Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار سے ویسٹ منسٹر تک، اینڈی برنہم کی کابینہ میں تین ہند نژاد ارکان کو اہم عہدے

Updated: July 27, 2026, 9:02 PM IST | London

برطانیہ کے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے نئی کابینہ کا اعلان کرتے ہوئے ہند نژاد لیبر ارکانِ پارلیمنٹ کو اہم وزارتیں اور حکومتی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ اس رد و بدل کے بعد حکومت کی اعلیٰ قیادت میں ہند نژاد وزراء کی نمائندگی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

Harpreet uppal, Satvir Kaur and Kanishka Narayan. Photo: X
ہرپریت اپّل، ستویر کور اور کنشک نارائن۔ تصویر: ایکس

برطانیہ کے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے اپنی نئی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے جس میں ہند نژاد لیبر پارٹی کے تین ارکانِ پارلیمنٹ کو اہم سرکاری عہدے دیئے گئے ہیں۔ کنشک نارائن کو وزیرِ مملکت برائے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ستویر کور اور ہرپریت اپّل کو بھی حکومت میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس رد و بدل کے بعد لیبر حکومت کی اگلی صف (Front Bench) میں ہند نژاد سیاستدانوں کی موجودگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سری لنکن تمل ہندو پس منظر رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ اوما کمارن کو بھی دفترِ خارجہ میں جونیئر وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری کے بعد حکومت کی اگلی صف میں اب دو ہندو اور دو سکھ وزراء شامل ہیں۔ تاہم، اس رد و بدل کے نتیجے میں بعض معروف شخصیات حکومت سے باہر بھی ہو گئی ہیں۔ 
سیما ملہوترا، جو انڈو پیسیفک امور کی وزیر تھیں، اور پریت کور گل، جو جونیئر وزیرِ صحت کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، اب دوبارہ عام ارکانِ پارلیمنٹ (Backbenchers) کی حیثیت سے کام کریں گی۔ دونوں کو سابق وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ دوسری جانب لیزا نینڈی اپنی کابینہ کی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں اور بدستور وزیرِ ثقافت کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: لندن: یہ جمہوریت کی بھی لڑائی ہے؛ گریٹا تھنبرگ طلبہ کے احتجاج میں شریک

کنشک نارائن
کنشک نارائن ویلز کے حلقہ ویل آف گلیمورگن سے لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں کنزرویٹو امیدوار ایلن کیرنز کو شکست دے کر یہ نشست جیتی تھی۔ ان کی پیدائش ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر مظفر پور میں ہوئی۔ وہ۱۲؍ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ کارڈف منتقل ہوئے۔ ان کا بچپن نہایت سادہ حالات میں گزرا اور ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ ایک کمرے کے گھر میں فرش پر سویا کرتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ایٹن کالج، آکسفورڈ یونیورسٹی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ برطانوی سول سروس میں خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دور میں کابینہ آفس اور بعد ازاں لز ٹرس کے دور میں محکمہ ماحولیات میں بھی کام کیا۔ وہ اس سے پہلے محکمہ سائنس، اختراع اور ٹیکنالوجی میں پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ بھی رہ چکے ہیں۔ اب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے انہیں ترقی دے کر وزیرِ مملکت برائے مصنوعی ذہانت مقرر کیا ہے۔ وہ کابینہ آفس اور محکمہ کاروبار، اختراع، سائنس اور تجارت میں مشترکہ طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: کویت میں حکومت نے پینے کے پانی کی حد مقرر کر دی

ستویر کور
ستویر کور ساؤتھمپٹن ٹیسٹ سے لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ ہیں اور پہلی مرتبہ جولائی۲۰۲۴ءمیں منتخب ہوئیں۔ ان کے والدین کا تعلق ہندوستانی ریاست پنجاب سے ہے اور وہ ساؤتھمپٹن میں ساڑھیوں کی ایک دکان چلاتے تھے۔ ستویر کور پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ انہوں نے تاریخ اور سیاست کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد ساؤتھمپٹن میں قانون کی ڈگری مکمل کی۔ انہیں اب وزارتِ ہاؤسنگ، کمیونٹیز اینڈ لوکل گورنمنٹ میں پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ اور وزیر برائے مساوات (Equalities) مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ہوم آفس میں بھی پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ کے طور پر خدمات انجام دیں گی، جہاں ان کی ذمہ داریوں میں شہریوں کا تحفظ، خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی روک تھام، اور مساوات کے امور شامل ہوں گے۔ ستویر کور ستمبر۲۰۲۵ء سے جولائی۲۰۲۶ء تک کابینہ آفس میں پارلیمانی سیکریٹری بھی رہ چکی ہیں۔ اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد انہوں نے ستمبر۲۰۲۵ءسے فروری۲۰۲۶ءتک زچگی کی رخصت (Maternity Leave) لی، جس کے بعد دوبارہ حکومتی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ۱۰۰؍دن، صدر ٹرمپ کو سخت سیاسی امتحان کا سامنا

ہرپریت اپّل
ہرپریت اپّل ہڈرزفیلڈ سے لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ ہیں اور انہیں اسسٹنٹ وہِپ (Assistant Whip) مقرر کیا گیا ہے۔ پارلیمانی وہِپس کا کام ایوان کی کارروائی کو منظم رکھنا، اہم ووٹنگ کے موقع پر ارکانِ پارلیمنٹ کی موجودگی یقینی بنانا اور انہیں پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ دینے پر آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے وہ مئی ۲۰۱۸ءسے مئی۲۰۲۲ء تک کرکلیز کونسل میں ایش برو وارڈ کی کونسلر رہیں۔ اس دوران انہوں نے اکانومی اینڈ نیبرہڈ اسکروٹنی پینل کی سربراہی بھی کی۔ ہرپریت اپّل کا اینڈی برنہم سے پرانا سیاسی تعلق بھی ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۷ء میں مانچسٹر کے میئر کے انتخاب میں اینڈی برنہم کی انتخابی مہم میں کام کیا تھا، جبکہ بعد میں برنہم نے خود ان کی پارلیمنٹ میں آنے کی مہم کی بھی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھئے: جنگی جرائم میں ملوث افراد کا لندن میں خیر مقدم نہیں ہے: میئر صادق خان

لیزا نینڈی بدستور وزیرِ ثقافت
لیزا نینڈی نے اینڈی برنہم کی نئی کابینہ میں اپنی وزارت برقرار رکھی ہے، تاہم ان کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وہ بدستور وزیرِ مملکت برائے ڈجیٹل، ثقافت، میڈیا اور کھیل رہیں گی، لیکن اب ان کے قلم دان میں ڈجیٹل صنعتیں بھی شامل ہوں گی، کیونکہ اینڈی برنہم نے محکمہ سائنس، اختراع اور ٹیکنالوجی ختم کر کے ڈجیٹل شعبہ دوبارہ محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل (DCMS) کے ماتحت کر دیا ہے۔ لیزا نینڈی ویگن سے لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ ہیں اور دو برس سے زائد عرصے سے وزارتِ ثقافت سنبھال رہی ہیں، جس کے باعث وہ۲۰۱۲ء میں جیرمی ہنٹ کے بعد سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والی وزیرِ ثقافت بن گئی ہیں۔ وہ سابق وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر کی کابینہ میں بھی اسی منصب پر فائز تھیں اور ان چند وزراء میں شامل ہیں جنہوں نے نئی حکومت میں بھی اپنا عہدہ برقرار رکھا۔ لیزا نینڈی کے والد دیپک نینڈی کا تعلق ہندوستان کے شہر کولکاتا سے تھا جبکہ ان کی والدہ لوئیس بائرز برطانوی نژاد ہیں۔ اس طرح وہ کنشک نارائن کے ساتھ اینڈی برنہم کی نئی کابینہ میں شامل دو ہندنژاد شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کا اسی عہدے پر برقرار رہنا اس لئے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل (DCMS) میں \۲۰۱۹ءکے بعد سے اب تک نو مختلف وزراء خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK