سوشل میڈیا، ڈجیٹل اسٹیٹس اور مسلسل نمائش نے زندگی کو ایک کھلی کتاب بنا دیا ہے۔ ڈجیٹل دُنیا میں ’سب کچھ اچھا‘ بتانے کی ’ریس‘ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ نئی نسل کو سمجھنا ہوگا کہ خوشی اور غم زندگی کے لازمی حصے ہیں۔ انسان کبھی ہنستا ہے تو کبھی روتا ہے۔ ان حقیقی جذبات کو قبول کرنا ہی اصل زندگی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہر لمحہ کی اطلاع دینے کے بجائے’ خاموش‘ رہ کر اپنی شخصیت کو نکھارنے کی کوشش دانشمندی ہے۔ تصویر: آئی این این
ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں اظہار کی کثرت نے معنی کو کم اور شور کو بڑھا دیا ہے۔ سوشل میڈیا، ڈجیٹل اسٹیٹس اور مسلسل نمائش نے زندگی کو ایک کھلی کتاب بنا دیا ہے، مگر اس ہجوم میں خاموش وقار ایک نایاب صفت بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط شخصیتیں ہمیشہ کم گو، مگر باعمل ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہر ہندوستانی خاتون جمہوریت کی باوقار نگہبان ہے
زندگی کو نجی رکھنا بزدلی نہیں، بلکہ ذہنی بلوغت کی علامت ہے۔ ہر بات کہنا، ہر دکھ دکھانا اور ہر کامیابی کا اعلان کرنا انسان کو وقتی توجہ تو دلا سکتا ہے، مگر اس کی اندرونی طاقت کو کمزور کر دیتا ہے۔ جو شخص اپنی ذات کی حدیں پہچان لیتا ہے، وہ دوسروں کو بھی ان حدوں کا احترام سکھاتا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر نوجوان ہر لمحہ کی اطلاع سوشل میڈیا پر دے رہا ہے۔ اگر اس نے کسی مہنگے کیفے سے کافی خریدی تو وہ اس کا فوٹو پوسٹ کرنا لازمی سمجھتا ہے۔ مہنگے اور برانڈڈ کپڑے پہننے کی ریس لگی ہوئی ہے۔ آئی فون اسٹیٹس سیمبل بن گیا ہے جیسے اس کے بغیر انسان کو عزت ہی نہیں ملے گی۔ اپنے آپ کو قابل اور اسمارٹ بتانے کی چکر میں نئی نسل نے اپنی ذہنی صحت خراب کرلی۔ سوشل میڈیا پر ’سب کچھ اچھا‘ بتانے کی ’ریس‘ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ نئی نسل کو سمجھنا ہوگا کہ خوشی اور غم زندگی کے لازمی حصے ہیں۔ انسان کبھی ہنستا ہے تو کبھی روتا ہے۔ ان حقیقی جذبات کو قبول کرنا چاہئے۔ سب کچھ سوشل میڈیا پر بتانے کے بجائے خاموشی اختیار کریں۔ برانڈڈ کے بجائے سہل پسندی کی اہمیت کو سمجھیں۔ زندگی کو گزارنے کے بجائے جینا سیکھیں۔ بے حس بننے کے بجائے ہمدرد اور مہربان انسان بنیں۔ اس سے پُرسکون زندگی حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: خواتین اپنے مشغلے کو کاروبار کی شکل دے سکتی ہیں
محنت: وہ خاموش زبان جو وقت بولتا ہے
محنت کا شور نہیں ہوتا، اس کی بازگشت وقت میں سنائی دیتی ہے۔ جو لوگ کم بولتے اور زیادہ کرتے ہیں، وہی تاریخ میں جگہ بناتے ہیں۔ گفتگو کی زیادتی اکثر عمل کی کمی کو چھپانے کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ خاموش محنت خود بولتی ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: ’’اور انسان کیلئے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔‘‘ (النجم: ۳۹)
یہی اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل سرمایہ محنت ہے، نہ کہ دعوے۔
لباس، خوراک اور گفتگو: شخصیت کے آئینے
لباس انسان کے مزاج کی خاموش عکاسی کرتا ہے۔ سادہ مگر سلیقہ مند لباس وقار پیدا کرتا ہے، جبکہ نمود و نمائش انسان کو غیر ضروری توجہ کا محتاج بنا دیتی ہے۔ اسی طرح خوراک میں اعتدال نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی توازن کے لئے بھی ضروری ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا۔‘‘ (ترمذی)
کم بولنا بھی ایک عظیم ہنر ہے۔ الفاظ کی قلت، بات کی وقعت بڑھا دیتی ہے۔ بے جا گفتگو انسان کو غیر ضروری تنازعات میں الجھا دیتی ہے، جبکہ خاموشی دانائی کو محفوظ رکھتی ہے۔ اکثر لوگ زیادہ بولنے والے شخص کا خاموش ہونے کا انتظار کرتے ہیں جبکہ کم گو کو سننے کے لئے ترستے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کم عمری ہی سے بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں
زندگی جینا یا زندگی نبھانا؟
زندگی محض دن گزارنے کا نام نہیں، بلکہ بہتر انداز سے جینے کا شعور ہے۔ جو شخص ہر دن کو مقصد، نظم اور شکر کے ساتھ جیتا ہے، وہی اصل معنوں میں زندہ ہے۔ جدید نفسیات بھی اس بات پر متفق ہے کہ کم توقعات، واضح حدود اور مثبت طرزِ فکر انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے۔
مہربانی اور عاجزی: طاقت کی اصل صورت
مہربانی کمزوری نہیں، بلکہ طاقت کی سب سے خوبصورت شکل ہے۔ عاجزی انسان کو بلند نہیں کرتی، بلکہ اسے برقرار رکھتی ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے: ’’جو عاجزی اختیار کرتا ہے، وہ دلوں میں جگہ بناتا ہے۔‘‘ جو لوگ دوسروں کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں، وہ دراصل اپنی کمزوریوں کا اعلان کرتے ہیں، جبکہ باوقار انسان دوسروں کو اوپر اٹھا کر خود بلند ہوتا ہے۔
ڈرامے سے اجتناب: ذہنی سکون کی کنجی
غیر ضروری تنازعات، افواہیں اور جذباتی کھیل وقتی دلچسپی تو پیدا کرتے ہیں، مگر ذہنی سکون چھین لیتے ہیں۔ جو شخص ڈرامے سے دور رہتا ہے، وہ اپنی توانائی تعمیر، تخلیق اور بہتری میں صرف کرتا ہے۔ ساتھ ہی خود کو بہتر سے بہتر بناتا ہے۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق، تنازع سے دوری انسان کی جذباتی صحت کو مضبوط بناتی ہے اور فیصلہ سازی کو بہتر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جو مثبت سوچ تم رکھ لو تو بازی جیت جاؤ گے!
نتیجہ
خاموش وقار، مستقل محنت، سلیقہ، اعتدال، مہربانی اور عاجزی.... یہ سب مل کر ایک ایسی شخصیت تشکیل دیتے ہیں جو شور کے بغیر اثر رکھتی ہے۔ اصل کامیابی وہ نہیں جو دنیا دیکھے، بلکہ وہ ہے جو ضمیر محسوس کرے۔ جو انسان خود کو بہتر بنانے میں مصروف رہتا ہے، اسے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔