Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مراٹھی سیکھنے کی بجائے ہڑتال کی دھمکی ناقابل قبول‘‘

Updated: April 26, 2026, 11:45 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

ممبئی ڈبہ والااسوسی ایشن کا نیا شوشہ،کہا کہ جن ڈرائیوروںکومراٹھی نہیں آتی ،وہ اپنی روزی کیلئے مہاراشٹر کی قومی زبان سیکھیں، اگر ہڑتال کی گئی تو ڈبہ والے ممبئی کی سڑکوںپر آٹورکشا اور ٹیکسی چلانےکیلئے حاضر ہیں، بتایا کہ انہوں نے بھی اپنے صارفین کیلئےہندی اورگجراتی سیکھی ہے۔

Around 5,000 dabbawalas are providing their services in Mumbai. (File photo)
ممبئی میں کم وبیش ۵؍ ہزار ڈبہ والے اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

شہر و مضا فات میں مراٹھی لکھنے پڑھنے اور بولنے کی سیاست روز بروز گرم ہو رہی ہے ۔اس تعلق سے ممبئی ڈبہ والا اسوسی ایشن نے ایک نیا شوشہ چھوڑاہے ۔ ڈبہ والوں کے مطابق اگر بیرونِ ریاست کے آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور وںنے اپنی روزی روٹی کیلئے مراٹھی نہیں سیکھی توڈبہ والے ممبئی کی سڑکوںپر آٹورکشا اور ٹیکسی چلائیں گے۔

ممبئی ڈبہ والااسوسی ایشن کےمطابق غیر مراٹھی ڈرائیور اس ضمن میں سمجھوتہ کرنے کے بجائےغیر معینہ ہڑتال کی دھمکی دے رہیں۔ اسے برداشت نہیں کیاجائے گا۔ ایسے میں حکومت سے رعایتی فیس پر آٹورکشا اور ٹیکسی کاپرمٹ جاری کرنے کی اپیل ہے ،ڈبہ والے ممبئی کی سڑکوںپر آٹورکشا اور ٹیکسی چلانےکیلئے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بھگوا عناصر کا چہیتا اسلام دشمن سلیم واستک قتل کا مفرور مجرم نکلا

واضح رہے کہ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے یکم مئی سے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی لکھنا ،پڑھنا آنا لازمی قرار دیا ہے اور جن ڈرائیوروں کو مراٹھی نہیں آتی ، ان کے لائسنس منسوخ کر نےکا ا نتباہ بھی دیا ہے۔

ممبئی ڈبہ والا ایشوسی ایشن کے صدر سبھاش تیلیکر نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریاستی حکومت نےان آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوں کیلئے مراٹھی لکھنا ،پڑھنا اور بولنا لازقی قرار دیا ہے جنہیں مراٹھی نہیں آتی ہے ۔ حکومت کے اس فیصلہ کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں ۔بیرونِ ریاست کے جن ڈرائیوروں کو مراٹھی نہیں آتی ، انہیں اپنے کاروبار کیلئے مہاراشٹر کی قومی زبان مراٹھی سیکھنی چاہئے ۔ ہماری ان ڈرائیوروں سے اپیل ہے کہ اگر وہ مہاراشٹر میں کاروبا ر کر رہے ہیں تو انہیں اپنے صارف سے بات چیت کرنے کیلئے مراٹھی آنی چاہئے تاکہ کاروبار کرنے میںآپ کو اور ان صارف کو آسانی ہو،جن سے آپ کی روزی روٹی وابستہ ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ چونکہ ہمارا تعلق مہاراشٹر سے ہے ،اس لئے ہمیں مراٹھی آتی ہے ، لیکن ہمارے گاہکوں میں گجراتی اور ہندی بولنے والے بھی شامل ہیں ،اس لئے ہم نے صارف کی سہولت کیلئے ٹوٹی پھوٹی ہی سہی لیکن ہندی اور گجراتی سیکھی ہے ،اسی طرح غیر صوبائی ڈرائیو روں کو بھی اپنے کام کاج کیلئے بنیادی مراٹھی تو آنی چاہئے ۔ اسی میں ان کی بھلائی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غازی پور میں کمسن کی آبرویزی اور قتل پر وزیراعظم کے دورہ کے پیش نظر ہنگامہ

سبھاش تیلیکر کے مطابق ’’ مراٹھی سیکھنے کی کوشش کرنے کے بجائے غیر صوبائی آٹورکشا اور ٹیکسی ڈرائیور بے مدت ہڑتال پر جانے کی دھمکی دے رہے ہیں، جو غیرمناسب بات ہے ۔اگر وہ ہڑتال پر جاتے ہیں تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ مراٹھی مانوس، آٹواورٹیکسی چلانےمیں پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ ڈبہ والے آٹو رکشا اور ٹیکسی چلانے کیلئے تیار ہیں۔ حکومت ڈبہ والوں کو رعایتی فیس پر آٹو اور ٹیکسی کی پرمٹ فراہم کرنے سہولت مہیا کرے ، رکشا اور ٹیکسی کیلئے قرض دے ، ڈبہ والے عوام کے خدمت میں ظاہر ہوں گے ۔‘‘

  ایک سوال کے جواب میں سبھاش تیلیکر نے کہا کہ ’’ ویسے بھی کورونا کی وباء کے بعد تقریباً ۳؍ہزار ڈبہ والے بے روزگاری کا شکارہیں۔ ہم انہیں ڈرائیونگ کی تربیت دے کر روزگار فراہم کریں گے ۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK