ملک کے پولیس نظام میں مسلمانوں کی نمائندگی نہایت محدود نظر آتی ہے، خصوصاً اعلیٰ عہدوں پر ان کی تعداد بہت کم ہے۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے شہروں کے پولیس کمشنریٹ میں بھی مسلم افسران کی موجودگی گنتی کے چند ناموں تک محدود رہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 4:55 PM IST | New Delhi
ملک کے پولیس نظام میں مسلمانوں کی نمائندگی نہایت محدود نظر آتی ہے، خصوصاً اعلیٰ عہدوں پر ان کی تعداد بہت کم ہے۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے شہروں کے پولیس کمشنریٹ میں بھی مسلم افسران کی موجودگی گنتی کے چند ناموں تک محدود رہی ہے۔
مسلمانوں کو حاشیے پر ڈال دیا گیا ہے
۱۰۰۱؍ ڈی جی پیز، سی پیز اور ایس پیز میں ۲۷؍ مسلمان
۲۰۲۵؍ کے وسط تک ۳۴؍ ڈی جی پیز میں صرف ایک مسلمان
۹؍ ریاستوں کی تاریخ میں کوئی مسلمان ڈی جی پی نہیں
ہندوستان بھر میں ۱۰؍ ہزار ۴۳۱؍ ایس پیز میں ۲۹۷؍ مسلمان
ممبئی پولیس کے سربراہ کے طور پر ۳؍ مسلمان
محمد عبدالمنان کی نئی کتاب اَیٹ دی باٹم آف دی لیڈر: اسٹیٹ آف دی انڈین مسلمز کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی)، کمشنر آف پولیس (سی پی) اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے عہدوں پر مسلمانوں کی نمائندگی پوری تاریخ میں کم ترین سطح پر رہی ہے۔ اس کتاب میں یونین وزارتوں، محکموں اور دیگر اداروں سمیت ۱۵۰؍ اہم اداروں میں مسلمانوں کی موجودگی کو شمار کیا گیا ہے۔ اب تک ۱۰۰۱؍ ڈی جی پیز میں صرف ۲۷؍ مسلمان رہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ۹؍ ریاستوں، جن میں دہلی، ہریانہ، مغربی بنگال، اتراکھنڈ، تلنگانہ اور تمل ناڈو شامل ہیں، میں کبھی کوئی مسلم ڈی جی پی نہیں رہا۔ پانڈچیری اور لکشدیپ میں بالترتیب ۳۸؍ اور ۲۴؍ پولیس سربراہان میں سے دو دو مسلمان رہے ہیں۔ ملک بھر میں پولیس اکیڈمیوں کے ۲۹۴؍ سربراہان (زیادہ تر ڈی جی پی رینک افسران) میں صرف سات مسلمان رہے ہیں۔ ۲۰۲۴ء کے اختتام تک پورے ملک میں ۱۰؍ ہزار ۴۵۵؍ ایس پیز میں سے ۳۰۱؍ مسلمان تھے۔ اس وقت ایک ہزار ۸۸۴؍ ایس پیز اور ایڈیشنل ایس پیز میں ۶۸؍ مسلمان ہیں۔ مارچ ۲۰۲۵ء تک بھارت میں کل ۷۸۰؍ انتظامی اضلاع تھے۔ زیادہ تر اضلاع میں انتظامی نظام میں کلکٹر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ساتھ ایک ایس پی اور ایک ایڈیشنل ایس پی بھی ہوتا ہے۔ برطانوی ہندوستان میں رانا تالیہ محمد خان پہلے شخص تھے جنہوں نے پٹیالہ ریاست اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (ریاستی پولیس کے سربراہ) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ آزادی کے بعد کئی مسلم افسران ریاستی پولیس سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جنہیں بعد میں ترقی دے کر ڈی جی پی کا عہدہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سنبھل: شاہی جامع مسجد میں رنگ و روغن پرمحکمہ آثارقدیمہ کا اعتراض
۲۰۰۶ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ڈی جی پی کی تقرری ریاستی حکومتوں اور یو پی ایس سی دونوں کی شمولیت سے کی جائے۔ ۲۰۱۸ء میں اس فیصلے میں ترمیم کر کے واضح ہدایات دی گئیں کہ کسی فعال ڈی جی پی کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ریاستی حکومت یو پی ایس سی کو تجویز بھیجے، جو ریاست کے لیے موزوں تین افسران کا پینل تیار کرے، اور ریاست ان میں سے ایک کو ڈی جی پی منتخب کرے۔ اس فیصلے کے بعد پنجاب، ہریانہ، مغربی بنگال اور بہار نے ترمیم کی درخواست کی، مگر ۲۰۱۹ء میں سپریم کورٹ نے تمام درخواستیں مسترد کر دیں اور کہا کہ کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ اس فیصلے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی پولیس افسر کو کسی سیاسی جماعت کی طرف سے تبادلوں اور تقرریوں کے ذریعے ہراساں نہ کیا جائے اور کم از کم مدتِ ملازمت یقینی ہو۔ ۲۰۲۵ء کے وسط تک ۲۸؍ ریاستوں اور ۸؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ۳۴؍ ڈی جی پیز میں سے صرف ایک مسلمان ہے ایم اے سلیم (کرناٹک)۔ آندھرا پردیش میں ۳۸؍ ڈی جی پیز میں سے دو مسلمان عبدالسلام خان (جون ۱۹۷۳ء تا اپریل ۱۹۷۵ء) اور ایم عبدالباسط (جنوری تا اکتوبر ۲۰۰۷ء) رہے، جبکہ اروناچل پردیش میں ۲۵؍ ڈی جی پیز میں کوئی مسلمان نہیں رہا۔ آسام میں ۴۶؍ پولیس سربراہان میں تین مسلمان رہے، ایچ حسین (۱۹۵۷ء تا ۱۹۶۰ء)، ابراہیم علی (۱۹۶۲ء) اور ایس احمد (۱۹۷۵ء)۔ ۱۹۹۱ء کے بعد ۱۳؍ ڈی جی پیز میں کوئی مسلمان نہیں رہا۔ بہار کے ۵۱؍ ڈی جی پیز میں ایک مسلمان، وارث حیات خان (دسمبر ۲۰۰۳ء تا مارچ ۲۰۰۴ء) رہے۔ چھتیس گڑھ کے ۱۰؍ اور گوا کے ۳۲؍ ڈی جی پیز میں کوئی مسلمان نہیں رہا۔ گجرات کے ۲۵؍ میں ایک مسلمان، شبیر حسین کھنڈوالا (۲۰۰۹ء ) رہا۔ ہریانہ کے ۳۳؍ اور ہماچل پردیش کے ۱۴؍ میں کوئی نہیں۔ جھارکھنڈ کے ۱۴؍ میں ایک، نیاز احمد (۲۰۱۰ء)، جبکہ کرناٹک کے ۴۰؍ میں ایک، اے آر نظام الدین (۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۰ء) اور ۲۰۲۴ء میں ایم اے سلیم مسلمان ڈی جی پی بنے۔
یہ بھی پڑھئے: تریپورہ: آتشزدگی کے شکار ہندو خاندانوں کو مسلم شخص نے اپنے گھر میں پناہ دی
کیرالا کے ۳۶؍ ڈی جی پیز میں ۲؍ مسلمان، محمد عبد الستار کنجو (جون ۱۹۹۷ء) اور ڈاکٹر شیخ درویش صاحب (جون ۲۰۲۳ء تا جون ۲۰۲۵ء) رہے۔ مہاراشٹر میں بھی ۴۷؍ ڈی جی پیز میں صرف ایک مسلم سید مجید اللہ (فروری ۱۹۶۵ء تا جنوری ۱۹۶۸ء) رہے۔ منی پور میں ۱۹؍ ڈی جی پیز میں ۲؍ مسلم، اے صدیقی (مئی ۲۰۰۱ء تا جولائی ۲۰۰۲ء) اور شاہد احمد (نومبر ۲۰۱۳ء تا جنوری ۲۰۱۶ء) رہے، جبکہ میگھالیہ میں ۳۳؍ ڈی جی پیز میں صرف ایک مسلم ، اے رحمان (اپریل ۱۹۷۴ء تا فروری ۱۹۸۰ء) رہے۔
میزورم اور ناگا لینڈ میں بالترتیب ۱۳؍ اور ۲۳؍ ڈی جی پیز میں کوئی مسلم نہیں رہا اور ادیشہ میں ۴۵؍ ڈی جی پیز میں بھی کوئی مسلمان نہیں رہا۔ پنجاب میں ۴۱؍ ڈی جی پیز میں ایک مسلم، ڈاکٹر اے صدیقی (۲۰۰۳ء تا ۲۰۰۵ء) رہے جبکہ راجستھان اور سکم میں ۳۵؍ اور ۱۸؍ ڈی جی پیز میں کوئی مسلم نہیں اور یہی حال تمل ناڈو اور تلنگانہ کا بھی ہے جہاں بالترتیب ۴۳؍ اور ۳؍ ڈی جی پیز میں ایک بھی مسلمان نہیں۔ تریپورہ میں ۱۲؍ ڈی جی پیز میں ایک مسلمان، ڈاکٹر کے سلیم علی (۲۰۱۰ء تا ۲۰۱۱ء) رہے۔ اتراکھنڈ کی تاریخ میں ۱۲؍ ڈی جی پیز میں کوئی بھی مسلمان نہیں۔ ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے اتر پردیش میں ۷۱؍ ڈی جی پیز میں محض ۳؍ مسلمان، اسلام احمد (۱۹۷۱ء آئی جی پی)، رضوان احمد (جنوری فروری ۲۰۱۴ء) اور ایس جاوید احمد (۲۰۱۶ء) رہے جبکہ مغربی بنگال کے ۳۱؍ ڈی جی پیز میں اب تک ایک بھی مسلمان نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم تاجرکی ایمانداری، لاکھوں کے زیورات اسکے مالک کو لوٹا دئیے
مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں، اندمان اور نکوبار جزائر میں ۳۶؍ پولیس سربراہان میں صرف ایک مسلم نزہت حسن (جون ۲۰۱۷ء تا جون ۲۰۱۸ء) تھیں۔ اسی طرح چنڈی گڑھ میں تعینات ہونے والے ۲۰؍ پولیس سربراہان میں کوئی بھی مسلمان شامل نہیں رہا۔ یہی صورتِ حال دادرا اور نگر حویلی اور دمن و دیو میں بھی ہے، جہاں اب تک تعینات ہونے والے دونوں پولیس سربراہ مسلمان نہیں تھے۔ دہلی این سی ٹی کے ۲۶؍ سربراہان میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں تھا، جبکہ جموں کشمیر میں ۳۶؍ سربراہان میں ایک مسلم، پیر جی ایچ شاہ (مئی ۱۹۸۲ء تا جنوری ۱۹۸۵ء) تھے۔ لکشدیپ کے ۲۶؍ سربراہان میں سے دو مسلمان ایم اے سید (اپریل ۱۹۸۸ء تا جون ۱۹۹۰ء) اور قمر احمد (جون ۱۹۹۰ء تا اکتوبر ۱۹۹۲ء) تھے جبکہ پانڈچیری کے ۳۹؍ میں دو مسلمان ایم یو ملک (اکتوبر ۱۹۵۸ء تا اپریل ۱۹۶۲ء) اور اے ایس خان (۲۰۰۷ء تا ۲۰۰۸ء) شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال: ایس آئی آر میں عدالتی افسران کی تقرری کا حکم
حیدرآباد میں ایک پولیس کمشنریٹ ہے، جو ۱۸۴۷ء میں قائم ہوا ملک کا سب سے قدیم پولیس نظام ہے۔ یہ نظام برطانوی حکومت کے ذریعے ۱۸۵۶ء میں کو کلکتہ اور مدراس اور ۱۸۶۴ء میں بمبئی لایا گیا۔ ۱۸۴۷ء سے اب تک حیدرآباد میں ۷۰؍ پولیس کمشنر رہ چکے ہیں، جن میں سے محض ۱۸؍ مسلمان تھے، آخری اے کے خان جنوری ۲۰۱۰ء سے مئی ۲۰۱۲ء تک رہے۔ یہ نظام احمد آباد اور دہلی میں بالترتیب ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء لایا گیا۔ ۲۰۲۱ء میں بھوپال اور اندور نے سی پی نظام کو اپنایا۔ یہ پولیس نظام سی پی کو مزید ذمہ داریاں، بشمول کمشنر کے طور پر تعینات آئی جی، ڈی آئی جی رینک والے افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیتا ہے۔ اس نظام میں، کمشنر ایک متحد پولیس کمانڈ ڈھانچہ کا سربراہ ہوتا ہے جو شہر میں فورس کیلئے ذمہ دار اور ریاستی حکومت کو جوابدہ ہے۔ دفتر کے پاس مجسٹریٹ اختیارات سمیت ریگولیشن، کنٹرول اور لائسنسنگ سے متعلق اختیارات بھی ہوتے ہیں۔ اس نظام کے تحت کمشنر ضلع مجسٹریٹ کو رپورٹ نہیں کرتا جبکہ ممبئی اور دہلی میں وہ براہ راست حکومت کو رپورٹ کر سکتا ہے۔ یہ نظام بہار، مدھیہ پردیش، جموں کشمیر اور بہت سی شمالی ریاستوں کے علاوہ تقر۷یباً سبھی ریاستوں میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حکام کو ذات پات کا نظام ختم کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے: مدراس ہائی کورٹ
واضح ہو کہ یہ نظام تمل ناڈو کے بڑے شہروں مدورئی اور کوئمبتور میں اپریل ۱۹۹۰ء اور سیلم، تروچیراپلی، اور ترونیل ویلی میں جون ۱۹۹۷ءمیں متعارف کرایا گیا۔ بھونیشور کٹک میں اسے جنوری ۲۰۰۸ء میں متعارف کرایا گیا۔ جون ۲۰۰۷ء میں گڑگاؤں، اگست ۲۰۰۹ء میں فرید آباد، اگست ۲۰۱۱ء میں پنچکولا امبالا اور فروری ۲۰۱۰ء میں امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ میں اس نظام کو متعارف کرایا گیا۔ جے پور اور جودھ پور میں جنوری ۲۰۱۱ء میں، جبکہ دسمبر ۲۰۰۳ء میں سائبرآباد، سورت، راجکوٹ، اور وڈودرا کے ساتھ جنوری ۲۰۱۲ء میں بیدھا نگر اور بیرک پور میں اور اکتوبر ۲۰۱۸ء میں کالابوراگی میں بھی یہ نظام لایا گیا۔ یہ نظام سب سے زیادہ مہاراشٹر کے ۱۱؍ شہروں میں موجود ہے۔
جون۲۰۱۹ء میں کوچی اور تھرواننت پورم میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدوں کو تبدیل کر کے کمشنر آف پولیس کر دیا گیا، تاہم ، ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے اختیارات منتقل نہیں کئےگئے۔ مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، شمال مشرق کی کئی ریاستیں، جموں کشمیر، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں اب تک پولیس کمشنریٹ نظام نافذ نہیں کیا گیا۔ پولیس کا نظام اب بھی پولیس ایکٹ۱۸۶۱ءکے تحت چل رہا ہے، اور بی پی آر ڈی کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری۲۰۱۸ء تک۱۵؍ ریاستوں کے۶۱؍ شہروں میں یہ نظام نافذ تھا۔اس وقت ۱۶؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے۷۱؍ میٹرو شہروں اور قصبوں میں پولیس کمشنریٹ نظام نافذ ہے۔ نیشنل پولیس کمیشن کی ۱۹۸۳ء کی چھٹی رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ پانچ لاکھ یا اس سے زیادہ آبادی والے شہروں اور خصوصی حالات والے علاقوں میں یہ نظام نافذ ہونا چا ہئے بعد ازاں۲۰۰۵ء میں یونین ہوم منسٹری کی قائم کردہ کمیٹی کے تیار کردہ ڈرافٹ ماڈل پولیس ایکٹ میں بھی یہی تجویز دی گئی کہ دس لاکھ یا اس سے زیادہ آبادی والے میٹرو اور بڑے شہری علاقوں میں یہ نظام ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: امبرپیٹھ میں تراویح کی نماز کے دوران ، مسجد کے قریب نعرے بازی کے بعد کشیدگی
ہریانہ میں گروگرام کو ایک مسلم پولیس کمشنر ملا تھا۔ محمد عقیل (فروری۲۰۱۹ء تا اگست۲۰۲۰ء)۔ فرید آباد اور پنچکولا میں بھی ایک ایک مسلم کمشنر رہے ڈاکٹر حنیف قریشی (۲۰۱۶ء تا ۲۰۱۸ء)، جبکہ پنچکولا میں دوبارہ ڈاکٹر حنیف قریشی (اپریل تا نومبر۲۰۲۲ء) رہے۔ بنگلورو میں مجموعی طور پر۳۸؍ پولیس کمشنروں میں سے دو مسلمان رہے ۔خادر علی (اپریل۱۹۶۶ء تا اکتوبر۱۹۶۸ء) اور اے آر نظام الدین (دسمبر۱۹۸۰ء تا مارچ۱۹۸۳ء)۔ کلابورگی میں ایک ایم عبداللہ سلیم (۲۰۱۳ء) جبکہ تھرواننت پورم میں پی کے محمد حسن (اکتوبر۱۹۶۷ء تا فروری۱۹۶۹ء) رہے۔
کوچی میں دو مسلم کمشنر رہے بی ایس محمد یٰسین (۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۰ء) اور ڈاکٹر شیخ درویش صاحب (اپریل۲۰۰۲ء)۔ کوزیکوڈ میں تین وی اے شفیع (۱۹۷۷ء تا ۷۸ء)، جے انصاری (۱۹۸۳ء تا ۸۵ء)، اور پی ایم عبدالقادر (۲۰۰۱ء تا ۲۰۰۱ء)۔ کولم میں اجیتا بیگم جبکہ تریشور میں چار مسلمان کمشنر رہے کے وی محمد (۱۹۵۷ء)، معین الدین کنہی (۱۹۷۹ء)، ڈاکٹر شیخ درویش صاحب (۱۹۹۸ء) اور پی ایم عبدالقادر (۱۹۹۹ء)۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس کے خلاف کانگریس کا’ ستیہ گرہ‘
ممبئی میں تین مسلمان پولیس کمشنر رہے ایس مجید اللہ (مارچ۱۹۶۲ءتا فروری۱۹۶۵ء)، حسن غفور (مارچ۲۰۰۸ء تا جون۲۰۰۹ء)، اور احمد جاوید (ستمبر۲۰۱۵ء تا جنوری۲۰۱۶ء)، جو اس سے پہلے ناگپور کے کمشنر (۲۰۱۰ء تا ۲۰۱۲ء) اور شولاپور کے کمشنر (۱۹۹۷ء تا ۱۹۹۹ء) بھی رہ چکے تھے۔ ناسک میں ایس ایم سید جون ۲۰۰۷ء سے اپریل۲۰۰۸ء تک رہے۔ امراوتی میں ایس ایم مشرف جبکہ امرتسر میں محمد اظہار عالم کمشنر رہے۔۲۰۱۱ءکی مردم شماری کے مطابق وہ بڑے شہر جہاں اب تک پولیس کمشنریٹ نظام نہیں ہے (جن کی آبادی۱۵؍ لاکھ سے زیادہ ہے) ان میں پٹنہ، غازی آباد اور آگرہ شامل ہیں۔