• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مخلص لوگ سادہ زندگی: نہ مقابلہ آرائی نہ احساسِ کمتری

Updated: February 09, 2026, 3:11 PM IST | Dr. Sabiha Naheed | Mumbai

بلاشبہ ماضی میں جتنی سادہ زندگی تھی اتنا ہی سادہ مزاج تھا۔ گھر میں اگر کوئی رشتہ دار بطور مہمان آجائے تو بچے اور بڑے سب کی یکساں طور پر خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا تھا۔ کالم نگار نے مضمون میں اپنے بچپن کی باتیں بیان کرتے ہوئے لوگوں کی سادہ مزاجی کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی شادی میں بھی سادگی کے پہلو کو اجاگر کیا ہے۔

There was a time when marriages were simple and there was no hesitation in wearing identical clothes. Photo: INN
ایک زمانہ تھا کہ جب شادی سادگی سے ہوتی تھی اور تھان کے ایک جیسے کپڑے پہننے پرہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ تصویر: آئی این این

وہ بھی کیا زمانے تھے جب بچوں کے اندر ایک الگ قسم کی معصومیت ہوا کرتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں وہ بڑی بڑی خوشیاں تلاش کر لیا کرتے تھے۔ عید میں نیا کپڑا بن جائے یہی اتنی خوشی کا باعث ہوتا کہ جس کا جواب نہیں۔ اس سے کوئی مطلب نہیں کہ اس کا فیبرک کیسا ہے یا وہ کس کلر اور ڈیزائن کا ہے۔ بیری کے پیڑ پر ڈھیلا مار کر بیری توڑتے توڑتے پانچ نئے پیسے کا سکّہ گرا ہوا مل جائے تو.... کسی نے دس نئے پیسے کا دودھ والا ملائی برف دلا دیا تو.... گلابی پیلی ہوائی مٹھائی جس کو آج سینڈ کینڈی کہا جاتا ہے.... کوئی دلا دے تو.... غرض.... خوشیاں کسی بڑے معرکے کی محتاج نہیں ہوا کرتی تھیں۔ کوئی ڈریس جب امی نے سل کر تیار کی یا درزی کے یہاں سے سل کر آئی تو خوشی کے مارے بار بار اس کو بکس سے نکال کر دیکھنا اور خوش ہونا.... کیا.... ہی.... مزے دیتا تھا.... اس دور میں تو.... آج کی زبان میں بینڈ پارٹی ہی بنا دیا جاتا تھا بچوں کو.... شاید آپ میری بات نہیں سمجھے....؟

یہ بھی پڑھئے: یہ مشروبات وزن کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں

دراصل عید کا کرتا پائجامہ تو سب کا سفید بنتا تھا وہ تو چلئے.... سفید ململ کا تھان کرتے کے لئے اور سفید لٹھے کا تھان پائجامے کے لئے دکان سے آجاتا اور.... پھر.... اقبال درزی دروازے پر آکر گھر کے بزرگ ترین مرد حضرات سے لے کر ایں قدر آں قدر تک کے کرتے پائجامہ کا ناپ لے کر چلا جاتا.... لیکن.... نصف آبادی یعنی بچیوں اور لڑکیوں کے کپڑے گھر کی عورتیں ہی سلا کرتیں.... تب لیڈیز ٹیلر کا اتنا رواج نہیں تھا.... بچیوں کے لئے بھی ایک تھان آجاتا اور بڑی لڑکیوں کے جمپر شلوار اور چھوٹی بچیوں کی فراکیں سل جایا کرتیں.... اور.... بھائی.... عید کے دن جب سب پہن اوڑھ کر نکلتیں.... تو ان کی وحدانیت کے رنگ کو دیکھ کر کوئی اندھا بھی آسانی سے سمجھ جاتا کہ یہ فلاں صاحب کے گھر کی بچیاں ہیں.... لیکن سب مست مولا.... کسی طرح کا ’کمپلیکس‘ نہیں.... نہ کوئی مقابلہ آرائی....

یہ بھی پڑھئے: بچوں میں بامعنی جذبہ ’معافی‘ پیدا کرنا ضروری

میرے والد کی ملازمت کوآپریٹیو ڈپارٹمنٹ میں تھی لہٰذا وہ اکثر کنٹرول ریٹ والی دکان سے ہم لوگوں کے ڈریس مٹیریل لے آیا کرتے.... اور.... میری سگھڑ والدہ اپنے کمال فن سے خوبصورت ڈیزائن کے ساتھ ہمارے کپڑے سل دیا کرتیں.... کبھی کبھی درمیانی ٹائپ کی پرنٹ کے کپڑے آجاتے تو میرا سوٹ.... بھائی کی شرٹ اور چھوٹی بہن کی فراک سب اسی سے بن جاتی.... یقین کریں.... ایک ساتھ جب ہم تینوں پہنتے تو بڑا مزا آتا.... اترا.... اترا کر پورے گاؤں میں گھومتے.... ایک بار تو امی نے حد ہی کر دی.... کنٹرول کی دکان سے رضائی کے کور کا کپڑا منگایا.... ہلکا فیروزی باریک پرنٹ کا کپڑا تھا امی نے اس کپڑے کا خول تو بنایا ہی.... جو بچ گیا اس کا میرا سوٹ بنا دیا.... بھائی غیر متوقع سال کے بیچ میں ایک نیا سوٹ.... وہ بھی محرم کے مہینے میں بن جانا ایک الگ ہی خوشی کا باعث تھا.... محرم کے دن یعنی یوم عاشورہ پر وہی سوٹ پہن کر اور گلے میں خالہ کا بھیجا ہوا میوے اور بھنے ہوئے دھنئے کے چاول کا گوٹے کناری والا بٹوا لٹکا کر محرم کا تماشہ دیکھنے نکل گئے.... ایک ذرا یہ نہیں سوچا کہ رضائی کا خول اور میرا سوٹ....

یہ بھی پڑھئے: زیادہ عرصے سے استعمال ہونے والی اِن چیزوں کو پھینک دیجئے

جتنی سادہ زندگی اتنا ہی سادہ مزاج.... گھر میں اگر کوئی رشتہ دار بطور مہمان آجائے تو بچے اور بڑے سب کی یکساں طور پر خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا.... بچے تو مہمان کے سائیکل سے ہوا نکال دیا کرتے اور کپڑے کا تھیلا چھپا دیا کرتے تاکہ کچھ دن اور ان کو کسی طرح روکا جائے.... مہمان بھی اس طرح کئی کئی دن کبھی تو مہینوں رک جایا کرتے.... جو میزبان کو میسر ہوتا وہی مہمان کو بھی کھلایا جاتا.... کہیں کوئی تکلف کا شائبہ نہیں ہوتا.... اس وقت اس پر کامل یقین تھا کہ ہر انسان اپنی قسمت کی کھاتا ہے.... بچوں کو کئی طرح سے آج کی زبان میں ’کمپرومائز‘ کرنا پڑتا.... مثلاً ان کا بستر مہمان کو دے دیا جاتا اور انہیں کہیں اور ایڈجسٹ کیا جاتا.... اتنا ہی نہیں بچوں کے دوسروں کو اکثر ایک ہی تکیہ ہیں گزارا کرنا پڑتا.... یعنی تکیہ بھی شیئر کرنا پڑتا....

یہ بھی پڑھئے: آئین اور اپنے حقوق کے متعلق خواتین کی آگاہی ضروری

گاؤں میں کسی کی لڑکی کی شادی ہوتی تو گاؤں کے ہر گھر میں شادی جیسا ماحول بن جاتا.... سبھی لوگ بارات کو ٹھہرانے کی غرض سے اپنے اپنے گھروں کا رنگ روغن کرواتے.... واضح رہے اس وقت بڑے بڑے بارات گھر نہیں ہوا کرتے تھے لہٰذا گاؤں کے سبھی لوگ ایسی تیاریاں کرتے مانو ان کے گھر کی ہی شادی ہے....

آج سب کچھ میسر ہے لیکن لوگ مقابلہ آرائی کے چکر میں پڑ کر احساس کمتری اور تناؤ کا شکار ہورہے ہیں.... ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ہوڑ میں ہم آپس کے بے حد خوبصورت رشتوں کو پامال کر رہے ہیں۔ اب بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے اگر ہم اپنے اندر جھانکیں اور ذرا اپنے سماجی رویے پر نظرثانی کر لیں تو زندگی کو کافی حد تک پر سکون بنایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK