• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمن جنگ: بے گھر افراد کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز، اقوام متحدہ نے فوری امداد مانگی

Updated: October 08, 2026, 6:05 PM IST | Sanaa

ستمبر کے وسط میں ۷۶؍ ہزار سے بڑھ کر تعداد ۲؍ لاکھ ایک ہزار ۲۱۷؍ ہوگئی، طائز سب سے زیادہ متاثر؛ بے گھر خاندانوں کی اولین ضرورت رہائش اور خوراک، امدادی فنڈنگ شدید کم۔

War-affected people in Yemen forced to live in tents. Photo: X
یمن میں جنگ سے متاثر افراد خیموں میں رہنے پر مجبور۔ تصویر: ایکس

یمن میں حالیہ لڑائی کے باعث اپنے گھروں سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ۲؍ لاکھ ایک ہزار ۲۱۷؍ تک پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ افراد ۳۳؍ ہزار ۷۷۶؍ خاندانوں پر مشتمل ہیں اور تقریباً تمام افراد یکم ستمبر کے بعد ہونے والی لڑائی کے دوران بے گھر ہوئے۔ اقوام متحدہ نے شدید مالی قلت کے باعث انسانی امدادی کارروائیوں کو درپیش مشکلات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری بین الاقوامی فنڈنگ کی اپیل کی ہے۔ آئی او ایم کے مطابق بے گھری کی رفتار گزشتہ چند ہفتوں میں غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔ ستمبر کے وسط میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۷۶؍ ہزار تھی، جو ستمبر کے اختتام تک بڑھ کر ایک لاکھ ۴۵؍ ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ تازہ اعداد و شمار میں یہ تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ بے گھر افراد یمن کی ۱۰؍ گورنریٹس میں پھیلے ہوئے ہیں اور طائز سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، جہاں ملک کے حالیہ بے گھر ہونے والوں میں تقریباً ۵۷؍ فیصد موجود ہیں۔ اس کے بعد لحج، عدن، ابین اور حدیدہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنگ ختم کرنے کیلئے ایران کو جوہری افزودگی کم کرنی ہو گی: جے ڈی وینس

آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا، ’’لوگ اپنی جان بچانے کیلئے بھاگ رہے ہیں اور انہیں کہیں محفوظ جگہ نہیں مل رہی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر چھت، خوراک اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آئی او ایم کی ٹیمیں زمینی سطح پر موجود ہیں، لیکن امداد کے لیے درکار مالی وسائل دستیاب نہیں۔ انہوں نے عطیہ دینے والے ممالک سے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہر دن کی تاخیر انسانی جانوں کو متاثر کرتی ہے۔ بے گھر خاندانوں کی ضروریات کے بارے میں آئی او ایم کے جائزے کے مطابق ۳۵؍ فیصد افراد نے رہائش کو اپنی سب سے فوری ضرورت قرار دیا، جبکہ ۳۳؍ فیصد کیلئے خوراک اولین ضرورت ہے۔ مزید ۲۲؍ فیصد افراد نے نقد مالی امداد کو سب سے ضروری قرار دیا، جب کہ تقریباً ۱۰؍ فیصد نے تحفظ کو اپنی بنیادی ضرورت بتایا۔ امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی ضروریات جس رفتار سے بڑھ رہی ہیں، دستیاب امدادی ذخائر اور مالی وسائل اس رفتار سے ان کا مقابلہ نہیں کر پارہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ میں کم از کم ۸۱؍ امریکی طیارے تباہ یا متاثر: رپورٹ

بحران یمن کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل رہا ہے۔ آئی او ایم کے مطابق ۳؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زیادہ یمنی شہری سمندر کے راستے جبوتی پہنچ چکے ہیں۔ ان میں بہت سے افراد انتہائی خستہ حالت میں، گنجائش سے زیادہ بھری کشتیوں کے ذریعے پہنچ رہے ہیں اور کئی خاندان تقریباً خالی ہاتھ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ادارے کے مطابق ان افراد میں خواتین اور بچوں کی تعداد نمایاں ہے۔ یمن میں نئی لڑائی نے پہلے سے موجود شدید غذائی بحران کو بھی مزید گہرا کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام کے مطابق حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں اس کے زیر نگرانی تقریباً ۷۴؍ فیصد گھرانے بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں آٹے اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جبکہ یمن اپنی خوراک کی تقریباً ۹۰؍ فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے، جس کے باعث جنگ اور رسد میں رکاوٹوں کا اثر براہ راست عام خاندانوں تک پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی

عالمی غذائی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسے اضافی مالی امداد نہ ملی تو اس کے پاس نئی بے گھر آبادی سمیت لاکھوں متاثرین کیلئے خوراک اور امدادی وسائل برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ ۲؍ اکتوبر کو اقوام متحدہ نے بتایا تھا کہ عالمی غذائی پروگرام کو نئی بے گھر آبادی کے ۲؍ لاکھ ۱۵؍ ہزار افراد اور پہلے سے امداد حاصل کرنے والے تقریباً ۱ء۴؍ ملین افراد کی ضروریات پوری کرنے کیلئے چند ہفتوں میں ۱۰۹؍ ملین ڈالر درکار ہیں۔ لڑائی کے باعث بعض علاقوں تک امدادی رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق طائز اور حدیدہ کے بعض حصوں میں جاری لڑائی نے امدادی اداروں کی رسائی محدود کردی ہے، جس کے باعث تقریباً۳؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ضرورت مند افراد تک معمول کی امداد پہنچانا مشکل ہوگیا ہے۔ عالمی غذائی پروگرام نے یہ بھی بتایا کہ اسے مستقبل میں استعمال کیلئے مختص خوراک کے ذخائر موجودہ بحران میں استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے: ٹرمپ

اقوام متحدہ کے مطابق یمن پہلے ہی دنیا کے شدید ترین انسانی بحرانوں میں شامل ہے۔ ۲۰۲۶ء کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی ضروریات اور امدادی منصوبے کے مطابق ملک میں ۲۲؍ ملین سے زیادہ افراد کو انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے، جن میں تقریباً ۱۰ء۹۵؍ ملین خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں۔ منصوبے میں ۱۲؍ ملین افراد تک امداد پہنچانے کیلئے ۲ء۱۶؍ ارب ڈالر کی اپیل کی گئی ہے، جبکہ شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والوں کی تعداد ۱۸ء۳؍ ملین بتائی گئی ہے۔ یمن میں تنازع ۲۰۱۴ء میں حوثی گروپ کے دارالحکومت صنعا اور متعدد صوبوں پر قبضے کے بعد شدت اختیار کرگیا تھا، جس کے بعد ۲۰۱۵ء میں سعودی قیادت میں عرب اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی۔ ۲۰۲۲ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم ۲۰۲۶ء میں دوبارہ شروع ہونے والی شدید جھڑپوں نے ملک کے انسانی بحران کو ایک بار پھر تیزی سے بگاڑ دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK