Updated: June 09, 2026, 10:05 PM IST
| London
فیفاورلڈ کپ۲۰۲۶ء میں شرکت کرنے والے کئی ممالک کے مداحوں کو امریکہ میں ویزا پابندیوں اور سخت امیگریشن قوانین کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے جس سے ان کا میچز دیکھنے کا خواب متاثر ہو رہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ویزا ریجیکشن اور سفری پابندیاں بعض ممالک کے شائقین کیلئے ورلڈ کپ تک رسائی کو تقریباً ناممکن بنا رہی ہیں۔
افریقی ملک گھانا کے مداح اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے، اس ورلڈ کپ میں افریقی ممالک کے مداحوں کو ویزا ملنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تصویر: آئی این این
جب مارچ کے آخر میں عراق کی فٹبال ٹیم نے ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کیا تو عبداللہ عدنان نے اپنی ٹیم کے ناروے اور فرانس کے خلاف میچز کیلئے ٹکٹ خرید لئے، جو اس ماہ امریکہ کے شہروں بوسٹن اور فلاڈیلفیا میں کھیلے جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں ’’میچ دیکھنے، اسٹیڈیم میں جانے، ہجوم کے ساتھ نعرے لگانے اور اپنی ٹیم کو دیکھنے کا تجربہ میرے لئے سب کچھ ہے، یہ ایک ایسا احساس ہے جس کا کوئی اور احساس مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ‘‘ یہ عراق کا ورلڈ کپ کیلئے صرف دوسری بار کوالیفائی ہے، پہلی بار۱۹۸۶ءمیں تھا۔ لیکن ویزا حاصل کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ اور عدنان اکیلے نہیں ہیں۔ بی بی سی ورلڈ سروس کے سفری ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق ورلڈ کپ میں حصہ لینے والے ایک چوتھائی سے زیادہ ممالک کے فینز سفری پابندیوں، سخت قوانین یا ویزا مسترد ہونے کی بلند شرح کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم، عراق ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں، اس لئے عدنان کے معاملے میں رکاوٹ ایک غیر متوقع تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۳۰ء تک اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو ۳ء۹؍ کھرب لیٹر پانی درکار ہوگا: رپورٹ
ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد، امریکہ نے خطے میں سیکوریٹی خدشات کی وجہ سے عراق میں معمول کی قونصلر خدمات معطل کر دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عراق میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں عدنان اور دیگر عراقی فینز ویزا حاصل کر سکیں، کیونکہ انہیں انٹرویو کیلئے ذاتی طور پر حاضر ہونا لازمی ہے۔ اس لئے عدنان نے ویزا حاصل کرنے کیلئے قریبی ملک اردن کا سفر کیا۔ لیکن جب وہ اپنی اپائنٹمنٹ پر پہنچے تو عملے نے بتایا کہ چونکہ وہ اردنی شہری نہیں ہیں، اس لئے وہاں کا سفارتخانہ انہیں ویزا جاری نہیں کر سکتا۔ میچ کے ٹکٹ اور اردن کے سفر پر ان کے تقریباً۱۸۰۰؍ ڈالر خرچ ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا امریکہ اب بھی عظیم ہے؟ ایک چوتھائی شہریوں نے اسے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا
عدنان نے ترکی میں ویزا اپلائی کرنے پر غور کیا، لیکن یہ عمل دو ہفتے تک لے سکتا تھا، اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اتنا وقت گھر سے دور نہیں گزار سکتے۔ انہوں نے ویزا کی کوشش ترک کر دی۔ کئی ممالک کے فینز نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا ہے کہ دیگر رکاوٹیں بھی شدید غصے اور مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ ایک رکاوٹ صدر ٹرمپ کی وہ فہرست ہے جس میں بعض ممالک پر ویزا پابندیاں اور سخت قوانین شامل ہیں، جن میں ورلڈ کپ کھیلنے والے چار ممالک ہیٹی، ایران، سینیگال اور آئیوری کوسٹ بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان ممالک کے شہریوں کو وہ وزیٹر ویزا نہیں مل سکتا جو امریکی حکام فینز کیلئے تجویز کرتے ہیں۔ سخت امیگریشن پالیسی اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن ٹرمپ کی۲۰۲۴ءکی انتخابی مہم کا اہم حصہ تھے۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ ان کے نظام کو سخت ہونا چا ہئے تاکہ سرحدوں سے آنے والے بڑے دباؤ کو سنبھالا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ کے ۱۰۰؍دن : خطے نے ہزاروں جانیں گنوائیں، ایندھن کا بحران، دنیا بے حال
آئیوری کوسٹ کے فین اسوسی ایشن کے جولیئن کوادیو ایڈونیس کہتے ہیں :’’یہ ایک قسم کی امتیازی سلوک ہے، جسے کھل کر نہیں کہا جاتا، لیکن ثبوت موجود ہیں۔ کسی یورپی ملک کو اس طرح کی پابندیوں کا سامنا نہیں۔ کیوں افریقہ؟‘‘ان کی تنظیم عام طور پر ورلڈ کپ کیلئے فینز کا ایک گروپ بھیجتی ہے، لیکن اس بار انہوں نے کوشش ہی نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ قوانین بہت سخت ہیں۔ اگرچہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ ’مہنگے‘ ٹکٹوں سے بچ جائیں گے، لیکن ایڈونیس کا خیال ہے کہ جو ملک فینز کو خوش آمدید نہیں کہنا چاہتا اسے ورلڈ کپ کی میزبانی نہیں کرنی چاہئے۔ وہ کہتے ہیں ’’فٹبال ایک شو ہے اور شو کیلئے ناظرین ضروری ہیں۔ ‘‘چوالیس نسبتاً امیر ممالک کو ویزا ویور پروگرام کا فائدہ حاصل ہے، جس کے تحت آن لائن ESTA سسٹم کے ذریعے درخواست دی جاتی ہے۔ اس کی لاگت تقریباً ۴۰؍ڈالر ہے۔ اس فہرست میں کوئی بھی افریقی ملک شامل نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران۔اسرائیل جنگ بندی کے خاتمے پر ای یو کا انتباہ: خطے میں جنگ کی ’بہت بھاری قیمت‘ چکانی پڑے گی
جن فینز کو ویزا درکار ہوتا ہے، ان کیلئے تجویز کردہ ویزا کی قیمت۱۸۵؍ڈالر ہے اور انٹرویو ذاتی طور پر دینا پڑتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کہتا ہے کہ درخواست دہندہ کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ سفر کے بعد واپس جائے گا اور سفر کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے۔ تاہم، مئی میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ کچھ ورلڈ کپ کوالیفائیڈ ممالک الجزائر، کیپ وردے، آئیوری کوسٹ، سینیگال اور تیونس کے شہریوں کیلئے۱۵؍ ہزار ڈالر تک کے ڈیپازٹ کی شرط ختم کر دے گا، بشرطیکہ ان کے پاس ورلڈ کپ کے ٹکٹ ہوں۔ سینیگال اور آئیوری کوسٹ کے فینز کو دسمبر سے پہلے ویزا حاصل کرنا لازمی تھا، اس کے بعد پابندیاں شروع ہو گئیں۔ سینیگال کے فین علیو نغوم نے روس اور قطر کے پچھلے ورلڈ کپ دیکھے ہیں۔ ان کیلئے ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی خوشی ’’دنیا بھر کی ثقافتوں کو اکٹھا ہوتے دیکھنا‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور اسرائیل کے جنگی جرائم پر جرمنی کی خاموشی اس کی عالمی ساکھ کیلئے نقصاندہ: پیس رپورٹ
امریکہ میں سینیگال کی خواتین باسکٹ بال ٹیم کا ٹریننگ کیمپ بھی گزشتہ سال ویزا نہ ملنے کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا، اور نغوم کی طرح انہیں بھی لگا کہ فین کی حیثیت سے ویزا کی درخواست دینا بے فائدہ ہوگا۔ بی بی سی کے تجزیے کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ۴۸؍ میں سے۱۱؍ کوالیفائی کرنے والے ممالک کے شہریوں کی ویزا درخواستیں ۴۰؍ فیصد سے زیادہ مسترد ہوئیں۔ یہ شرح تمام ممالک کے اوسط۳۴؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ۱۱؍ ممالک ہیں : ایکواڈور، مصر، ہیٹی، الجزائر، ازبکستان، کیپ وردے، اردن، ایران، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، گھانا اور سینیگال۔
زیادہ مسترد ہونے کی شرح کی وجہ سے ان ممالک کے فینزکیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا وہ ٹکٹ خریدنے سے پہلے ویزا کی کوشش کریں یا نہیں۔ بوسٹن میں قائم امیگریشن قانون کی ماہر سائلین عطا اللہ کہتی ہیں ’’اگر وہ فیفا سے ٹکٹ خریدیں تو وہ بعد میں انہیں فیفا ویب سائٹ پر دوبارہ فروخت بھی کر سکتے ہیں، اور فیفا پاس سسٹم ویزا اپلائی کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ فیفا پاس ایک مثبت قدم ہے کیونکہ یہ ویزا اپائنٹمنٹ کو ترجیح دیتا ہے۔ ‘‘لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس سے عمل تیز ضرور ہوتا ہے، مگر ویزا ملنے کے امکانات میں اضافہ نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی اور بوٹس انسان سے زیادہ انٹرنیٹ ٹریفک پیدا کررہے ہیں : کلاؤڈفلیئر
’’ورلڈ کپ کا ویزا سسٹم ایک پوشیدہ دروازہ ہے۔ ‘‘ان کا مزید کہنا ہے ’’فیفا ٹکٹ بیچ سکتا ہے، لیکن امریکی حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو ویزا ملے گا، اور سرحدی حکام فیصلہ کرتے ہیں کہ کون داخل ہو سکے گا۔ ‘‘یہاں تک کہ ویزا ملنے کے بعد بھی امریکہ میں داخلہ یقینی نہیں، کیونکہ بارڈر حکام داخلے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اردن کے فین اسوسی ایشن کے سربراہ ابو کاس کے مطابق ان کے ملک میں ۵۷؍ فیصد ویزا درخواستیں مسترد ہوئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’پچھلے تین سے چار مہینوں میں مسلسل لوگوں کو ویزا نہیں مل رہا۔ ‘‘ ان کے مطابق انہیں ایک بھی ایسا فین معلوم نہیں جسے ویزا ملا ہو۔ انہوں نے عمان میں ویزا انٹرویو کیلئے۴۲؍ سے زیادہ دستاویزات جمع کرائیں، لیکن ان کی درخواست مسترد ہو گئی۔ امریکہ ویزا مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتاتا۔ وہ کہتے ہیں ’’یہ ورلڈ کپ ہمارا نہیں، یہ عربوں کیلئے نہیں ہے، یہ ان کیلئےہے۔ اگر فین اسوسی ایشن کے سربراہ کو بھی ویزا نہیں ملا تو باقی کس کو ملے گا؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہند نژاد نتھیا رمن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں نمایاں امیدوار بن گئیں
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت ’دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کا خیرمقدم کرنے کیلئے تیار ہے‘ اور’زیادہ تر فینز کو فیفا پاس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ کنیڈا یا۴۲؍ ویزا فری ممالک کے شہری ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ ہر درخواست کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شخص سیکوریٹی خطرہ نہیں ہے۔ ہوم لینڈ سیکوریٹی کے مطابق ویزا ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ میں رہ جانے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۴ءکے درمیان۵؍ لاکھ۳۸؍ ہزار سے زیادہ’اوور اسٹے‘ واقعات رپورٹ ہوئے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق۲۰۲۳ءمیں امریکہ میں تقریباً۱۴؍ ملین غیر قانونی تارکین وطن موجود تھے۔ پچھلے چار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے ممالک نے فینز کیلئے خصوصی ویزا سسٹم بنائے تھے، اگرچہ منظوری یقینی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: صدی کا نایاب سورج گہن، دن میں ۶؍ منٹ سے زائد اندھیرا چھا جائے گا
اس بار کنیڈ ااور میکسیکو مشترکہ میزبان ہیں، لیکن۱۰۴؍ میں سے ۷۸؍ میچز، بشمول فائنل، امریکہ میں ہوں گے۔ کنیڈا اور میکسیکو کے امیگریشن قوانین امریکہ سے مختلف ہیں۔ کنیڈا نے بھی حالیہ ایبولا وبا سے متاثرہ ممالک پر پابندیاں لگائی ہیں، جن میں کانگو بھی شامل ہے۔ کنیڈا ویزا کیلئے بایومیٹرک ڈیٹا لازمی کرتا ہے، لیکن دو کوالیفائی کرنے والے ممالک ایران اور کیپ وردے میں اس کیلئےسہولت موجود نہیں۔ کنیڈا ۲۰۲۵ء میں ۵۴؍ فیصد ویزا درخواستیں مسترد کرتا ہے۔ میکسیکو ویزا ڈیٹا شائع نہیں کرتا۔ وہاں درخواست دہندگان کو سفارت خانے یا قونصل خانے میں ذاتی طور پر درخواست دینی ہوتی ہے۔ لیکن آٹھ کوالیفائی کرنے والے ممالک میں میکسیکو کا سفارتی نمائندہ موجود نہیں۔