غلطی ماننا، ندامت کا احساس ہونا، غلطی کا اقرار کرنا وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے۔ بچوں میں اِس صفت کو فروغ دینا چاہئے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 3:22 PM IST | Shaikh Saeeda Ansari | Mumbai
غلطی ماننا، ندامت کا احساس ہونا، غلطی کا اقرار کرنا وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے۔ بچوں میں اِس صفت کو فروغ دینا چاہئے۔
معاشرے کے آئینہ میں یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آپس میں دوریاں ایک دوسرے کے تئیں نفرت انتقامی رجحان کی وجہ سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ معاف نہ کرنا اور درگزر کرنے کے جذبہ کا فقدان ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ذہنیت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے جو باعث ِ تشویش ہے۔ اس لئے آج کل کے بچوں میں اور نوجوان نسل میں غصہ، نفرت اور تشدد بڑھ رہا ہے کیونکہ انہوں نے یہی دیکھا ہے کہ کس طرح گھروں میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا رجحان ہے۔ کس طرح مائیں بچوں کو اُکساتی ہیں کیوں مار کھا کر آیا ہے؟ بدلہ کیوں نہیں لیا؟ اس قسم کے جملے بچوں کو بات بات پر غصے کرنے اور دوسروں کو مارنے پیٹنے کے جذبے کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئین اور اپنے حقوق کے متعلق خواتین کی آگاہی ضروری
اس صورتحال پر مائیں افسوس کرنے یا بے بسی کا اظہار کرنے کے بجائے اس کے حل کیلئے کوشش کریں۔ یہ سوچیں کہ آپ کس طرح اپنے گھر میں محبت و خلوص، صبر و تحمل اور معاف کرنے کے جذبے کو فروغ دے سکتی ہیں۔ اگر ماں ٹھان لے تو وہ تاریک گوشوں میں بھی روشن پہلو تلاش کر لیتی ہے۔ اس نفسانفسی کے عالم میں محبت و خلوص کی باتیں، صبر و تحمل کا اظہار اور معاف کرنے کا جذبہ آج بھی بھلے معلوم ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ جذبے بالکل ختم نہیں ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ثابت قدمی کے ساتھ مائیں انہیں فروغ دینے کی کوشش کریں۔
روز بروز معاف نہ کرنے میں شدت آرہی ہے۔ اکثر مائیں یا گھر کے بڑے افراد یہ الفاظ دہراتے ہیں کہ ’’ہم مر جائیں گے لیکن معاف نہیں کریں گے!‘‘ اس قسم کی سوچ ہمارے بچوں کے لاشعور کا ایک مضبوط حصہ بن جاتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ معاف نہ کرنا زندگی کا ایک لازمی جز ہے۔ پہلے پہل آپ کو ’معاف نہ کرنے‘ کے منفی جذبے کو اپنے ذہن سے نکالنا ہوگا اور یہ یقین دلانا ہوگا کہ معاف کرنا ایک نیکی ہے۔ ’’معاف کرنے والا شخص بڑا ہوتا ہے‘‘ ’’معاف کر دینے سے قلب کو سکون ملتا ہے‘‘ اس قسم کے مثبت جملے بچوں کے سامنے دہراتے رہنا چاہئے۔ اس سے بچوں میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے۔ انہیں معاف کرنے کے جذبے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ درگزر کی سوچ کو فروغ ملتا ہے۔ یاد رہے کہ رشتے اور دوستی کو بچانے کے لئے معاف کرنے والا کمزور نہیں ہوتا بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ میں رشتے اور دوستی کی اہمیت آپ کی اَنا سے بڑھ کر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیم ِ نسواں کیلئے جدوجہد کرنیوالی وحید جہاں بیگم، ویمنس کالج اے ایم یو کی بانی
ماہر نفسیات رابرٹ انگرائٹ کی ریسرچ معافی کی طاقت پر مبنی ہے (دی پاور آف فارگیونیس)، جن افراد نے ریسرچ کے دوران معاف کرنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا، ان افراد میں ذہنی تناؤ، نفرت، غصہ اور ڈپریشن میں کمی پائی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ معاف کرنے کا جذبہ بیماریوں سے نجات دلانے میں مددگار ہے۔
مولانا رومی کے مطابق، جن باتوں پر جھگڑا کرکے لوگ منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں انہی باتوں پر ہلکی سی مٹی ڈال کر دنیا میں پُرسکون زندگی گزاری جاسکتی ہے۔
معاف کرنے اور درگزر سے کام لیتے ہیں تو ہم نفرت، جلن، حسد اور انتقام جیسے جذبوں سے نجات پاتے ہیں اور اپنے اندر صبر و تحمل اور قوتِ برداشت جیسے مثبت جذبے کو پنپتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اپنی غلطی کو ماننا اور اس کا اظہار کرنا جرأت کا کام ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیں امتحانات کے دوران بچوں کی رہنمائی کریں
اکثر مائیں اپنی غلطیوں پر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ بہت ہی خطرناک عمل ہے۔ خاموشی کے بجائے اپنے بچوں سے اپنی غلطی کا اقرار کریں۔ ’’مجھ سے یہ غلطی ہوگئی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ ایسا کہنے سے دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو آپ نے غلطی مانی دوسرا بچوں میں بھی غلطی ماننا اور اقرار کرنے کا سلیقہ آئے گا جو ان کی شخصیت کا ایک حصہ بن جائے گا۔ غلطی ماننا، ندامت کا احساس ہونا، غلطی کا اقرار کرنا وغیرہ ایسے عوامل ہیں جس سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے۔ معافی طلب کرنے سے نہ صرف اپنی نظر میں بلکہ دوسروں کی نظروں میں آپ کی قدر و منزلت بڑھے گی۔ آپسی رشتوں کو مضبوطی ملے گی جو موجودہ وقت کا تقاضا ہے۔ تو اسی لئے معاف کرنا معافی طلب کرنا ایک باوقار بامعنی عمل ہے۔
بچوں کو غلطی ہونے پر ’آئی ایم سوری‘ کہنے سکھائیں۔ اگر بچے کو کھیل کے دوران کسی کو گرا دیتے ہیں تو ان سے کہیں کہ اپنے ساتھی سے معافی مانگیں۔ اس طرح وہ ذمہ داری شخص بنیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: روزنامہ انقلاب ۸۷؍ ویں سالگرہ: ’’اوڑھنی‘‘ کیلئے لکھنے والی قارئین کے تاثرات
بچوں کو بتائیں کہ غلطیاں سبھی سے ہوتی ہیں لیکن اپنی غلطی پر ندامت محسوس کرنا اور معافی مانگنا سمجھداری ہے۔ معافی کی صفت اپنانے سے انسان پرسکون، چین و اطمینان محسوس کرتا ہے، ساتھ ہی دوسرے لوگوں تک بھی اچھا پیغام پہنچاتا ہے۔ اسلئے معاف کرنیوالوں میں شامل ہوجائیں۔