Updated: July 21, 2026, 10:06 PM IST
| New Delhi
دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پارلیمنٹ مارچ کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی توجہ دیتے ہوئے اسے نریندر مودی حکومت کے خلاف حالیہ برسوں کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں میں شمار کیا۔ مختلف بین الاقوامی اخبارات نے پولیس کارروائی، انٹرنیٹ بندش اور نوجوانوں کی وسیع شرکت کو اپنی رپورٹوں کا مرکزی موضوع بنایا۔
دہلی میں پیرکو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پارلیمنٹ مارچ نے بین الاقوامی انگریزی میڈیا میں نمایاں جگہ حاصل کی۔ متعدد عالمی اخبارات اور نشریاتی اداروں نے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی، آنسو گیس کے استعمال، لاٹھی چارج اور قومی دارالحکومت کے مرکزی علاقوں میں انٹرنیٹ بند کئےجانے کو خاص طور پر اجاگر کیا۔بین الاقوامی میڈیا نے اس احتجاج کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف حالیہ برسوں میں عوامی اختلاف کے سب سے بڑے اور نمایاں مظاہروں میں سے ایک قرار دیا۔ بعض اداروں نے اس کا موازنہ پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور نیپال میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں سے بھی کیا جنہیں’’جنریشن زی (Gen Z) احتجاج‘‘ کہا جاتا ہے اور جنہوں نے وہاں کی حکومتوں کو گرانے میں کردار ادا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین:۲؍ کروڑ شائقین سڑکوں پر، ورلڈ کپ کی نمائش، روڈری، ٹوریس، جمال توجہ کا مرکز
مودی کی مضبوط شبیہ میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں: نیویارک ٹائمز
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دہلی کی سڑکوں پر’’افراتفری کے مناظر‘‘ دیکھنے میں آئے، جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ میں ’’مسکراتے ہوئے نریندر مودی‘‘ حالات کو معمول کے مطابق ظاہر کرنے کی کوشش کرتے رہے اور مظاہرین کے مطالبات پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔اخبار کے مطابق یہ رویہ مودی حکومت کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ اس کے وزراء عوامی دباؤ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتے، تاہم، حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ممکنہ طور پر ہندوستان کے نوجوانوں میں پائی جانے والی شدید ناراضی کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ رپورٹ میں بنگلہ دیش اور نیپال کے نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاجوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مودی کی ’’طاقتور لیڈر‘‘ کی شبیہ میں بھی دراڑیں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔نیویارک ٹائمز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حکومت نواز ٹیلی ویژن چینلز، جنہوں نے پیر کے احتجاج کی تیاریوں کو بڑی حد تک نظر انداز کیا تھا، بعد میں پارلیمنٹ کے اطراف کے ہنگامہ خیز مناظر نشر کرنے پر مجبور ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے: مَیں آپ کی حفاظت نہ کر سکا: ابھیجیت دِپکے نے زخمی طلبہ سے معافی مانگی
پارلیمنٹ کی جانب جانے والے تمام راستے بند، پولیس کارروائی میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے: بی بی سی کی سرخی
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں جنتا منتر کے اطراف ترنگا اٹھائے اور پلے کارڈز تھامے مظاہرین کے بڑے اجتماع اور دوسری جانب پارلیمنٹ جانے والی تمام سڑکوں کی پولیس کی جانب سے ناکہ بندی کے درمیان نمایاں تضاد کو اجاگر کیا۔بی بی سی کے مطابق جب پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا تو کئی افراد سر پر چوٹیں لگنے کے باعث خون میں لت پت واپس جنتا منتر پہنچے، کچھ لنگڑاتے ہوئے نظر آئے جبکہ متعدد زخمیوں کو ان کے ساتھی اٹھا کر واپس لائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تحریک حالیہ برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف عوامی اختلاف کے سب سے نمایاں اظہار میں تبدیل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کے طلبہ مظاہرین کے حق میں اورنگ آباد میں بھوک ہڑتال
آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے باوجود مظاہرہ حالیہ برسوں میں دارالحکومت کا سب سے بڑا احتجاج قرار: فنانشل ٹائمز
فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ دہلی پولیس نے مظاہرین پر بار بار آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھیوں اور پلاسٹک کے ڈنڈوں سے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔اخبار کے مطابق کئی برسوں بعد دارالحکومت میں دیکھے جانے والے اس بڑے احتجاج نے حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیابیوں کے باوجود مودی حکومت کیلئے ایک وسیع تر سیاسی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ مئی میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے مغربی بنگال میں کامیابی حاصل کی اور آسام میں اپنی حکومت برقرار رکھی۔فنانشل ٹائمز نے یہ بھی لکھا کہ جب پولیس نے وسطی دہلی میں طاقت کا استعمال شروع کیا تو مظاہرین نے نعرہ لگایا:’’جب بھی مودی ڈرتا ہے، وہ پولیس کو آگے کر دیتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: روس کا ایران کے دارخوین جوہری پاور پلانٹ پر حملے پرشدید رد عمل
کریک ڈاؤن کے باوجود احتجاج جاری رکھنے کا اعلان: بلومبرگ
معاشی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے لکھا کہ کریک ڈاؤن کے اگلے ہی روز مظاہرین نے احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جس سے نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرے۲۰۲۱ء کی کسان تحریک کے بعد دہلی میں ہونے والے سب سے بڑے احتجاج تھے۔بلومبرگ نے آئندہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے تناظر میں ان مظاہروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بی جے پی نے حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم کاکروچ تحریک بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کی علامت ہے، جو آئندہ انتخابات، خصوصاً اتر پردیش میں، بی جے پی کیلئے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خامنہ ای کی شہادت کا سبب بننے والی سیکوریٹی خامیاں ختم نہیں ہوئیں: عباس عراقچی
یہ احتجاج مودی حکومت کو حالیہ برسوں میں درپیش سب سے بڑے عوامی احتجاجوں میں سے ایک ہے: وال اسٹریٹ جرنل
وال اسٹریٹ جرنل نے ان مظاہروں کو نریندر مودی کو حالیہ برسوں میں درپیش سب سے بڑے احتجاجی چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا۔دی گارڈین نے اپنی رپورٹ، جس کی سرخی تھی’’ہزاروں کاکروچ تحریک کے مظاہرین نے دہلی مارچ کے ذریعے پولیس کی مزاحمت کو چیلنج کر دیا‘‘، میں لکھا کہ یہ حالیہ برسوں کے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے تھے۔اخبار کے مطابق مظاہرین کی اکثریت طلبہ اور جین زی (Gen Z) سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ جب انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران کے باہمی حملوں میں شدت ،خلیجی ممالک بھی لپیٹ میں
ہزاروں نوجوان مظاہرین نے پولیس رکاوٹوں کو چیلنج کیا: دی گارجین
دی گارجین نے لکھا کہ مظاہرین نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی پر سخت تنقید کر رہے تھے اور ان کا الزام تھا کہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو مایوس کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دہلی کی سڑکوں پر غصہ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اخبار نے مزید لکھا کہ اگرچہ نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکیں حکومتوں کے خاتمے کا سبب بن چکی ہیں، لیکن ہندوستان میں حالیہ برسوں میں اس پیمانے پر حکومت مخالف عوامی احتجاج کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔