Updated: October 19, 2026, 5:08 PM IST
| Washington
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیدی لیوائن نے اسرائیلی فوج پر فلسطینیوں کے بجائے آبادکاروں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے آبادکار تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نیتن یاہو سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیدی لیوائن نے، جن پر مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے حملہ کرکے اس قدر شدید زخمی کردیا تھا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کے کئی مہرے ٹوٹ گئے، اتوار کو کہا کہ وہ اس بات پر بڑھتے ہوئے غصے کا شکار ہیں کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو دھمکانے والے آبادکاروں کے مقابلے میں خود آبادکاروں کو زیادہ تحفظ فراہم کرتی نظر آتی ہے۔ زیتون کی فصل کی کٹائی کے حساس موسم کے دوران لیوائن اور فلسطینیوں پر کیا گیا حملہ، اور اس کے ایک روز بعد ایک مسیحی گاؤں میں یورپی سفارت کاروں پر ہونے والا حملہ، ایک بار پھر آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو نمایاں کرتا ہے۔ وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو اس تشدد کا ذمہ دار شرپسندوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو قرار دیتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ۵۳؍ فیصد بالغ افراد کے پاس تین ماہ کے اخراجات کیلئے ایمرجنسی فنڈ نہیں
اسپتال کے بستر سے اسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے لیوائن نے بتایا کہ نیتن یاہو کی جانب سے ان پر اور دیگر افراد پر حملے کو مبینہ قرار دیئے جانے پر وہ ’’حیران اور توہین محسوس کرنے پر مجبور‘‘ ہوئیں۔ ان کے بقول، وزیر اعظم کے سامنے ’’تمام ثبوت موجود تھے۔ ‘‘ تاہم، لیوائن نے آبادکاروں کے تشدد کی شدید مذمت کا ذکر بھی کیا، جس کا اظہار اسرائیلی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو اور ملک کے متعدد اعلیٰ سابق سکیوریٹی و انٹیلی جنس عہدیداروں کے دستخط شدہ خط میں کیا گیا۔ ان سب نے اس حملے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ قریبی انتخابات میں صرف دو ہفتے باقی رہ جانے کے ساتھ نیتن یاہو کو ایک بار پھر ایسے مسئلے کا سامنا ہے جس پر عالمی سطح پر اسرائیل کی مذمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی تصور کرتے ہیں، اس کے باوجود وہاں تعمیرات اور توسیع کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا
حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مطابق، ستمبر کے اواخر میں زیتون کی فصل کی کٹائی کا موسم شروع ہونے کے بعد سے اب تک سیکڑوں فلسطینیوں پر حملے ہو چکے ہیں اور چند افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کی تاریخ اور ثقافتی ورثے میں مرکزی اہمیت رکھنے والے زیتون کے درختوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ لیوائن نے جمعرات کے حملے کا ذمہ دار ’’یہودی دہشت گردوں ‘‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا، ’’میں گزشتہ۴۰؍ برس سے اس خطے کی کوریج کر رہی ہوں، لیکن میں نے اس ملک کو آج جیسی حالت میں کبھی نہیں دیکھا۔ ‘‘ اتوار کو لیوائن اسپتال میں اپنے زخموں سے صحت یاب ہو رہی تھیں۔ ان کے جسم پر چوٹوں کے علاوہ کولہوں پر ایسے زخم بھی تھے جو بظاہر چھری کے وار سے آئے تھے اور جن پر ٹانکے لگانے پڑے۔ ان کے مطابق، پولیس کی جانب سے اس معاملے میں کوئی نئی اطلاع نہیں دی گئی۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی، جنہوں نے حالیہ بیانات میں امریکی شہریوں پر آبادکاروں کے حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن فلسطینیوں پر مجموعی طور پر ہونے والے حملوں کی نہیں، نے لیوائن پر حملے کو ’’نقاب پوش بزدلوں کی جانب سے کی گئی دہشت گردی کی ایک قابلِ نفرت کارروائی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو کئی سال قید کی سزا ملنی چاہئے۔ دوسری جانب، اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے لیوائن سے فون پر بات کی، جبکہ سابق جنرل اور حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس کے لیڈر یائر گولان نے ان سے ملاقات کی۔ انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’مجرموں کا ایک چھوٹا سا گروہ اسرائیلی ریاست کی باقی ماندہ ساکھ کو بھی تباہ کر رہا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز
لیوائن نے اتوار کو ہرزوگ کے بارے میں کہا، ’’وہ حقیقتاً بہت اچھے انسان ہیں۔ انہوں نے نہایت سادگی سے بات کی، حملہ آوروں کو غنڈے کہا اور مجھے ذاتی طور پر گلے لگانے کی دعوت دی۔ جو کچھ ہوا، اس پر وہ شرمندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اسرائیلی معاشرے پر ایک داغ ہیں۔ ‘‘لیوائن کے مطابق، انہیں نیتن یاہو کی جانب سے اب تک کوئی پیغام نہیں ملا۔ تاہم، انہیں اسرائیل کے ایک درجن سے زائد سابق سکیوریٹی، انٹیلی جنس اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے دستخط شدہ خط ضرور موصول ہوا۔ دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر دفاع موشے یعلون، موساد کے سابق سربراہ تامیر پاردو اور شن بیت کے سابق سربراہ امی ایالون شامل ہیں۔
اسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ شیئر کئے گئے خط میں کہا گیا’’ہمیں اس بات پر شدید شرمندگی ہے کہ مغربی کنارے میں یہودی دہشت گرد مسلسل بے گناہ فلسطینیوں کو اذیت پہنچا رہے ہیں، ان کے دفاع کیلئے آنے والوں پر حملے کر رہے ہیں اور اپنے قابلِ نفرت اقدامات کو ریکارڈ کرنے اور بے نقاب کرنے والوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ‘‘خط میں مزید کہا گیا:’’ان کی سفاکیت اسرائیل اور یہودی قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہے۔ ایسی کارروائیاں اسرائیل کی سلامتی، خطے اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور ہمارے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ ان تمام اقدار سے غداری ہے جن کے دفاع کیلئے ہم نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ ‘‘خط میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ افسوس ناک طور پر حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی حوصلہ افزائی کے باعث یہ صورتحال برقرار ہے۔ اس ’’شرم ناک رجحان‘‘ کو ختم کرنے کیلئے پالیسی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں والمارٹ اِفیکٹ: صارفین کا بدلتا رویہ، کساد بازاری کا خدشہ!
لیوائن نے اسوسی ایٹڈ پریس سے کہا، ’’میں کبھی نہیں چاہتی تھی کہ یہ کہانی میرے بارے میں ہو، بلکہ ان لوگوں کے بارے میں ہو جن کی زندگیوں اور حالات کو میں نے کئی دہائیوں سے ریکارڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش رہی ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ تشدد کس طرح بڑھ رہا ہے اور دن بہ دن زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ لیوائن کے مطابق، حملہ آوروں کے پاس بوتلیں اور غلیلیں تھیں۔ انہوں نے بتایا، ’’وہ تقریباً ۱۰؍ منٹ تک مجھے لاتیں مارتے رہے اور میں اپنے کیمروں اور بیگ کو بچانے کی کوشش کرتی رہی۔ ‘‘ ان کا ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹ، جس پر ’’پریس‘‘ لکھا ہوا تھا، غالباً انہیں زیادہ سنگین چوٹوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوئے۔
تاہم، لیوائن اور دیگر افراد نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ فلسطینیوں کی حفاظت کون کرے گا؟ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مطابق، حالیہ برسوں میں آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافے کے باوجود بہت کم آبادکاروں کو سزا ملتی ہے۔ لیوائن نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے مخاطب ہو کر کہا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ آپ کچھ کریں، جناب وزیر اعظم!‘‘جہاں تک ان کی اپنی صحت کا تعلق ہے، تو وہ جلد دوبارہ کام پر واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے اس کام میں اپنی زندگی کی کئی دہائیاں، اپنا خون، پسینہ اور آنسو صرف کیے ہیں۔ انہوں نے میری ہڈیاں توڑ دی ہیں، لیکن میرے حوصلے نہیں توڑ سکے۔ ‘‘