Updated: September 30, 2026, 9:04 AM IST
| Washington
امریکہ میں ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز بیانیے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں انہیں ملازمتیں چھیننے اور امریکی معاشرے کیلئے خطرہ قرار دینے جیسے الزامات شامل ہیں۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق سیاسی بیانات، امیگریشن پالیسیوں، معاشی بے چینی اور سوشل میڈیا نے جنوبی ایشیائی باشندوں کے خلاف تعصب اور نفرت کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ میں ہندوستانی، بنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مواد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس رجحان کی بڑی وجوہات میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اور ان کا سیاسی بیانیہ، معاشی بے چینی اور امریکی معاشرے میں جنوبی ایشیائی برادری کی بڑھتی ہوئی نمایاں موجودگی شامل ہیں۔ ’دی رائزنگ ٹائیڈ آف اینٹی ساؤتھ ایشین ہیٹ اِن دی یونائیٹڈ اسٹیٹس‘ کے عنوان سے سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کی جانب سے اتوار کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکہ میں جنوبی ایشیائی باشندوں کے خلاف نفرت انگیز پوسٹس کی ماہانہ تعداد جنوری ۲۰۲۴ءسے جون ۲۰۲۶ءکے درمیان۲۴۰؍ فیصد بڑھ گئی۔ جنوری۲۰۲۴ءمیں ایسی پوسٹس کی تعداد۱۲؍ ہزار۹۰۴؍ تھی، جو جون ۲۰۲۶ءمیں بڑھ کر۴۳؍ ہزار۸۴۳؍ ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ سیٹیلائٹ تصاویر: اسرائیل کی نسل کش جنگ میں پورے رہائشی بلاکس نقشے سے مٹ گئے
محققین کے مطابق صرف جنوری ۲۰۲۵ءسے جون۲۰۲۶ء کے دوران ’ایکس‘ پر امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیائی باشندوں کے خلاف ۵؍لاکھ۴۲؍ ہزار سے زائد نفرت انگیز پوسٹس کی نشاندہی کی گئی۔ اس عرصے کے آخری مہینوں میں نفرت انگیز پوسٹس کے حجم کے لحاظ سے چھ میں سے پانچ مہینے سب سے زیادہ رہے۔ تحقیق میں اقوام متحدہ کی جانب سے وضع کردہ نفرت انگیز تقریر کی تعریف کو بنیاد بنایا گیا۔ محققین نے آن لائن استعمال ہونے والی جنوبی ایشیائی مخالف گالیوں اور بیانیوں کا جائزہ لیا اور ایسی پوسٹس کو الگ کردیا جن میں صرف تنقید کی گئی تھی اور جو اقوام متحدہ کے مقرر کردہ معیار پر نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں نہیں آتی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً نصف نفرت انگیز پوسٹس میں جنوبی ایشیائی باشندوں پر امریکہ پر ’قبضہ کرنے‘، امریکیوں کی ملازمتیں چھیننے یا ملک کے آبادیاتی توازن کیلئے خطرہ بننے کے الزامات عائد کئےگئے۔ ’پاجیت‘ اور اس کی مختلف شکلوں پر مشتمل توہین آمیز لفظ ’ایکس‘ پر موجود تقریباً۳۰؍ فیصد نفرت انگیز پوسٹس، جبکہ بعض انتہائی حاشیائی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر۴۵؍ فیصد پوسٹس میں استعمال ہوا۔
’ایکس‘ پر جنوبی ایشیائی باشندوں کو گندے یا غیر صحت مند قرار دینے والے مواد میں ۱۷۱؍فیصد اضافہ ہوا، جو تمام نفرت انگیز بیانیوں میں سب سے تیز رفتار اضافہ تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نفرت انگیز مواد میں جنوبی ایشیا کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کو اکثر ایک ہی گروہ سمجھا گیا۔ ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی باشندوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کیا گیا، جبکہ ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کو بھی ایک ہی گروہ کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کیلئے ثالثی کوششیں تیز: رپورٹ
آخر اب ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہندوستانیوں، بنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں کے خلاف نسل پرستی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، تاہم موجودہ اضافے کے پیچھے پرانے تعصبات کے ساتھ ساتھ نئے سیاسی اور معاشی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ رپورٹ میں ایچ ون بی ویزا پروگرام کو ایک اہم تنازع قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت امریکی ادارے ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دے سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایچ ون بی ویزا رکھنے والوں میں ۷۰؍ فیصد سے زیادہ ہندوستانی شہری ہیں۔ محققین نے اس پروگرام پر ہونے والی سیاسی کشمکش اور جنوبی ایشیائی مخالف نفرت میں اضافے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔
مثال کے طور پر ستمبر۲۰۲۵ء میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بعض نئے ایچ ون بی درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی شرط عائد کئے جانے کے وقت آن لائن نفرت انگیز بیانیے میں اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ’’اس طرح کے اقدامات ایک طاقتور علامتی کردار ادا کرتے ہیں اور بالآخر ٹرمپ کے حامیوں میں جنوبی ایشیائی باشندوں کے خلاف پہلے سے موجود مخالفت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ ‘‘رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی بیانیے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جولائی۲۰۲۵ء میں ایک مصنوعی ذہانت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ہندوستان کو ملازمتیں منتقل کرنے پر تنقید کی تھی۔ محققین کے مطابق اس بیان کے بعد آن لائن جنوبی ایشیائی مخالف بیانیے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ممالک کی بات سب سے کم سنی جاتی ہے‘‘
حالیہ مثالوں میں رپورٹ نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیوریٹی کی جانب سے کی گئی ایک پوسٹ کا بھی حوالہ دیا، جسے بعد میں حذف کردیا گیا۔ ’Transformers: Age of Deportations‘ کے عنوان سے اس پوسٹ میں ایک سکھ شخص کو ’مسٹر سنگھ‘ کے نام سے دکھاتے ہوئے اسے ’’ہماری سڑکوں سے نکل جانے‘‘ کا پیغام دیا گیا تھا۔ اس کے چند روز بعد محکمہ تعلیم نے ’Make College Football Great Again‘ کے عنوان سے ایک پوسٹ کی۔ اس سے قبل ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سیاست دان بو فرنچ نے یونیورسٹی آف ٹیکساس کے فٹ بال میچ میں جنوبی ایشیائی باشندوں کی موجودگی پر شکایت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس طرح کا بیانیہ جنوبی ایشیائی باشندوں کو ایسے ’بیرونی افراد‘ کے طور پر پیش کرتا ہے جو ’’کبھی بھی اس ملک کا حقیقی حصہ نہیں بن سکتے‘‘۔
یہ بھی پڑھئے: یواین کاغیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمی میں ملوث فہرست میں۶۱ ؍کمپنی کااضافہ
’ماڈل اقلیت‘ سے ملازمتیں چھیننے والوں تک
محققین کے مطابق معاشی ناراضی بھی اس رجحان کی ایک اہم وجہ ہے۔ بعض جنوبی ایشیائی باشندوں کی کامیابی کو بھی اب ان کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہند نژاد امریکیوں کو ماضی میں ’ماڈل اقلیت‘ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، لیکن اب انہیں ’موقع پرست اور دھوکے باز‘ قرار دینے والے بیانیے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی باشندوں کو ملازمتوں اور معیشت سے متعلق عوامی غصے کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ اسی دوران امریکہ کی سیاست میں جنوبی ایشیائی برادری کی موجودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ سابق نائب صدر کمالا ہیرس، نیویارک کے میئر ظہران ممدانی، نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ اوشا وینس اور سیاستدان وویک رامسوامی اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
رپورٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خلاف نسل پرستانہ حملوں کی بھی دستاویز پیش کی گئی ہے۔ محققین کے مطابق ظہران ممدانی کی پرائمری اور میئر کے انتخابات میں کامیابی کے بعد جنوبی ایشیائی مخالف اور اسلاموفوبک آن لائن مواد میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ دونوں رجحانات اکثریتی آبادی میں اپنی حیثیت یا سماجی مرتبے کے کم ہونے کے خدشات سے بھی جڑ رہے ہیں اور ’گریٹ ریپلیسمنٹ تھیوری‘ کو تقویت دے رہے ہیں۔ یہ ایک سازشی نظریہ ہے جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مغربی ممالک کی سفید فام آبادی کو ایک منظم منصوبے کے تحت دوسری آبادیوں سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہم پر دوبارہ حملہ کیاگیا تو جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے:ایران
سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کا کردار
رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا نے ان نفرت انگیز بیانیوں کو مخصوص افراد کے خلاف ہراسانی میں تبدیل کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ محققین نے ’ایکس‘ پر ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جو جنوبی ایشیائی باشندوں پر ملازمتیں چھیننے یا ویزا فراڈ میں ملوث ہونے کے الزامات لگا کر ان کی ذاتی معلومات عام کرتے ہیں۔ بعض انفلوئنسرز نے لوگوں کے گھروں اور کام کی جگہوں پر جا کر ان کا سامنا کیا اور ان واقعات کی ویڈیوز آن لائن پوسٹ کیں۔ کسی شخص کا گھر کا پتہ یا دیگر نجی معلومات آن لائن ظاہر کرنا ’ڈاکسنگ‘ کہلاتا ہے۔ رپورٹ میں ایک مثال دائیں بازو کی انفلوئنسر سارہ گونزالیز کی بھی دی گئی ہے، جنہوں نے۵؍ لاکھ سے زیادہ فالوورز کے سامنے ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں انہوں نے ایک جنوبی ایشیائی شخص کو ہراساں کیا جس پرایچ ون بی پروگرام سے فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نوئیڈا کی ڈی ایم کا معاملہ: آکرتی چودھری کی حراست کو رد کرنے کےفیصلے پر روک نہیں
محققین کا کہنا ہے کہ جنریٹو اے آئی نے بھی اس طرح کا نفرت انگیز مواد تیار کرنا مزید آسان بنا دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنوبی ایشیائی باشندوں کو ’گندا اور غیر صاف ستھرا‘، جنسی طور پر جارحانہ، ثقافتی طور پر پسماندہ یا آبادیاتی خطرے کے طور پر پیش کرنے والی تصاویر اور مواد تیار کئےجا رہے ہیں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اگرچہ تحقیق میں بنیادی طور پر آن لائن نفرت کا جائزہ لیا گیا ہے، لیکن آن لائن نفرت ’آف لائن دشمنی سے الگ نہیں ‘ ہے۔ رپورٹ میں جولائی کے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں ریاست یوٹاہ کے ایک شاپنگ مال میں کام کرنے والے بھارتی مسلمان ملازم کو بار بار چاقو مارا گیا۔ وفاقی استغاثہ نے اس حملے کو نفرت پر مبنی جرم قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔ ستمبر میں ریاست وائیومنگ کے ایک ٹرک اسٹاپ پر ایک سکھ ٹرک ڈرائیور کو ۱۷؍ مرتبہ چاقو مارا گیا۔ محققین کے مطابق، ’’آن لائن اور آف لائن نفرت ایک دوسرے کو تقویت دے سکتی ہیں، کیونکہ دقیانوسی تصورات، بیانیے اور کسی گروہ کو بدنام کرنے کے طریقے ڈجیٹل پلیٹ فارمز، سیاسی گفتگو، میڈیا اور روزمرہ زندگی کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ‘‘