Updated: May 25, 2026, 9:03 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال میں بی جے پی کی نئیحکومت نے مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا مہاجرین کے خلاف سخت کارروائی شروع کرتے ہوئے تمام اضلاع میں ’’ہولڈنگ سینٹرز‘‘ قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری۔ تصویر: آئی این این
مغربی بنگال حکومت کے محکمہ داخلہ و ہِل افیئرز نے سنیچر کوریاست کے تمام ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دی ہے کہ گرفتار کئے گئے غیر قانونی غیر ملکیوں اور جیل سے رہائی پانے والے ایسے غیر ملکی قیدیوں کیلئے’’ہولڈنگ سینٹرز‘‘قائم کئے جائیں جو ملک بدری یا وطن واپسی کے انتظار میں ہیں۔ یہ اقدام نئی بی جے پی حکومت کی وسیع تر ’’پتہ لگاؤ، نام حذف کرو، ملک بدر کرو‘‘ پالیسی کا حصہ ہے، جس کا ہدف مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین اور روہنگیا افراد ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ اقدام اس کے صرف ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ بنگلہ دیش بھیجے گئے چند افراد کو واپس لائے گی اور ان کے ہندوستانی شہریت کے دعووں کی دوبارہ جانچ کرے گی۔ یہ معاملہ مغربی بنگال کی رہائشی سنالی خاتون اور چار دیگر افراد کی مبینہ ’’غیر قانونی ملک بدری‘‘ سے متعلق ہے، جنہیں غیر قانونی مہاجر قرار دے کر سرحد پار بھیج دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آسام میں یو سی سی بل پیش، مسلم تنظیموں کا مشاورت کا مطالبہ
محکمہ کے فارنرز برانچ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں وزارت داخلہ، حکومتِ ہند کی۲؍ مئی۲۰۲۵ء کی ہدایات کا حوالہ دیا گیا، جن میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ہندوستان میں مقیم بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا افراد کی ملک بدری کے طریقہ کار کا ذکر ہے۔ حکم نامے میں ہر ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ گرفتار شدہ غیر ملکیوں اور سزا پوری کر چکے غیر ملکی قیدیوں کیلئے عارضی حراستی مراکز قائم کرنے کیلئے ’’مناسب کارروائی‘‘ کرے، تاکہ انہیں ملک بدری تک وہاں رکھا جا سکے۔ اس حکم کی نقول ڈائریکٹر جنرل و انسپکٹر جنرل آف پولیس، تمام پولیس کمشنریٹس، کولکاتا کے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) اور تمام اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹس کو بھی بھیجی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں بجلی کا بحران ، یوگی آدتیہ ناتھ نے ہنگامی میٹنگ بلائی
رپورٹس کے مطابق یہ ہولڈنگ سینٹرز مختصر مدت کیلئے استعمال ہوں گے، عموماً مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق ۳۰؍دن تک، جس کے بعد زیرِ حراست افراد کو وطن واپسی کے عمل کیلئے بی ایس ایف جیسی مرکزی ایجنسیوں کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں سوویندو ادھیکاری کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے اقتدار سنبھالا اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت’’پتہ لگاؤ، حذف کرو، ملک بدر کرو‘‘مہم کا اعلان کیا۔ اس سے قبل ترنمول کانگریس حکومت نے مئی۲۰۲۵ء میں مرکزی حکومت کی ہولڈنگ سینٹرز سے متعلق ہدایات کی سخت مخالفت کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ اقدام دراصل این آر سی، سی اے اے اور اسی نوعیت کے تصدیقی عمل کے ذریعے خاص طور پر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی شہریت چھیننے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چار سال بعد دہلی میں پیٹرول ۱۰۰؍ روپے کے پار
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بارہا یہ اعلان کر چکی تھیں کہ جب تک ان کی جماعت اقتدار میں ہے، مغربی بنگال میں کسی کو بھی حراستی مراکز میں نہیں بھیجا جائے گا۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ آسام کے متنازع حراستی اور ٹرانزٹ کیمپوں سے کیا تھا، جہاں فارنرز ٹریبونلز کی جانب سے غیر ملکی قرار دیئے گئے افراد کو رکھا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق ہولڈنگ سینٹرز مخصوص سہولیات ہیں جو جیلوں سے الگ ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد ایسے افراد کو رکھنا ہے جن پر ہندوستان میں غیر قانونی داخلے یا قیام کا شبہ ہو، جب تک ان کی شہریت کی تصدیق نہ ہو جائے، نیز ایسے غیر ملکی شہری جو اپنی سزا پوری کر چکے ہوں لیکن ملک بدری کے انتظار میں ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر میں کہیں چلچلاتی دھوپ تو کہیں طوفانی بارش!
انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہری آزادیوں کے حامی گروپوں نے ہندوستان میں مبینہ غیر قانونی مہاجرین کیلئے قائم حراستی اور ہولڈنگ سینٹرز کے نظام پر بارہا تنقید کی ہے، خاص طور پر آسام اور دیگر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی پالیسیاں اکثر بنگالی بولنے والے مسلمانوں، روہنگیا افراد اور غریب مہاجر برادریوں کو غلط طور پر نشانہ بناتی ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ بہت سی گرفتاریاں کمزور یا متنازع دستاویزات، جیسے ہجے کی غلطیوں، کاغذات کی کمی یا ریکارڈ میں تضادات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہندوستانی شہریوں کو بھی غلط طور پر ’’غیر قانونی مہاجر‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن
حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے حراستی مراکز اور ٹرانزٹ کیمپوں میں بھیڑ، ناقص صفائی، ناکافی طبی سہولیات اور جیل جیسے حالات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، خاص طور پر آسام کے متنازع حراستی ڈھانچے میں۔ کئی کارکنوں اور قانونی گروپوں نے حکام پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ من مانی گرفتاریاں، سرحد پار غیر رسمی’’پش بیکس ‘‘اور مناسب قانونی سماعت کے بغیر ملک بدری جیسے اقدامات کے ذریعے قانونی عمل کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں آئین کے آرٹیکل۲۱؍ کی خلاف ورزی ہیں، جو زندگی اور وقار کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ ناقدین نے ان مہمات کو ’’دراندازوں ‘‘ اور آبادیاتی تبدیلی سے متعلق مسلم مخالف سیاسی بیانیے سے بھی جوڑا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ دیگر پناہ گزین برادریوں کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ کابینہ نے جونیئر کالجوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کی منظوری دی
خصوصاً روہنگیا افراد کی ملک بدری نے پناہ گزینوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپوں اور وکلا کی شدید مذمت کو جنم دیا ہے، جنہوں نے خبردار کیا کہ میانمار واپسی کی صورت میں انہیں ظلم و ستم اور جبر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آسام، مہاراشٹر اور ادیشہ جیسی ریاستوں سے متعلق میڈیا رپورٹس اور شہری حقوق کی دستاویزات میں متعدد ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جن میں مہاجر مزدوروں اور بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی یا روہنگیا ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا گیا، جس پر نسلی تعصب، اسلاموفوبیا اور سیاسی بنیادوں پر کارروائی کے الزامات عائد کئےگئے۔