Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپؐ نےجو دُعائیں سکھائیں ان میں تربیت کا بہترین سامان رکھا، کیا ہم پڑھتے ہیں؟

Updated: April 10, 2026, 2:41 PM IST | Muhiuddin Ghazi | Mumbai

اللہ کے رسول ﷺ بہترین مربی اور معلم ِ اخلاق تھے۔ شخصیت کی تعمیر اور ذات کی تربیت کے سلسلے میں آپؐ کا اسلوب ہر زمانے کیلئے بہترین نمونہ ہے۔ اس نمونے کا ہر زاویہ اپنے اندر سیکھنے کا بہت سامان رکھتا ہے۔

Man has some internal enemies, who lick him like dirt from within and destroy the essence of his personality. This prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) warns him. Photo: INN
انسان کے کچھ اندرونی دشمن ہوتے ہیں، جو اسے اندر سے گھن کی طرح چاٹتے اور شخصیت کے جوہر کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی اس دعا میں ان کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

نبی کریم ﷺ کی تربیت کا ایک پہلو یہ ہے جس کی طرف توجہ کم جاتی ہے کہ آپؐ نےجو دعائیں سکھائیں، ان میں تربیت کا بہترین سامان رکھ دیا۔ ذیل کی سطور میں اسی پہلو کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

مسنون دعاؤں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ یہ دعائیں اپنے اندر تربیت کا بڑا سامان رکھتی ہیں۔ وہ خودکو بنانے، سنوارنے اور خوبیوں سے آراستہ کرنے کے لئے مہمیز لگاتی اور شخصیت کے اصلاح طلب پہلوؤں کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ان دعاؤں کا کمال یہ ہے کہ وہ خوبیوں کو دلوں کی تمنا بنادیتی ہیں اور خرابیوں سے شدید نفرت پیدا کرتی ہیں۔

انسان کی دعائیں اس کی تمناؤں کا اظہار ہوتی ہیں۔ جب انسان تزکیۂ نفس اور تربیت ِ ذات کیلئے دعائیں کرتا ہے تو خود اس کا دل اس کی طرف شوق کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو جن خوبیوں سے آراستہ کرنے کی دعا کرتا ہے، وہ خوبیاں اس کے دل کے اندر بسیرا کرنے لگتی ہیں۔ ایک شخص جب شعور کے ساتھ دعا کرتا ہے کہ اللہ مجھے کنجوسی کی صفت سے نجات دے دے، تو اس کے دل میں کنجوسی کے لئے جگہ تنگ ہونے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دانشمندی اسی میں ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں

ایک شخص جب سچے دل سےحسنِ عبادت کی دعا کرتا ہے تو اس کی طبیعت میں حسنِ عبادت کے لئے میلان بڑھنے لگتا ہے۔جب کوئی اللہ سے گڑگڑا کردعا کرتا ہے کہ میرے خدا مجھے نیکیوں کی توفیق دے، تو وہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ مجھے نیکیوں سے عشق ہے۔ اور بار بار یہ کہنے سے نیکیوں سے اس کا عشق ترقی کرتاجاتا ہے۔

تعلق باللہ کی تجدید

مسنون اذکار کا ایک خاص تربیتی پہلو یہ ہے کہ یہ اذکار اللہ سے تعلق کو تازہ اور مضبوط کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ کے رسولؐ کا معمول تھا کہ آپ جب بستر پر جاتے تو کہتے: اللَّهُم بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْیا ’’تیرے نام سے میں مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘ اور جب اٹھتے تو فرماتے: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی أَحْیانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیهِ النُّشُورُ ’’حمد ہے اللہ کے لئے جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی دی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔‘‘(بخاری و مسلم)۔ صبح و شام کے عام اذکار اور مختلف مواقع کے خاص اذکار میں مشترک یہ ہے کہ بندہ اللہ کی قدرت کا اعتراف کرتا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے اور اسے جتنی نعمتیں میسر ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں۔

شعور کے ساتھ ورد کرنے سے اذکار کا عکس پوری زندگی پر پڑتا ہے، ایمان میں تازگی آتی ہے، توبہ و انابت کا جذبہ بڑھتا ہے اور اطاعت و عبادت کیلئے رغبت بڑھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خدمت ِ حجاج: سعادت بھی ہے اور امانت بھی

شخصیت کی تعمیر کے اہم گوشے

اللہ کے رسولؐ کی تربیت کا ایک انوکھا انداز یہ تھا کہ آپؐ اپنے ساتھیوں کی مجلس میں ذرا بلند آواز کے ساتھ ایسی دعائیں کرتے تھے، جن میں سننے والوں کیلئے یہ پیغام ہوتا کہ انہیں اپنی زندگی کے ان پہلوؤں پر خصوصی توجہ دینی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ شاید ہی کبھی ایسا ہوتا ہو کہ اللہ کے رسولؐ کسی مجلس میں ہوں اور اٹھنے سے پہلے اپنے اور اپنے ساتھیوں کیلئے یہ دعا نہ کرتے ہوں :

اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیتِكَ …لَا یرْحَمُنَا۔ (سنن الترمذی)

(ترجمہ) ’’اے اللہ ہمیں ایسی خشیت عطا کردے جو ہمیں تیرے نافرمانیوں سے روک دے۔ ہمیں اپنی ایسی اطاعت کی توفیق دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچادے۔ ہمیں ایسا یقین عطا کردے جس سے دنیا کی ساری مصیبتیں آسان ہوجائیں۔ ہمیں جب تک زندگی دے اس وقت تک ہماری سماعتوں، بصارتوں اور قوتوں کی حفاظت فرما اور ہم ہی میں سے ہمارا وارث بنا۔ جو (لوگ) ہم پر ظلم کریں تو ان کے خلاف ہو، اور جو ہم سے دشمنی کریں ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ اے اللہ ایسا نہ ہوکہ ہم اپنے دین کے معاملے میں کوئی نقصان اٹھائیں، ایسا بھی نہ ہو کہ یہ دنیا ہماری سب سے بڑی فکر بن جائے اور ہمارا علم اسی دنیا تک محدود رہے۔ ہم پر ایسے لوگوں کو مسلط نہ ہونے دے جو ہم پر رحم نہ کریں۔‘‘ اس جامع دعا کے ذریعے اللہ کے رسولؐ نے شخصیت کے نہایت اہم گوشوں کی طرف متوجہ کیا ہے:

*زندگی کے ہر قدم پر اللہ کا خیال ہو تو زندگی ہر عیب سے محفوظ رہے گی۔

*اللہ کی اطاعت سے بھرپور زندگی کامیابی کی ضمانت لے گی۔

*اللہ کی قدرت پر کامل یقین سے زندگی کی ہر مشکل آسان ہوجائے گی۔

*سمع و بصر اور تمام قوتیں اللہ کا عطیہ ہیں، ان کی حفاظت مطلوب ہے۔

*اپنی قدروں کو اپنے بعد والوں تک منتقل کرنا ہماری ذمے داری ہے۔

*ہم کسی پر ظلم کرنے والے نہ بنیں اور ظلم وعدوان کے خلاف ہمارا مضبوط اور بے لاگ موقف ہو۔

*ایک مومن کی سب سے قیمتی متاع اس کا دین ہے۔ اسے ہر چیز سے زیادہ دین کی فکر ہونی چاہئے یعنی یہ کہ اسے دین کا جو شعور ملا اُس کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

*دنیا سے تعلق ضرور رکھا جائے، مگر اسی حد تک جتنی کہ دنیا کی حقیقت ہے۔

*جب دنیا سب کچھ نہیں ہے، تو ہمارا علم بھی دنیا پر قناعت نہ کرے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر آخرت کے بارے میں جاننے کی جستجو رہے۔

*انسان کا دل آزادی اور عزت نفس کا شیدائی رہے اور کسی صورت غلامی و ذلت کو گوارا نہ کرے۔

یہ شخصیت کے وہ اہم پہلو ہیں کہ اگر ان کی طرف بار بار توجہ ہوتی رہے، تو انسان ہر طرح کے حالات کاسامنا کرتے ہوئے اور اندرونی و بیرونی خطروں سے بچتے ہوئے کام یابی کی شاہراہ پر گامزن رہ سکتا ہے۔ اور اگر ان میں سے کسی بھی پہلو کی طرف سے کوتاہی ہوئی تو انسان بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مذہب سے دوری: جدید تعلیم کا اثر یا تربیت کی کمی؟

شخصیت کو تباہ کردینے والی چیزیں

اللہ کے رسولؐ کے خادم حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ میں آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے بہت زیادہ سنا کرتا تھا: اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّینِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ (صحیح البخاری)

’ترجمہ: ’اے اللہ مجھے محفوظ رکھ فکروں اور غم سے، نکمّے پن اور کاہلی سے، کنجوسی اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور انسانوں کے قہر سے۔‘‘

انسان کے کچھ اندرونی دشمن ہوتے ہیں، جو اسے اندر سے گھن کی طرح چاٹتے اور شخصیت کے جوہر کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اللہ کے رسولؐ کی اس دعا میں ان کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے۔

مستقبل کے سلسلے میں اندیشے اور فکریں انسان کو جب اپنا اسیر بنالیتی ہیں، تو وہ اس مہلت ِ عمل کو بھی ضائع کردیتا ہے جو اُسے مستقبل کی تعمیر کے لئے ملی ہوتی ہے۔ باعمل انسان مستقبل پر نگاہ رکھتا ہے اور اندیشوں میں گرفتار نہیں ہوتا ہے۔ وہ موہوم اندیشوں کے چکّر میں حاصل مواقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ماضی کا غم روگ بن کر انسان سے قوتِ عمل سلب کرلیتا ہے۔ ایک بار ہونے والے نقصان کو وہ بار بار محسوس کرتا اور بسترِ غم پر کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔

*عجز و درماندگی وہ کیفیت ہے جب انسان میں عمل کی چنگاری بجھ جائے اور سستی و کاہلی وہ کیفیت ہے جب *نسان ٹال مٹول کرکے حاصل مواقع کو ضائع کرتا رہے۔

*بخیلی خیر کی دولت سے محروم کردیتی ہے۔ کنجوس انسان اس دنیا سے توشہ آخرت لئے بغیر رخصت ہوجاتا ہے حالانکہ اس کے پاس زادِ آخرت جمع کرنے کیلئے بہت کچھ ہوتا ہے۔

*بزدلی انسان سے اس کا جوہر سلب کرلیتی ہے۔ حق بات کہنے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات تو درکنار، وہ حق بات قبول کرنے تک کی ہمت نہیں کر پاتا۔

*قرض کا دباؤ انسان کے لئے بارِ گراں ہوتا ہے اور مسلسل ذلت کے احساس سے دوچار رکھتا ہے۔

*انسانوں کا قہر حریتِ فکر و عمل چھین لیتا ہے۔

آخری دونوں چیزیں ویسے تو خارجی ہیں لیکن انسان کے اندرون پر ڈاکہ زنی کرتی ہیں۔اس طرح یہ تمام چیزیں پاؤں کی زنجیریں ہیں، جب تک انسان ان سے آزاد نہیں ہوگا، کامیابی کی شاہراہ پر ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ان زنجیروں کو توڑنے کا مطلب اپنی شخصیت میں انقلابِ عظیم برپا کردینا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عہدِ اضطراب، بحرانِ شعور اور فکر ِ اسلامی کی بازیافت

گناہ اور قرض دونوں سے بچیں

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نماز میں کثرت سے یہ دعا کرتے: اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُبِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ۔(صحیح البخاری)۔ ترجمہ: ’’اے اللہ گناہ اور قرض سے میری حفاظت فرما! ‘‘ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کچھ گناہ آدمی اپنی خواہش سے کرتا ہے اور کچھ گناہ حالات سے مجبور ہوکر۔ انسان چاہے تو اپنی خواہشات اور اپنے اخراجات پر کنٹرول کرکے ان دونوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

اس دعا میں دونوں کے سلسلے میں حساسیت پیدا کی گئی ہے۔ انسان کوشش کرے کہ اس کی زندگی قرضوں کے بوجھ سے آزاد رہے۔ اس کیلئے وہ ایک طرف حلال کمائی کے لئے جدوجہد کرے اور دوسری طرف اپنے پاؤں چادر سے زیادہ نہ پھیلائے، جہاں تک ہوسکے اپنے اخراجات کو کنٹرول میں رکھے۔ یاد رہے کہ پرہیز گاری والی زندگی گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے اور قناعت والی زندگی قرض داری سے بچائے رکھتی ہے۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:
’’یا اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں فکر اور غم سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں کم ہمتی اور سستی سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں بزدلی اور بخل سے، اور میں تیری پناہ پکڑتا ہوں قرض کے غلبہ اور لوگوں کے ظلم و ستم سے۔اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور دجال کے فتنے سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں۔اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری پیدا کر دے جیسے کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
اس دعا میں بہت سے فتنوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ یہ تمام فتنے آدمی کی بد اعمالیوں کا شاخسانہ ہوں گے۔ انسان جس قدر برائیوں سے بچے گا، ان فتنوں اور عذابوں سے بچنے کا سامان کرے گا۔
ان فتنوں میں مال داری کا فتنہ اور غریبی کا فتنہ خاص طور سے قابل توجہ ہیں۔ بہت سی اخلاقی برائیاں مال داری سے جنم لیتی ہیں اور بہت سی تنگ حالی سے۔ انسان اگر اخلاق کی مضبوط زرہ میں ملبوس ہو تبھی ان برائیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔اس دعا میں کاہلی اور بڑھاپے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ کاہلی سے ہر حال میں بچناچاہیے۔ یہ اپنا خوگر بنالیتی ہے تو کسی لائق نہیں چھوڑتی۔ لائف اسٹائل ایسا اختیار کرنا چاہئے کہ بڑھاپا جلد نہ آئے اور جب آئے توذلت ورسوائی کا سبب نہ بنے۔ اس دعا کے آخری جملوں میں تربیت کا ایک بہت اہم پہلو یہ سامنے آتاہے کہ انسان اپنی غلطیوں سے آخری حد تک پاک ہونے کی کوشش کرے۔ وہ توبہ و استغفار کے کچھ کلمات ادا کرلینے کو کافی نہ سمجھے بلکہ اپنی شخصیت کو اچھی طرح دھو ڈالنے اور ایک ایک دھبے کو صاف کردینے کی فکر کرے۔ وہ اپنی خطاؤں سے اتنی دوری اختیار کرلے کہ پھر کبھی دوبارہ سرزد ہونے کا امکان ہی نہ رہے، جس طرح مشرق و مغرب کبھی نہیں مل سکتے۔
شخصیت کی ہر جہت سے حفاظت ہو
فروہ بن نوفل نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ اللہ کے رسولؐ کی کوئی دعا بتائیے، انہوں نے کہا آپ یہ دعا کرتے تھے:
’’اے اللہ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے میری حفاظت فرما اور میں نے جو نہیں کیا اس کے شر سے بھی میری حفاظت فرما۔‘‘(صحیح مسلم)
کبھی انسان سے کوئی حرکت سرزد ہوتی ہے اور اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑتا ہےاور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اسے گناہِ ناکردہ کی سزا ملتی ہے۔ کمال درجے کی دانائی یہ ہے کہ انسان ہر طرف سے محتاط رہے۔ خود ایسی غلطی نہ کرے جس کا نقصان اسے یا دوسروں کو اٹھانا پڑے، ساتھ ہی دوسروں کی غلطیوں سے بھی بچ کر رہے تاکہ ان کا نقصان اسے نہ پہنچے۔ اس دعامیں انسان کو اپنی شخصیت کی ہر جہت سے حفاظت کی ترغیب ملتی ہے۔ وہ ایسا کوئی کام نہ کرے جس کا اس کی شخصیت پر خراب اثر پڑے۔ وہ اچھے کاموں کے منفی اثرات سے بھی اپنی شخصیت کو بچانے کی فکر کرے۔ دوسری طرف وہ شخصیت پر خراب اثر ڈالنے والے دوسرے عوامل پر بھی نگاہ رکھے۔ اپنے عمل کے اثرات سے خود کو بچانا آسان ہوتا ہے، لیکن دیگر عوامل کے اثرات سے خود کو بچانے کے لئے بڑی دانائی درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: کسی کے گود لینے سے نہ نسب تبدیل ہوگا نہ احکام وراثت میں تبدیلی ہوگی

مثالی شخصیت کے چار ستون
سرور الانبیاء جناب محمد مصطفےٰ ؐکی ایک دعا یہ تھی:
’’اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور بے نیازی مانگتا ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم)
یہ چار چیزیں وہ ہیں جو مثالی شخصیت کی تعمیر میں بہت اہم رول ادا کرتی ہیں۔
ہدایت مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ خوبیوں سے آراستہ کرنے کے لئے فکر مند ہے۔
پرہیز گاری مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان برائیوں سے نفرت کرتا ہے اور اپنی زندگی کو ان سے یکسر پاک رکھنا چاہتا ہے۔
پاک دامنی مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے سلسلے میں ایک اعلیٰ اور پاکیزہ تصور رکھتا ہے اور اسے زندگی کے دامن پر کوئی داغ دھبہ گوارا نہیں ہے۔
بے نیازی مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اونچی پرواز کا طالب ہے اور وہ اپنی زندگی کو ایسی ہر زنجیر سے آزاد رکھنا چاہتا جو اس کی بلند پرواز میں رکاوٹ بنے۔
جس شخص میں یہ چاروں چیزیں جمع ہوجائیں وہ نہایت حسین، پاکیزہ، قد آور اور بلند پرواز ہوجاتا ہے۔
غموں کا مداوا قرآن مجید میں پائیں
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: اگر کسی کو کوئی پریشانی یا غم لاحق ہو اور وہ یہ دعا پڑھے تو اللہ اس کی پریشانی اور غم کو دور کردے گا:
’’اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا حکم مجھ پر نافذ ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ برحق ہے، میں تجھ سے دعا کرتا ہوں تیرے ہر نام کے حوالے سے، جس سے تو نے خودکو موسوم کیا، یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا علم غیب میں اپنے پاس رکھا، تو قرآن مجید کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا مداوا اور میری پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنادے۔‘‘ (مسند احمد)
غور سے دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ اس دعا میں اللہ کے رسولؐ نے پریشانی دور کرنے کے لئے یہ دعا نہیں سکھائی کہ یااللہ میری پریشانیوں کو دور کردے، بلکہ یہ دعا سکھائی کہ قرآن کو میری پریشانیاں دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔ اس طرح آپؐ نے یہ عظیم اور ارفع پیغام دیا کہ انسانو! تمہاری ہر پریشانی کا علاج اور تمہارے غموں کا مداوا قرآن مجید میں ہے۔ قرآن مجیدکے احکام و تعلیمات پر عمل کرکے تمہاری زندگی میں بہار آجائے گی اور غم کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں سعادت و مسرت سے بھرپور زندگی کے انمول نسخے موجود ہیں، شرط یہ ہے کہ آدمی سچی طلب کے ساتھ قرآن مجید کی طرف رجوع کرے، سیکھنا چاہے اور اس کے پیغام کو دل میں اُتارنا چاہے۔

اعلیٰ اوصاف پیدا کریں، اللہ کی مدد آئے گی
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ یہ دعا کرتے تھے:
’’میرے رب میری مدد کر، میرے خلاف مدد نہ کر، میری نصرت فرما، میرے خلاف نصرت نہ فرما، میرے حق میں تدبیر کر، میرے خلاف تدبیر نہ کر، مجھے سیدھا راستہ دکھا اور ہدایت کو میرے لئے آسان کردے، جو میرے ساتھ زیادتی کرے اس کے خلاف میری نصرت فرما۔ میرے رب مجھے بار بار شکر کرنے والا بنا دے، بار بار ذکر کرنے والا بنادے، ہر وقت ڈرنے والا بنا دے، سراپا اطاعت گزار بنادے، تیرے حضور جھک جانے والا بنادے، تجھ سے آہ و زاری کرنے والا اور تجھ سے لو لگانے والا بنادے۔ میرے رب میری توبہ قبول کرلے، میرے گناہ دھودے، میری دعا سن لے، میری دلیل مضبوط کردے، میری زبان دلنشین کردے، میرے دل کو راہ یاب کردے اور میرے سینے کا روگ جڑ سے نکال دے۔‘‘ (سنن الترمذی)
اس دعا کے ایک حصے میں اللہ سے مدد ونصرت مانگی گئی ہے، تو دوسرے حصے میں اللہ کو پسند آنے والے اوصاف مانگے گئے ہیں۔ یہ اوصاف انسان کو غیر معمولی عظمت عطا کرنے والے ہیں۔ ان کا ذکر مبالغے کے صیغے کے ساتھ کیا گیا ہے۔ گویا انسان کا ہدف یہ ہونا چاہئے کہ ان اوصاف میں اونچے سے اونچا درجہ حاصل کرلے۔ کم پر اکتفا نہ کرے۔ وہ کبھی کبھی ذکر وشکر کرنے کے بجائے ذاکر اور شاکر بلکہ اور آگے بڑھ کر ذکّار اور شکّار بنے۔
اس دعا کا پیغام واضح ہے کہ اگراللہ کی مدد مطلوب ہو تو اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرو جو تمہیں اللہ کا محبوب بنادیں۔

یہ بھی پڑھئے: ان اخلاقی خوبیوں کو اپنائیے جن سے جنت کے مستحق بن سکیں

انسان کی شخصیت کی چار اہم جہتیں
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ، سرکار دو عالمؐ یہ دعا کرتے تھے:
’’اے اللہ مجھے بچائے رکھ ایسے دل سے جس میں نرمی نہ ہو، ایسے علم سے جو مفید نہ ہو، ایسے نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور ایسی دعا سے جسے تیری بارگاہ میں قبولیت نہ ملے، مجھے ان چاروں چیزوں سے محفوظ رکھ۔‘‘
 (سنن الترمذی)
آدمی کی شخصیت کی یہ چار اہم جہتیں ہیں: (۱) اس کا دل، جو نرم ہو تو اللہ کے نور کا مسکن بنے اور سخت ہو جائے تو اس کی کوئی قیمت نہ رہے۔(۲) اس کی عقل، جو مفید علم فراہم کرے تو سب کیلئے رحمت کا سامان ہو اور نقصان دہ علم جنم دے تو بہت بڑی زحمت بن جائے۔(۳) اس کی خواہشات، جو اسے تمام جانداروں میں ممتاز کرتی ہیں اگر حد اعتدال سے تجاوز اور راہ راست سے انحراف نہ کریں۔ اور اگر وہ حد سے بڑھ جائیں تو انسان کو پستی میں ڈھکیل دیتی ہیں۔ (۴) اس کی دعا، جو سن لی جائے تو اس کی خوش نصیبی کا ٹھکانا نہیں رہتا ہے اور رد کردی جائے تو اس سے بڑی بدنصیبی کوئی اور نہیں۔
شخصیت کی ان چاروں جہتوں کی حفاظت انسان کو خود کرنی ہے اور اس کے لئے اللہ سے مدد مانگتے رہنا ہے۔ الغرض، اللہ کے بندوں کو اللہ کی مدد و نصرت کیلئے دُعا کرنی چاہئے اور دُعا کے الفاظ وہی ہوں جو حضورؐ کے ہیں تو کیا کہنا!

اچھائیوں کی طلب کامیابی کی شاہ کلید : شخصیت کے ارتقا کے لئے ضروری ہے کہ انسان اچھی سے اچھی چیزوں سے محبت کرے اور کسی برائی کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دے، خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی ہو۔ سنن ابن ماجہ میں موجود اللہ کے رسول ﷺ کی اس دعا کے ایک ایک لفظ پر غور کیجئے:

’’اے اللہ میں تجھ سے سارے کا سارا خیر مانگتا ہوں، جو ابھی مل جائے وہ بھی اورجو بعد میں ملے وہ بھی، جو میں جانتا ہوں وہ بھی اور جو نہیں جانتا ہوں وہ بھی۔ اور میں سارے کے سارے شر سے پناہ مانگتا ہوں، حال کے شر سے بھی اور مستقبل کے شر سے بھی، جو مجھے معلوم ہے اس سے بھی اور جو معلوم نہ ہو اس سے بھی۔ اے اللہ میں تجھ سے وہ خیر مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور نبی (ﷺ) نے تجھ سے مانگا، اور اس شر سے پناہ چاہتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ چاہی۔ اے اللہ میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور ہر وہ قول اور عمل مانگتا ہوں جو جنت سے قریب کردے، اور دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں اور ہر اس قول یا عمل سے جو دوزخ سے قریب کردے۔ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ میرے سلسلے میں جو بھی فیصلہ فرما اسے خیر بنادے۔‘‘

یہ دعا کیا ہے، خیر کے سارے خزانوں کی طلب ہے۔ اگر ایک انسان اپنی زندگی میں ہر طرح کے خیر کو تلاش کرنے لگےاور کسی طرح کے شر کو اپنے قریب پھٹکنے نہ دے تو اس کی زندگی ستاروں بھرے آسمان سے زیادہ دلکش ہوجائے۔

غور کریں کہ اس دعا میں خیر کی طلب کتنے طریقوں سے کی گئی ہے۔ ویسے تو یہ کہنا کافی تھا کہ یا اللہ میں تجھ سے سارا خیر مانگتا ہوں، لیکن حال کا بھی اور مستقبل کا بھی، معلوم بھی اور نامعلوم بھی، وہ سارا خیر جو اللہ کے رسول نے مانگا، پھر جنت اور جنت سے قریب کرنے والا ہر قول اور ہر عمل۔ اس سب پر مزید یہ کہ تقدیر کے ہر فیصلے میں خیر ہو۔

اس دعا میں یہ تعلیم بھی بہت اہم ہے کہ آدمی کو اگر جنت کی طلب ہو تو اسے ہر اس عمل اور ہر اس قول کی جستجوکرنی چاہئے جو جنت سے قریب کرےاور اگر وہ دوزخ سے نجات چاہتا ہو تو اسے ہر اس عمل اور ہر اس قول سے دور رہنا چاہئے جو دوزخ سے قریب کرنے والا ہو۔ 

ہر برائی سے نفرت کا سبق:نبی ﷺ یہ دعا کرتے تھے:

’’اے اللہ! میری حفاظت فرما، برے اخلاق سے، برے کاموں سے اور بری خواہشات سے۔‘‘ (سنن ترمذی)

خواہش، عمل اور اخلاق یہ انسانی شخصیت کے تین پہلو ہیں۔ خواہش دل میں رہتی ہے، اعمال کا تعلق اعضاء و جوارح سے ہےجب کہ اخلاق دوسروں کے ساتھ رویے کا نام ہے۔اس چھوٹی سی دعا میں اخلاق کے تین ابواب کو سمیٹ دیا گیا۔ برائی کا ایک درجہ یہ ہے کہ وہ انسان کی خواہش بن کر اس کے دل میں پلتی رہے، ایک یہ ہے کہ وہ گاہے گاہے اس کے کاموں میں ظاہر ہوتی رہے اور برائی کا ایک درجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر اس طرح سرایت کرجائے کہ اس کی عادت اور مستقل رویہ بن کر دوسروں کو تکلیف دے۔برائیوں سے نفرت کرنے والا انسان اپنی خواہشات، اعمال اور دوسروں کے ساتھ اپنے رویے پر کڑی نگاہ رکھتا ہے۔

صورت بھی سنواریں اور سیرت بھی نکھاریں: حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ یہ دعا فرماتے تھے:

’’اے اللہ تو نے میری عمدہ تخلیق کی ہے، میرے اخلاق بھی عمدہ کردے۔‘‘ (مسند أحمد)

اس مختصر مگر بہت جامع دعا کا تعلق صرف آئینہ دیکھنے سے نہیں ہے، بلکہ یہ بار بار کی جانے والی دعا ہے۔ اس دعا میں شخصیت کے ظاہری حسن اور باطنی حسن دونوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عمدہ جسم اور اچھی شکل و صورت سے نوازا ہے۔ یہ اللہ کی نعمت ہے، اس کی حفاظت ہونی چاہئے۔

دوسرا کام جس پر انسان کی توجہ زیادہ ہونی چاہئے وہ سیرت و کردار کو سنوارنے کا کام ہے۔ اللہ نے جسم کی نوک پلک کو تو درست کرکے اس دنیا میں بھیجا ہے لیکن سیرت و کردار کو سنوارنے کا کام انسان کو خود کرنا ہے۔ یہ کام فطرت میں ودیعت کی ہوئی تعلیم اور وحی کے ذریعے بھیجی ہوئی رہ نمائی کی روشنی میں کرنا ہےاور اس کے لئے اللہ سے بار بار مدد بھی طلب کرنی ہے۔

ثابت قدمی کے لئے ثابت قلبی ضروری ہے:حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺکثرت سے یہ دعا کرتے تھے:

’’اے دلوں کو الٹنے پلٹنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔‘‘ (سنن الترمذی)

آخرت کی کامیابی کا راز یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی اس دنیا میں ایمان اور استقامت کی زندگی گزارے۔ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ نفس کی خواہشات اور شیطان کے وسوسے راستے سے بھٹکانے کے درپے رہتے ہیں۔ قدموں کے جمے رہنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ انسان کا دل جما رہے لیکن انسان کے دل کو اللہ نے ایسا بنایا ہے کہ وہ ہر وقت اپنا پہلو بدلتا رہتا ہے۔ کبھی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو کبھی اسی سے بے زار ہوجاتا ہے، کبھی بیدار رہتا ہے تو کبھی غافل ہوجاتا ہے، کبھی محبت کرتا ہے تو کبھی نفرت، کبھی کسی کے خیال میں کھوجاتا ہے تو کبھی کسی اورکے۔

ایسے دل کو اللہ کے دین پر جمائے رکھنا بڑی ریاضت چاہتا ہے۔ انسان ہر وقت اس کی تدبیر اور سامان کرے تبھی یہ ممکن ہوپاتا ہے۔ اس کے لئے قرآن کی آیتوں پر تدبر اور کائنات کی نشانیوں پر غور و فکر بہت مفید ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ آدمی اپنے دل کی فکر کرتا رہے۔ یہ دعا انسان کو اپنے دل کی طرف متوجہ کرنے والی ہے اس لئے اس کا کثرت سے ورد ہوناچاہئے۔ہوتا یہ ہے کہ آدمی دنیا کی بہت سی چیزوں کی طرف متوجہ رہتا ہے اور اگر دھیان نہیں دیتا تو اپنے دل کی طرف دھیان نہیں دیتا۔

گھر کو بہترین ٹھکانا بنائیں:اللہ کے رسولﷺ نے تعلیم دی کہ آدمی گھر میں داخل ہوتے ہوئے یہ دعا پڑھے اور اپنے گھر والوں کو سلام کرے:

’’اے اللہ میں تجھ سے بہتر سے بہتر اندر جانااور بہتر سے بہتر باہرنکلنا مانگتا ہوں۔ اللہ کے نام سے داخل ہونا اور اللہ کے نام سے ہمارا نکلنا ہے، اور اپنے رب اللہ پر ہمارا بھروسا ہے۔‘‘(سنن أبی داؤد)

یہ دعا انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ گھر میں جاتے ہوئے یہ نیت کرے کہ وہ گھر کی فضا کو بہترین بنانے کی کوشش کرے گا، اور جب تک رہے گا گھر کے ماحول کو خوش گوار بنائے رہے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ گھر سے باہر نکلے گا تو عمدہ کیفیت کے ساتھ نکلے گا۔اگر گھر میں داخل ہونے والا انسان اس تمنا کے ساتھ داخل ہو کہ اسے گھر میں بہترین ماحول درکار ہے، تو اس کا رویہ بھی اسی طرح کا ہوگا۔ وہ ہر چیز پر مثبت ردّعمل ظاہر کرے گا اور ہر مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا نئی نسل روحانیت سے آگاہ ہے؟

گھر سے نکلیں تو اپنا خیال رکھیں:گھر سے نکلتے وقت یہ دعا سکھائی گئی:

’’اللہ کے نام سے، میں نے اللہ پر بھروسا کیا، کچھ کرنے کی طاقت اور کسی حرکت کی تاب نہیں ہے مگر اللہ کے اذن سے۔ اے اللہ مجھے اس سے محفوظ رکھ کہ میں بھٹک جاؤں یا بھٹکا دیا جاؤں، پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں، ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، نادانی کروں یا کسی کی نادانی کا نشانہ بن جاؤں۔‘‘ (ترمذی، أبو داؤد، ابن ماجہ)

گھر کے اندر انسان قدرے عافیت میں رہتا ہے، لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہاں طرح طرح کے انسانوں سے سابقہ پڑتا ہے، غلطیوں کے امکانات اور مواقع بڑھ جاتے ہیں، اس کا بھی اندیشہ رہتا ہے کہ اس کی غلطی کا کسی دوسرے کو نقصان پہنچے اور اس کا بھی ڈرہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی غلطی کا ضرر اسے لاحق ہو۔ راہ گیر اپنا راستہ یا راہِ راست اپنی غفلت سے گم کربیٹھے یا کوئی اور اس کے بھٹکنے کی وجہ بن جائے۔وہ خود لغزش کھا جائے یا کسی شیطان کی شہ پر اس کے قدم پھسل جائیں۔غرض گھر سے باہر کی دنیا میں قدم قدم پر احتیاط ضروری ہوتی ہے، سمجھ دار انسان دوسروں کے ساتھ اپنے رویے پر بھی کڑی نگاہ رکھتا ہے اور دوسروں کی طرف سے بھی محتاط رہتا ہے۔

حلال اور عزت کی کمائی:’’اے اللہ ! مجھے حرام سے بے نیاز کردے اور حلال کو میرے لئے کافی کردے، اور مجھے دوسروں کا محتاج نہ بناکر اپنے فضل سے مالا مال کردے۔‘‘ (ترمذی) اس دعا میں اللہ کے رسول ﷺ نے دو اہم باتوں کی تعلیم دی ہے، ایک تو یہ کہ حلال کے راستے بہت ہیں، اس لئے حرام کے راستے چھوڑ کر حلال کے راستے اختیار کرو۔ دوسری بات یہ کہ اللہ نے اس دنیا میں انسانوں کیلئے اتنا زیادہ سامان رکھا ہے کہ انسان کسی کا محتاج نہ بنے۔اس لئے اپنی خودی کا سودا کرکے اور دوسروں کے دست نگر ہوکر جینے کے بجائے ہر انسان روزی کے وہ راستے تلاش کرے جہاں اسکی خود داری اور عزت نفس محفوظ رہے۔

شخصیت کا حسن عبادت کے حسن میں ہے: حضرت معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسولﷺ نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا: اے معاذ میں تم سے محبت کرتا ہوں، میں نے کہا: اللہ کے رسولؐ میں بھی آپؐ سے محبت کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نماز میں یہ کہنا نہ چھوڑنا: ’’میرے رب میری مدد کر کہ میں تیرا ذکر کروں، تیرا شکر کروں اور تیری عمدہ عبادت کروں۔‘‘(سنن النسائی)

ذکر، شکر اور عبادت یہ تینوں ہی انسانی شخصیت کی معراج ہیں۔ جو شخص انہیں اپنا شیوہ بنالیتا ہے وہ اللہ سے قریب ہوجاتا ہے۔ اس دعا میں حسنِ عبادت کے الفاظ بہت اہم ہیں۔ جیسے تیسے عبادت کا فرض اتارنے والے اور پابندی و بے رغبتی سے بندگی کرنے والے تو بہت ہوتے ہیں، لیکن جس کے اندر اعلیٰ درجے کا ذوقِ عبادت ہوتا ہے، وہ اپنی عبادت کے اندر حسن پیدا کرنے کی فکر کرتا ہے اور بڑے اہتمام، سلیقے اور چاؤ سے ہر عبادت کو انجام دیتا ہے۔ عبادت تو زندگی کا سب سے حسین نغمہ ہے، اگر اسے گاتے ہوئے اس کے حسن کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو یہ اس حسین ترین نغمے کی توہین ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ایک شخص سے کہا تھا کہ جاؤ پھر سے نماز ادا کرو، تم نے نماز ادا کرکے بھی ادا نہیں کی۔

یہ مسنون دعاؤں کے کچھ نمونے ہیں، ایسی اور بہت سی دعائیں ہیں۔ بعض دعائیں ایمان کو تازہ کرتی ہیں اور بعض دعائیں عمل پر ابھارتی ہیں۔ بعض دعائیں خوبیوں کی ترغیب دیتی ہیں اور بعض دعائیں برائیوں سے نفرت پیدا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ظلم کی جڑیں فردِ واحد کے رویوں اور گھروں سے پنپتی ہیں

اگر شعور کے ساتھ ان دعاؤں کا ورد کیا جائے، تو ایک طرف یہ اللہ سے رشتہ مضبوط کرتی ہیں دوسری طرف خود اپنی ذات کو دیکھنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہ شخصیت کو بنانے اور سنوارنے والی دعائیں ہیں۔تربیت کی فکر رکھنے والےان دعاؤں سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان دعاؤں کو یکجا کرکے دیکھیں تو نہایت بلند، پاکیزہ اور دل نواز پیکر سامنے آتا ہے۔ قارئین خود غور کرسکتے ہیں کہ ان دعاؤں میں جن چیزوں کو پانے کی طلب ہے وہ شخصیت کو کس قدر حسین و جمیل بنانے والی ہیں اور جن چیزوں سے دور رہنے کی طلب ہے وہ شخصیت کیلئے کس قدر تباہ کن اور قباحت خیز ہیں۔ قارئین اس پر بھی غور کرسکتے ہیں کہ یہ دعائیں ایک بندے کی پسند و ناپسند کے معیار کو کتنا بلند کردیتی ہیں، اسے کتنی اونچی تمنائیں دیتی ہیں اور کتنا اعلیٰ خواب اور وژن عطا کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK