Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان میں بچوں کو یہ کام سکھائے جاسکتے ہیں

Updated: March 05, 2026, 3:08 PM IST | Faiqa Hammad Kahn | Mumbai

رمضان المبارک دراصل تربیت کا ایک مکمل نصاب ہے۔ اگر مائیں شعور اور محبت کے ساتھ رہنمائی کریں تو یہ مہینہ بچوں کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

Ramadan is the best time to teach children moral training. Photo: INN
رمضان بچوں کو اخلاقی تربیت سکھانا کا بہترین وقت ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ تربیت، نظم و ضبط اور کردار سازی کا بھی مہینہ ہے۔ یہ وہ سنہرا موقع ہے جب گھر کا ماحول خودبخود دینی رنگ میں ڈھل جاتا ہے، معمولات بدل جاتے ہیں اور دل نرمی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ایسے بابرکت دنوں میں اگر ہم بچوں کی صحیح رہنمائی کریں تو ان کی شخصیت پر دیرپا اور مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ بچوں کی ابتدائی تربیت ہی ان کی آئندہ زندگی کی بنیاد بنتی ہے، اس لئے رمضان کا مہینہ ان کی اخلاقی اور روحانی نشوونما کے لئے ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان میں یہ عادتیں آپ کو ہشاش بشاش رکھیں گی

نماز اور عبادت کی عادت

رمضان میں سب سے اہم کام جو بچوں کو سکھایا جاسکتا ہے وہ نماز کی پابندی ہے۔ اگرچہ چھوٹے بچوں پر روزہ فرض نہیں ہوتا، لیکن انہیں آدھا دن یا چند گھنٹوں کا روزہ رکھوا کر اس کی مشق کرائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح انہیں سحری میں جگانا، افطار میں شریک کرنا اور گھر میں باجماعت نماز کا اہتمام کرنا ان کے دل میں عبادت کی محبت پیدا کرتا ہے۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ بڑے شوق و ذوق سے نماز پڑھ رہے ہیں، قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں اور دعا میں مصروف ہیں تو وہ بھی اسی ماحول کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

قرآن سے تعلق

رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا۔ اسلئے بچوں کو روزانہ قرآن پڑھنے یا سننے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ چھوٹے بچوں کو مختصر سورتیں یاد کرائی جاسکتی ہیں، بڑے بچوں کو ترجمے کے ساتھ قرآن سمجھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اگر والدین روزانہ چند آیات کا آسان مفہوم بیان کریں تو بچے قرآن کو محض ایک کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا سرچشمہ سمجھنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گاجر بینائی تیز کرنے کیساتھ ساتھ حسن بھی نکھارے

صبر اور برداشت

روزہ دراصل صبر کی عملی تربیت ہے۔ بھوک، پیاس اور خواہشات پر قابو پانا بچوں کو برداشت اور تحمل کا سبق دیتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو سمجھائیں کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ جھوٹ، غیبت، لڑائی جھگڑے اور بدزبانی سے بچنے کا بھی نام ہے۔ اگر بچے کسی بات پر غصہ کریں تو انہیں پیار سے یاد دلائیں کہ ہم روزہ دار ہیں، ہمیں صبر کرنا ہے۔ اس طرح رمضان ان کے اخلاق سنوارنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

خدمت ِ خلق اور ہمدردی

رمضان کا ایک اہم پیغام دوسروں کا خیال رکھنا ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے کھلونوں یا جیب خرچ میں سے کچھ حصہ غریب بچوں کیلئے نکالیں۔ افطار کیلئے کسی ضرورتمند کو کھانا دینا، مسجد میں پانی رکھنا یا محلے کے مستحق لوگوں کی مدد کرنا ان کے دل میں ہمدردی اور سخاوت پیدا کرتا ہے۔ جب بچہ خود کسی محتاج کی مدد کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی چھوٹی سی کوشش بھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سحری میں اِن غذاؤں کا استعمال دن بھر توانا رکھتا ہے

وقت کی قدر اور نظم و ضبط

رمضان میں سحری، افطار، نماز اور تراویح کے اوقات متعین ہوتے ہیں۔ اس سے بچوں کو وقت کی پابندی سکھانے کا بہترین موقع ملتا ہے۔ اگر انہیں ذمہ داری دی جائے کہ وہ افطار کی تیاری میں مدد کریں یا سحری کے لئے الارم لگائیں تو ان میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح وہ سیکھتے ہیں کہ کامیاب زندگی کے لئے نظم و ضبط کتنا ضروری ہے۔

گھریلو تعاون اور ذمہ داری

رمضان میں گھر کے کام بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے میں بچوں کو بھی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں، جیسے دسترخوان لگانا، برتن سمیٹنا یا چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا۔ اس سے ان میں تعاون، محبت اور گھر سے وابستگی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ گھر ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہر فرد کا کردار اہم ہے۔

دعا اور شکرگزاری

بچوں کو سکھایا جائے کہ افطار کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ انہیں اپنے لئے، والدین کیلئے، ملک و ملت کے لئے اور پوری انسانیت کے لئے دعا کرنے کی ترغیب دی جائے۔ ساتھ ہی انہیں شکرگزاری کا سبق دیا جائے کہ ہم کتنی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔ جب بچہ شکر ادا کرنا سیکھ جاتا ہے تو اس کے اندر قناعت اور مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچوں کی تربیت کے دوران ماؤں کا رویہ نہ تو سخت ہو نہ بہت زیادہ نرم

رمضان المبارک دراصل تربیت کا ایک مکمل نصاب ہے۔ اگر مائیں شعور اور محبت کے ساتھ رہنمائی کریں تو یہ مہینہ بچوں کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ عبادت، اخلاق، خدمت، نظم و ضبط اور شکرگزاری جیسے اوصاف اگر بچپن میں سیکھ لئے جائیں تو ساری زندگی انسان کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔ اسلئے ہمیں چاہئے کہ رمضان کو صرف کھانے پینے اور رسم و رواج تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے بچوں کی بہترین تربیت کا ذریعہ بنائیں، تاکہ وہ دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK