Updated: October 24, 2026, 10:11 PM IST
| Lucknow
امریکی خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی تحقیق کے مطابق، اتر پردیش میں ۲۰۲۰ء سے جن افراد کو گائے کی اسمگلنگ، مویشیوں کے ذبیحے یا گائے کے گوشت کی فروخت سے متعلق الزامات کے تحت پولیس کارروائیوں میں گولی لگی، ان میں مذہبی شناخت معلوم ہونے والے ۶۲۷؍ افراد میں سے تقریباً ۹۳؍ فیصد مسلمان تھے۔ واشنگٹن میں قائم تحقیقی ادارے سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے تقریباً ۶۵۰؍ واقعات کا ریکارڈ مرتب کیا، جس کے ایک حصے کی اے پی نے آزادانہ جانچ بھی کی۔
اتر پردیش میں گائے کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کے مذہبی پس منظر سے متعلق یہ اعدادوشمار ریاست میں پولیس کے اختیارات، قانون کے یکساں نفاذ اور اقلیتی برادریوں کے تحفظ پر نئے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ اے پی کی تحقیق کے مطابق، سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے جنوری ۲۰۲۰ء سے جنوری ۲۰۲۶ء تک پولیس کی جانب سے مشتہر کیے گئے ایسے ۶۴۵؍ واقعات کا ریکارڈ جمع کیا، جن میں مویشیوں کی اسمگلنگ، ذبیحے یا گائے کے گوشت کی فروخت کے الزامات سے متعلق کارروائیوں کے دوران مشتبہ افراد کو گولی لگی۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر تقریباً۷۷۲؍ متاثرین کی نشاندہی کی گئی، جبکہ ۶۲۷؍ افراد کے نام یا دیگر شناختی معلومات دستیاب تھیں۔ مذہبی شناخت کے قابل ان افراد میں ۹۳؍ فیصد مسلمان تھے۔ اس تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ ۹۳؍ فیصد کا تناسب تمام واقعات میں زخمی ہونے والے ہر شخص کی مذہبی شناخت کی تصدیق پر مبنی نہیں، بلکہ ان ۶۲۷؍ افراد سے متعلق ہے جن کی شناخت دستیاب معلومات کی مدد سے کی جاسکی۔ تحقیق میں تقریباً ۷۵؍ فیصد متاثرین مسلمان، ۶؍ فیصد ہندو اور ۱۹؍ فیصد ایسے تھے جن کی مذہبی شناخت معلوم نہیں ہوسکی، یہ تناسب مجموعی طور پر درج متاثرین کے چارٹ میں دکھایا گیا ہے۔ اس لیے دونوں اعدادوشمار میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے: ۹۳؍ فیصد شناخت شدہ افراد کا تناسب ہے، جبکہ ۷۵؍ فیصد مجموعی ریکارڈ میں مسلمانوں کا حصہ ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رام کدم کے پاس آڈیو کلپ کی تاریخ کہاں سے آئی؟: منوج جرنگے
اے پی نے سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے مرتب کردہ ریکارڈ میں سے ۲۰۰؍ سے زیادہ واقعات کا آزادانہ جائزہ لیا۔ اس کے لیے ایف آئی آر، پولیس کے پریس نوٹس اور ضلعی پولیس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع ہونے والی تفصیلات دیکھی گئیں۔ تحقیق کے مطابق، یہ اعدادوشمار مکمل تصویر نہیں بھی ہوسکتے، کیونکہ ریکارڈ بنیادی طور پر ان واقعات پر مشتمل ہے جنہیں پولیس نے خود عوامی طور پر مشتہر کیا تھا۔ اس کے باوجود، مرتب شدہ مواد میں بار بار سامنے آنے والا ایک پہلو زخمی افراد کو ٹانگ میں گولی لگنا تھا، جس نے پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کے طریقۂ کار پر سوالات کو جنم دیا۔ تحقیق میں درج واقعات کی سالانہ تعداد بھی نمایاں تبدیلی دکھاتی ہے۔ دستیاب گراف کے مطابق ۲۰۲۰ء میں ۵۳، ۲۰۲۱ء میں ۳۶، ۲۰۲۲ء میں ۳۲، ۲۰۲۳ء میں ۸۰، ۲۰۲۴ء میں ۲۳۱؍ اور ۲۰۲۵ء میں ۱۹۹؍ واقعات درج کیے گئے۔ یوں ۲۰۲۴ء میں تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ ۲۰۲۵ء میں یہ کم ہوکر بھی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ ان اعداد کو سمجھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ تحقیق میں شامل اور دستیاب پولیس ریکارڈ پر مبنی واقعات ہیں؛ ان سے ریاست میں ہونے والی ہر فائرنگ یا پولیس کے ہر تصادم کی مکمل تعداد اخذ نہیں کی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ میں طلبہ کی شدید کمی، ضلع پریشد کے۳۶۰؍ اسکول بند ہونے کے دہانے پر
اس تحقیق میں گولی لگنے کے مقام پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ متعدد واقعات میں مشتبہ افراد کی ٹانگ، خصوصاً گھٹنے سے نیچے، زخمی ہوئی۔ پولیس کے سوشل میڈیا بیانات میں عموماً بتایا گیا کہ ملزم فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا، پولیس پر فائرنگ کی گئی اور اہلکاروں نے جوابی کارروائی میں اسے زخمی کردیا۔ لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر فائرنگ واقعی فوری دفاع میں کی گئی تو متعدد واقعات میں زخموں کا مقام اتنا یکساں کیوں رہا۔ اتر پردیش میں فارنسک طب کے ایک ماہر ڈاکٹر محمد کلیم خان نے اے پی سے گفتگو میں کہا کہ کسی بھاگتے ہوئے شخص کی پنڈلی میں اس انداز سے گولی لگنا، خصوصاً اگر ہڈی متاثر نہ ہو، حالات کے لحاظ سے غیر معمولی ہوسکتا ہے اور قریب سے جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا امکان پیدا کرتا ہے۔ یہ ماہر کی رائے ہے، کسی مخصوص واقعے کے بارے میں عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ اتر پردیش پولیس کے سینئر افسر امیتابھ یش نے اے پی سے گفتگو میں کہا کہ پولیس اہلکاروں کو صرف اپنے دفاع میں طاقت استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پولیس کو ملزموں کی ٹانگوں میں گولی مارنے کا کوئی حکم دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے زخموں کے مسلسل سامنے آنے کے بارے میں مناسب شکایت موصول ہو تو اس کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ یش نے یہ دلیل بھی دی کہ گائے کی اسمگلنگ سے متعلق کاروبار میں مسلمانوں کی نمایاں موجودگی اس تناسب کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ تصادم کے دوران کارروائی حالات کے مطابق کی جاتی ہے، جبکہ ناقدین اس کے طریقۂ کار اور احتساب کے نظام پر سوال اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اشوک سین کو فزکس کا باوقار آسکر کلین میڈل، پہلے ہندوستانی سائنسداں بنے
اس بحث کا تعلق اتر پردیش میں پولیس تصادم کے وسیع تر ریکارڈ سے بھی ہے۔ اے پی کے مطابق، مارچ ۲۰۱۷ء میں یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے سے لے کر ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک ریاستی پولیس کے اعدادوشمار میں تصادم کے دوران ۳۱۶؍ مشتبہ افراد کی ہلاکتیں درج کی گئیں، جن میں ۱۱۰؍ مسلمان تھے۔ یہ تعداد اس عرصے میں تصادم کے دوران ہلاک ہونے والے افراد سے متعلق ہے؛ اسے گائے کی اسمگلنگ کے الزامات میں زخمی ہونے والے افراد کے الگ ڈیٹا کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ ریاستی پولیس کے مطابق، سخت کارروائی سے جرائم پیشہ عناصر میں خوف پیدا ہوا اور عام لوگوں کے تحفظ کا احساس مضبوط ہوا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر کارروائی کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض وکلا کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پولیس کی گولی سے کتنے افراد زخمی ہوئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ہر واقعے کی غیر جانب دارانہ جانچ ہوتی ہے اور کیا طاقت کا استعمال قانونی ضرورت کے مطابق تھا۔ نئی دہلی میں انسانی حقوق کی وکیل منگلا ورما نے اے پی سے گفتگو میں کہا کہ ایسے واقعات میں کارروائی ایک معمول کی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے، جہاں تفتیش اور عدالتی عمل سے پہلے ہی ملزم کو گولی مار کر زخمی کردیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر کسی شخص پر جرم کا الزام ہے تو اس کا فیصلہ قانونی طریقۂ کار اور عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ محض پولیس کارروائی کی بنیاد پر۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں مرکزی دستوں کی تعیناتی میں توسیع
رپورٹ میں ان خاندانوں کی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں جن کے افراد پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ اے پی نے چھ مسلم خاندانوں سے بات کی جن کے مرد افراد ٹانگوں میں گولی لگنے کے بعد یا تو جیل میں تھے یا روپوش زندگی گزار رہے تھے۔ بعض خاندانوں کے مطابق، زخمی افراد پہلے مویشیوں کی خرید و فروخت یا دوسرے کاموں سے گھر چلاتے تھے، لیکن ٹانگ میں شدید چوٹ لگنے کے بعد روزگار جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی ٹانگ میں گولی لگنے کے بعد سوجن بڑھ گئی اور اب خاندان دوسروں کی مدد پر انحصار کررہا ہے۔ دوسری خاتون کے مطابق، ان کے بیٹے کے دونوں گھٹنوں میں گولی لگی، جس کے بعد خاندان کو اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑا۔ خاندانوں نے خوف کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر راقیب نائک نے کہا کہ ادارے کی جانب سے جمع کیے گئے سیکڑوں واقعات کے شواہد اس تشویش کو بڑھاتے ہیں کہ ریاستی ادارے، بالخصوص قانون نافذ کرنے والے ادارے، مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ ادارے کی تحقیق اور اس کے سربراہ کا تجزیہ ہے؛ اسے ہر انفرادی پولیس کارروائی کے بارے میں حتمی عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ تاہم، تحقیق میں شناخت شدہ افراد کے مذہبی تناسب، ٹانگوں میں گولی لگنے کے بار بار سامنے آنے والے انداز اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات نے پولیس کے احتساب اور شہریوں کے قانونی حقوق سے متعلق بحث کو پھر نمایاں کردیا ہے۔