطح سے تقریباً۵۰؍ فیصد گر کر۱۱۴ء۵۰؍ ڈالر کے قریب آ گیا ہے۔ گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران اس معاہدے میں ۲۲۷؍ملین ڈالر کی ٹریڈنگ ہوئی، جبکہ اوپن انٹرسٹ۱۶۴؍ ملین ڈالر رہا۔ مسک اب بھی دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، تاہم ان کی دولت۱ء۴۵؍ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح سے بہت زیادہ کم ہو چکی ہے۔