مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کے حوالے سے تھانے کلکٹر نےکہا کہ ایسے افراد کوعوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۳۱؍ کے مطابق ایک سال کی قیدیا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 12:57 PM IST | Iqbal Ansari | Thane
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کے حوالے سے تھانے کلکٹر نےکہا کہ ایسے افراد کوعوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۳۱؍ کے مطابق ایک سال کی قیدیا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
تھانے ضلع کےکلکٹر اور ضلع الیکشن افسر ڈاکٹر شری کرشنا پنچال نے سنیچر کو پریس کانفرنس کی اور چیف الیکٹورل آفیسر کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹروں سے درخواست کی کہ وہ کسی ایک ووٹر لسٹ میں ہی اپنا نام باقی رکھے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ کسی اسمبلی حلقے کا کوئی بھی ووٹر مذکورہ فہرست میں کسی بھی اندراج کو خارج کرنے کیلئے فارم۷؍بھر کر اپنا اعتراض ظاہرکر سکتا ہےلیکن اگر ووٹر لسٹ میں نام کی شمولیت، تصحیح یا اخراج کیلئے درخواست دیتے وقت کوئی جھوٹا دعویٰ پیش کیا جاتا ہے تواس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۳۱؍ کے مطابق متعلقہ شخص کو ایک سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اس پریس کانفرنس میں کلکٹر شری کرشن پنچال نے کسانوں کے قرض معافی اسکیم کے نفاذ کا جائزہ بھی پیش کیا ۔
ڈاکٹر شری کرشنا پنچال نے ضلع کلکٹریٹ کے کمیٹی ہال میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کی قرض معافی اسکیم ’ پُنیہ شلوک اہلیا دیوی ہولکر شیتکاری قرض مکتی یوجنا ‘اور انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کی مہم ’ ایس آئی آر‘کے نفاذ کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے تعلق سے تفصیل بتائی۔پریس کانفرنس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر ویشالی مانے، ضلع ڈپٹی رجسٹرار کشور منڈے اور تحصیلدار پردیپ کدل سمیت متعلقہ افسران موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: مخالفت کے باوجود ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کے رجسٹریشن کاعمل جاری
تھانے ضلع کلکٹر کے مطابق مہاراشٹر چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ ریاست مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی مہم ’ ایس آئی آر‘ کا کام جاری ہے اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق موجودہ ووٹر لسٹ میں شامل ووٹروں کو ۱۷؍ اگست ۲۰۲۶ءتک انومریشن فارم (گنتی کا فارم) پُر کرنا ہوگا اور متعلقہ بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او) کے پاس جمع کرانا ہوگا جو گھر کا دورہ کریں گے۔۲۴؍اگست ۲۰۲۶ء کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی اور اس میں انومریشن فارم بھرنے والے ووٹروں کے نام شامل کئے جائیں گے۔
’’ایک ہی ووٹر لسٹ میں نام درج کریں‘‘
اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء کے سیکشن ۱۷؍ اور ۱۸؍ کے مطابق کوئی بھی شخص ایک سے زیادہ جگہوں پر ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج نہیں کرا سکتا۔ لہٰذا جن ووٹروں کے نام موجودہ ووٹر لسٹ میں ایک سے زیادہ جگہوں پر ہیں، وہ کسی ایک اسمبلی حلقہ میں ہی نام رکھنے کیلئے انومریشن فارم بھرے۔ جس دوسری جگہ کی ووٹر لسٹ میں ان کا نام درج ہے، وہاں کے بی ایل او کو یہ بتا دیں کہ ان کا نام دوسری جگہ کی ووٹر لسٹ میںدرج ( اِنرولڈ) ہےاور اس طرح دوسری جگہ کی ووٹر میں نام شامل نہیں کیا جائے گا۔ یہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ رجسٹریشن آفیسر (آر او)کے دفتر کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن آف انڈیا / چیف الیکٹورل آفیسر کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔
ووٹر لسٹ میں نام درج کرنے کا موقع
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفس سے جاری کردہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اہل ووٹرز جن کے نام مندرجہ بالا ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں نہیں ہوں گے یا جو نئے ووٹر ہیں، وہ۲۴؍ اگست سے ۲۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کیلئے فارم ۶ ( ضروری دستاویزات کے ساتھ) بھر سکیں گے۔ مذکورہ درخواست کی تصدیق الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کرے گا اور اہل ووٹرز کے نام حتمی انتخابی فہرست میں شامل کئے جائیں گے۔ اس ایک ماہ کی مدت (دعوے اور اعتراض کی مدت) کے دوران، متعلقہ ووٹر انتخابی فہرست میں اپنا نام شامل کرنے یا اندراجات میں تصحیح کرنے کیلئے بالترتیب فارم۶؍ یا ۸؍ پُر کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہا ٹی ای ٹی میں حجاب و نقاب پر پابندی: ’جی آئی او‘ کی سونیترا پوار سے ملاقات
نام خارج کرنے کیلئے فارم ۷؍ پُر کرنا ہوگا
چیف الیکٹورل آفیسر کے اعلامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے تھانے ضلع کلکٹر اور ضلع الیکشن افسر ڈاکٹر شری کرشنا پنچال نے کہا کہ کسی اسمبلی حلقے کا کوئی بھی ووٹر مذکورہ فہرست میں کسی بھی اندراج کو خارج کرنے کیلئے فارم۷؍بھر کر اپنا اعتراض ظاہر کر سکتا ہے۔فارم ۷؍ موصول ہونے کی بعدمتعلقہ الیکٹورل آفیسر کی جانب سے اس ووٹر کو نوٹس جاری کیاجائے گا اور اس کی تصدیق کرنے کےبعد اس کا نام خارج کیاجائے گا۔ اگر ووٹر لسٹ میں نام کی شمولیت، تصحیح یا اخراج کیلئے درخواست دیتے وقت کوئی جھوٹا دعویٰ پیش کیا جاتا ہے تو عوامی نمائندگی ایکٹ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۳۱؍ کے مطابق متعلقہ شخص کو ایک سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
’’مہم کے بعد بھی ووٹر لسٹ میں نام درج کیاجاسکتا ہے‘‘
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے مطابق عوامی نمائندگی ایکٹ۱۹۵۰ء کی دفعہ۲۲؍اور ۲۳؍کی دفعات کے مطابق حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کے بعد بھی انتخابی فہرست میں اندراج کو درست کیا جا سکتا ہے یا نام شامل کیا جا سکتا ہے۔ حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کے بعد بھی ایک اہل شخص اپنا نام انتخابی فہرست میں شامل کروانے کیلئے مقررہ فارم نمبر ۶؍بھرکر درخواست دے سکتا ہے۔ تمام شہریوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ووٹر لسٹ میں نئے ناموں کا اندراج اور تصحیح کرنے کا عمل مسلسل جار ی رہتا ہے اور متذکرہ مدت کے بعد بھی یہ کیاجاسکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ریاست میں پووتر پورٹل کے ذریعے اساتذہ بھرتی کےعمل کا آغاز
اہم تاریخیں:
- ایس آئی آر کا انومریشن فارم پُر کرنے کی آخری تاریخ: ۱۷؍ اگست ۲۰۲۶ء
- ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کی تاریخ: ۱۷؍ اگست ۲۰۲۶ء
- دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت: ۲۴؍ اگست سے۲۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء
- نوٹس بھیجنے /دعوے اور اعتراضات کے تصفیہ کی مدت: ۲۴؍ اگست سے۲۲؍ اکتوبر۲۰۲۶ء
- حتمی ووٹر لسٹ شائع /جاری کرنے کی تاریخ: ۲۷؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء