• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈگری کی افادیت پر سوال، نوجوان اعلیٰ تعلیم سے رخ موڑ رہے ہیں، رپورٹ میں انکشاف

Updated: September 05, 2026, 11:02 AM IST | New Delhi

مہاراشٹر میں اعلیٰ تعلیم کے لیے نوجوانوں کے رجحان میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جو ملک کے تعلیمی نظام اور روزگار کے مواقع پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں طلبہ نے گریجویشن کی تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کی ہے، جس کی بڑی وجہ ڈگری کی گرتی ہوئی افادیت اور بڑھتا ہوا مالی بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔

There may be several reasons for the lack of interest in education among young people. Photo: INN
نوجوانوں میں تعلیم کے تئیں دلچسپی کم ہوئی ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

جولائی کے پہلے ہفتے میں جب نوجوانوں کے احتجاج کا سلسلہ جنتر منتر پر جاری تھا، اسی دوران مرکزی حکومت نے اعلیٰ تعلیم میں داخلوں سے متعلق دو اہم رپورٹیں جاری کیں۔ یہ رپورٹس آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (AISHE) کے تحت ۲۰۲۲ء۔ ۲۳ء اور۲۰۲۳ء۔ ۲۴ءکیلئے جاری کی گئیں۔ ان رپورٹس کے نتائج تشویشناک تھے۔ ۲۰۱۱ء کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستان میں ان طلبہ کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو انڈر گریجویٹ ڈگری کورسیز میں داخلہ لے رہے ہیں۔ ۲۰۲۳ء۔ ۲۴ء میں انڈر گریجویٹ سطح پر داخلوں کی تعداد گزشتہ تعلیمی سال کے مقابلے میں ۹۳؍ ہزار ۳۲۱؍کم رہی، جو۰ء۲۹؍ فیصد کی کمی ہے۔ قومی سطح پر یہ کمی بظاہر معمولی محسوس ہو سکتی ہے لیکن ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اعلیٰ تعلیم میں داخلوں میں تیزی سے اضافہ ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی کی کتاب ’Belonging‘ اب ہارپرکولنز شائع کرے گا، ۱۰؍ نومبر کو ریلیز

مہاراشٹر ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں یہ کمی سب سے زیادہ نمایاں رہی۔ یہاں بارہویں جماعت مکمل کرنے والے تقریباً ۵؍فیصد طلبہ نے انڈر گریجویٹ کورسز میں داخلہ نہیں لیا۔ اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ریاست میں تقریباً دو لاکھ کم نوجوانوں نے ڈگری پروگراموں کا انتخاب کیا۔ ان کی تعداد۲۰۲۲ء۔ ۲۳ء میں ۳۶؍ لاکھ ۸۸؍ ہزار ۹۵۶؍\تھی جو۲۰۲۳ء۔ ۲۴ءمیں گھٹ کر۳۵؍ لاکھ۰۴۰۴۶؍ رہ گئی۔ مہاراشٹر کا معاملہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہ ملک کی سب سے زیادہ صنعتی ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ممبئی، پونے، ناسک اور اورنگ آباد جیسے شہر موجود ہیں، جہاں مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر میں روزگار کے وسیع مواقع دستیاب ہیں۔ ایسی ریاست میں نوجوانوں کے درمیان ڈگری کی اہمیت کا کم ہونا بہت کچھ بتاتا ہے، کیونکہ منظم شعبے میں اچھی ملازمت حاصل کرنےکیلئے گریجویٹ ڈگری ایک بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی: مسلم صحافیوں پر مبینہ تشدد، صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کی شدید مذمت کی

کیا یہ ممکن ہے کہ ان نوجوانوں نے روایتی ڈگریوں کے بجائے مختصر مدت کے ہنرمندی پر مبنی سرٹیفکیٹ یا ڈپلومہ کورسز کا رخ کرلیا ہو؟ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ حکومت کی اسی رپورٹ کے مطابق ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز میں داخلوں میں صرف معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آخر مہاراشٹر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم سے منہ کیوں موڑ رہی ہے اور اچانک اس تعداد میں اتنا اضافہ کیوں ہوا ہے؟اس کا جواب یا تو تعلیم کے تئیں کم ہوتی دلچسپی میں پوشیدہ ہے یا پھر والدین کی مالی استطاعت میں کمی میں۔ دراصل یہ دونوں عوامل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر والدین اعلیٰ تعلیم کو وقت اور پیسے کی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر یہ سرمایہ کاری روزگار کے بہتر مواقع اور مستحکم ملازمت فراہم نہ کرے تو والدین لازماً اس کی ضرورت پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ جب گھریلو آمدنی میں ٹھہراؤ آ جائے یا وہ کم ہونے لگے تو اعلیٰ تعلیم ادھوری چھوڑنے یا اس سے دستبردار ہونے کا امکان تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مراٹھا سماج سڑکوں پر، حکومت کی منوج جرنگے کو منانے کی کوشش

مثال کے طور پر امریکہ میں ہائی اسکول سے فارغ ہونے والے تقریباً۶۴؍ فیصد طلبہ ڈگری دینے والے اداروں میں داخلہ لیتے ہیں۔ ان اداروں میں باضابطہ طور پر دو سالہ اسوسی ایٹ ڈگری اور چار سالہ بیچلر پروگرام دونوں شامل ہیں۔ یہ شرح ہندوستان کے اعلیٰ تعلیم کے مجموعی داخلہ تناسب (Gross Enrollment Ratio) سے تقریباً دوگنی ہے۔ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں ثانوی تعلیم کے بعد باقاعدہ اعلیٰ تعلیم میں شرکت کی شرح ہندوستان کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے، جبکہ وہاں فراہم کی جانے والی تعلیم کا معیار بھی نمایاں طور پر بہتر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ AISHE کے اعداد و شمار ایسے وقت میں جاری کئے گئے جب مرکزی حکومت کی جانب سے مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے تناسب سے تعلیم پر اخراجات کم کئےجانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: منی پور تشدد: ریاستی حکومت نے ۳؍سال کے اعداد و شمار جاری کئے

داخلوں میں یہ کمی اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ گریجویٹ ڈگریوں کی ’’سگنلنگ ویلیو‘‘ کم ہو گئی ہے۔ نظریاتی طور پر ڈگری روزگار کی منڈی میں ایک سگنل کے طور پر کام کرتی ہے، یعنی یہ اس بات کی ضمانت سمجھی جاتی ہے کہ ڈگری رکھنے والے شخص کے پاس ملازمت کیلئے ضروری علم اور مہارت موجود ہے۔ تاہم، ہندوستانی کالجوں کے معیار میں مسلسل گراوٹ کے باعث ڈگریاں اب طلبہ کی حقیقی قابلیت کی ضمانت دینے کے بجائے محض ایک کم از کم رسمی شرط بن کر رہ گئی ہیں۔ موجودہ ضابطہ جاتی نظام کے تحت ایسے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنا تقریباً ناممکن ہے جو مارکیٹ کی مطلوبہ جدید مہارتیں اور علم فراہم کر سکیں۔ پہلے سے قائم اداروں کو حقیقی مسابقت سے تحفظ حاصل ہے۔ ان پر تدریسی معیار بہتر بنانے، نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے یا تدریس کے نئے اور اختراعی طریقے اپنانے کا کوئی حقیقی دباؤ نہیں ہے۔ نتیجتاً تعلیم کے شعبے میں نئے اور پُرجوش ادارے قائم کرنے والے کاروباری افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اس کے بجائے سیاستدانوں نے اس ضابطہ جاتی نظام کا فائدہ اٹھایا ہے اور ملک میں نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے والے سب سے بڑے فریق بن کر ابھرے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی ایک بڑی وجہ یہی صورتحال ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مختلف ریاستوں میں سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ، معمولات متاثر

ہندوستانی عوام اکثر ’’تعلیم کی تجارت کاری‘‘ کی شکایت کرتے ہیں، لیکن یہ بات صرف محدود معنوں میں درست ہے۔ ایک حقیقی آزاد منڈی میں ناقص معیار کی سزا ملتی ہے اور کم معیار کے ادارے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہندوستان کے بگڑے ہوئے نظام میں تعلیمی ادارے آسانی سے قائم رہ سکتے ہیں اور یہاں تک کہ انہیں توسیع کی ترغیب بھی مل سکتی ہے، چاہے وہ کبھی اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم نہ کریں۔ جب ڈگری کی سگنلنگ ویلیو اس پر خرچ ہونے والے وقت اور پیسے کے مقابلے میں کم ہو جائے تو اعلیٰ تعلیم سے دوری اختیار کرنا والدین اور طلبہ کیلئے ایک انتہائی منطقی معاشی فیصلہ بن جاتا ہے۔ وہ محض ایک ناکام نظام سے باہر نکلنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس انتہائی مایوس کن صورتحال کے پس منظر میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے مؤثر انداز میں تعلیم کے معیار کو سیاسی ایجنڈے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ یہ مسئلہ طویل عرصے تک سیاسی ایجنڈے میں برقرار رہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK