Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپر ایل نینو۵۰؍کروڑ چھوٹے کسانوں کیلئے بڑا خطرہ قرار، ماہرین کا انتباہ

Updated: June 23, 2026, 5:08 PM IST | New York

سپر ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ یہ موسمیاتی واقعہ عالمی زرعی پیداوار کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور کروڑوں چھوٹے کسانوں کی معاش کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

 سپر ایل نینو (Super El Niño) کے موسمیاتی واقعے کے نتیجے میں عالمی زرعی پیداوار کو ۳۴۲؍ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچ سکتا ہے، اور دنیا بھر کے۵۰؍ کروڑ چھوٹے کسانوں کیلئے یہ ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ بات نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ ایل نینو دنیا بھر میں موسمی نمونوں کو متاثر کرتا ہے، اور جتنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اتنا ہی انسانی صحت، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ موسمی ماہرین کا اندازہ ہے کہ آنے والی سردیوں تک یہ ایک ’’انتہائی طاقتور‘‘یا ’’سپر ایل نینو‘‘ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ مالی نقصان کا تخمینہ تحقیقی ادارے Risilience نے لگایا ہے، جو Tesco، Nestlé اور Inditex (Zara کی مالک کمپنی) جیسی بڑی کمپنیوں کیلئے موسمیاتی خطرات کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ تخمینہ۱۱؍اہم غذائی اجناس کی پیداوار میں ممکنہ کمی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے میں گھر گھر تلاشی ، متعدد فلسطینی گرفتار

ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کیلئے خطرہ
کیمرج یونیورسٹی کے ماہر اور Risilience کے چیئرمین ڈاکٹر اینڈریو ولیم کوبرن کے مطابق:’’جن چھوٹے کسانوں پر ہماری خوراک کا انحصار ہے، وہ کچھ حد تک خود کو حالات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، لیکن اگر وہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں رہتے ہوں تو ان پر تباہی کا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا۔ ہمیں فوری طور پر ان کیلئے حفاظتی انتظامات کرنے ہوں گے۔ ‘‘Risilience کی پیش گوئی کے مطابق ۱۱؍اہم زرعی شعبوں، جن میں اناج، خوردنی تیل، کافی، کوکو، دودھ اور مویشی شامل ہیں، کی پیداوار میں ۱۴؍ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ 
ایل نینو کیا ہے؟
امریکی ادارہ NOAA (National Oceanic and Atmospheric Administration) نے تصدیق کی ہے کہ ۲۰۲۶ءمیں ایل نینو کا واقعہ رونما ہوگا۔ یہ ایک موسمیاتی رجحان ہے جس میں بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں بارشوں کے انداز تبدیل ہو جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی نے ان واقعات کو مزید شدید بنا دیا ہے، جس کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور تباہ کن سیلابوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران کے درمیان گفتگو مثبت رہی، اگلا دور جلد متوقع

خوراک کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
Risilience کے مطابق:بنیادی غذائی اجناس کی قیمتیں ۵۰؍ سے ۱۰۰؍ فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ اگر ہندوستان، ویتنام اور تھائی لینڈ چاول کی برآمدات پر پابندیاں عائد کرتے ہیں تو عالمی منڈی سے لاکھوں ٹن چاول غائب ہو سکتے ہیں۔ 
اقوام متحدہ کی وارننگ
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ عالمی غذائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امیر ممالک کی جانب سے امدادی رقوم میں پہلے ہی کمی آ چکی ہے۔ اس ہفتے اقوام متحدہ کے خوراک سے متعلق اداروں نے ۲۰۲؍ ملین ڈالر کی ہنگامی اپیل جاری کی تاکہ۸۸؍ لاکھ افراد کو ایل نینو کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔ اس میں ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning Systems) اور کسانوں کیلئے نقد امداد شامل ہو سکتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاو نے کہا:’’ایل نینو کے آنے سے پہلے ہمارے پاس کارروائی کیلئے بہت کم وقت ہے تاکہ خاندانوں کو بعد میں مشکل فیصلے کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ ہم ایک اور غذائی بحران کے نتائج برداشت نہیں کر سکتے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا مستعفی ہونے کا اعلان

کمپنیوں کی تیاری
Risilience کمپنیوں کو ممکنہ سپلائی چین بحرانوں کیلئےمنصوبہ بندی میں مدد دے رہی ہے، جیسے:خوراک کے ذخائر میں اضافہ، سپلائرز کا تنوع اورفصلوں کی انشورنس، جبکہ کسانوں کی مددکیلئے، خشک سالی برداشت کرنے والے بیج، تربیتی پروگرام، آمدنی کے متبادل ذرائع فراہم کئےجا سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کیلئے مالی وسائل دستیاب ہوں۔ 
برطانیہ میں نئے قوانین کا مطالبہ
فیئر ٹریڈ فاؤنڈیشن کی ایڈووکیسی ڈائریکٹر میری رمزبی نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ برطانیہ کو لازمی انسانی حقوق اور ماحولیاتی جانچ پڑتال (HREDD) کا قانون متعارف کرانا چاہئے، جس کے تحت کمپنیوں کو اپنی سپلائی چین میں انسانی حقوق اور ماحولیات سے متعلق مسائل کی نگرانی اور اصلاح کا پابند بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا:’’موسمیاتی تبدیلی کے سب سے سنگین اثرات ان لوگوں پر پڑ رہے ہیں جو عالمی معیشت کو خوراک اور خام مال فراہم کرتے ہیں، حالانکہ انہوں نے اس بحران میں سب سے کم کردار ادا کیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں حملے روکنے کی ہدایت جاری کردی

برطانیہ کے صارفین پر اثرات
سپر ایل نینو کے باعث برطانیہ میں بھی خوراک مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ 
انرجی اینڈ کلائمیٹ انٹیلی جنس یونٹ (ECIU) کے گارتھ ریڈمنڈ کنگ کے مطابق:’’موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی دو سال کے دوران برطانیہ کے اوسط گھرانے کے خوراکی اخراجات میں تقریباً ۳۶۰؍پاؤنڈ کا اضافہ کر چکی ہے۔ کافی اور کوکو جیسی اشیاء خاص طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ:’’اس مسئلے کا سب سے مؤثر حل نیٹ زیرو (Net Zero) کے اہداف حاصل کرنا ہے، کیونکہ یہی موسمیاتی تبدیلی کو روکنے اور مستقبل میں ایل نینو جیسے واقعات کے اثرات کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ ‘‘
حکومتی مؤقف
برطانیہ کے محکمہ تجارت و کاروبار کے ترجمان نے کہا:’’حکومت جبری مشقت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ماحولیاتی استحصال، رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہے۔ اسی مقصد کیلئے ذمہ دار کاروباری رویوں (Responsible Business Conduct) کا جائزہ شروع کیا گیا تھا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ:’’یہ جائزہ تیزی سے جاری ہے، اور مکمل ہونے پر وزراء پارلیمنٹ کو آگاہ کریں گے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK