• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیٹیوں میں خود اعتمادی ہے، وہ کچھ بننا اور کرنا چاہتی ہیں، انہیں چاہئے تعاون، سپورٹ

Updated: January 22, 2026, 4:51 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

سال ۲۴؍ جنوری کو بچیوں کا قومی دن (گرل چائلڈ ڈے) منایا جاتا ہے جس کا مقصد صنفی امتیازات کو ختم کرنا اور بچیوں کے لئے صحتمند اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ’’اوڑھنی‘‘ (انقلاب) نے چند بیٹیوں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ اپنے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟ تعلیم کے متعلق اُن کی کیا رائے ہے اور کریئر بنانے کے سلسلے میں ان کے کیا تاثرات ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

تعلیم ہی آگے کی راہ ہموار کرتی ہے
خان تحرین عامر احمد کا تعلق جوگیشوری، ممبئی سے ہے۔ وہ ویویک کالج آف کامرس سے ایس وائے بی کام کر رہی ہیں۔ وہ ٹیچر بننا چاہتی ہیں۔ تحرین کہتی ہیں، ’’مجھے کم عمری ہی سے ٹیچر بننے کا شوق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دسویں کے بعد سے گھر میں ٹیوشن پڑھانے کا آغاز کیا۔ فی الحال اول تا ہشتم جماعت کے ۱۵؍ بچوں کو پڑھاتی ہوں۔ ٹیوشن فیس سے تعلیمی اخراجات پورے ہوجاتے ہیں۔ مَیں سمجھتی ہوں کہ ہر لڑکی کو بااختیار ہونا چاہئے۔‘‘ وہ اپنی فیملی کے متعلق کہتی ہیں کہ، ’’میری ۲؍ بہن اور ایک چھوٹا بھائی ہے اور سبھی ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھے سے رہتے ہیں۔ میری والدہ نے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا سکھایا ہے۔‘‘ لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق وہ کہتی ہیں، ’’تعلیم لڑکیوں کو زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ تعلیم کے ذریعہ وہ بااختیار بنتی ہیں۔ انہیں کم از کم گریجویشن کرنا چاہئے جس کیلئے والدین کا تعاون ملنا اشد ضروری ہے۔‘‘ موجودہ ماحول کے متعلق تحرین کہتی ہیں کہ، ’’مَیں گھر کے باہر اپنے کام سے کام رکھتی ہوں۔ اس لئے مجھ پر باہر کا ماحول اثر نہیں کرتا۔‘‘
تحرین نے یہ بھی بتایا کہ گھریلو معاملات میں وہ اپنی رائے دیتی ہیں جو قبول بھی کی جاتی ہے۔ اور وہ موبائل فون کو کارآمد آلہ سمجھتی ہے اور تعلیم کے سلسلے میں اس کا استعمال بھی خوب جانتی ہیں۔
بچیوں کے قومی دن پر وہ پیغام دیتی ہیں کہ ’’لڑکیو! تعلیم حاصل کرو، اس کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: چھوٹے بچوں کو نہلاتے وقت احتیاط برتنی چاہئے


لڑکیوں کو موقع دیجئے....
چودھری حمیرا رمضان علی بائیکلہ، ممبئی میں رہائش پذیر ہیں۔ انجمن اسلام سیف طیب جی سائنس اور آرٹس جونیئر کالج میں بارہویں جماعت میں ہیں۔ وہ ٹیچر بننا چاہتی ہیں۔ حمیرا کے خاندان میں لڑکیاں زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرتیں مگر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’مَیں کمپیوٹر ڈپلوما کرنا چاہتی تھی مگر انکار کر دیا گیا۔ پھر مَیں نے امی ابو کو اعتماد میں لیا اور وہ راضی ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مَیں اوّل آئی۔ اس خوشی میں ابّا نے مٹھائی تقسیم کروائی۔ اس واقعہ کے بعد سے مَیں نے ٹھان لیا کہ مجھے آگے بڑھنا ہے۔ مَیں اپنی کمائی سے اپنا گھر بنانا چاہتی ہوں۔‘‘ لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق کہتی ہیں، ’’ایک تعلیم یافتہ ماں ہی اپنے بچوں کی بہتر پرورش کرسکتی ہے، اسلئے لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔‘‘ حمیرا کے ۲؍ بھائی اور ۲؍ بہن ہیں اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’لڑکیوں کی موجودہ ماحول کے مطابق پرورش کی جانی چاہئے۔ انہیں اپنی حفاظت خود کرنا سکھانا چاہئے۔‘‘
حمیرا موبائل فون کا محتاط استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’سوشل میڈیا پر اچھے اور بُرے، دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں اسلئے اپنی ذاتی معلومات شیئر نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ وہ معاشرہ کو پیغام دیتے ہوئے کہتی ہیں، ’’بیٹیوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ ہوتا ہے، اسلئے مَیں کہنا چاہونگی کہ انہیں آگے بڑھنے سے نہ روکیں۔ لڑکیوں کو موقع دیجئے، وہ آپ کا نام روشن کرکے دکھائیں گی!‘‘

یہ بھی پڑھئے: خواتین اپنے مشغلے کو کاروبار کی شکل دے سکتی ہیں


لڑکیوں کی رائے لینی چاہئے
شیخ حنا حضرت علی کا تعلق ممبرا، تھانے سے ہے۔ وہ سمیہ ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج سے بارہویں کر رہی ہیں۔ وہ سی اے بننا چاہتی ہیں۔ اس کے متعلق انہوں نے انٹرنیٹ سے کچھ تفصیل بھی حاصل کی ہے، ساتھ ہی کالج کی ایک ٹیچر کی رہنمائی بھی حاصل کر رہی ہیں۔ حالانکہ ٹیچر نے انہیں ابھی بارہویں امتحان پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق حنا کہتی ہیں کہ، ’’موجودہ دور میں لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے کیونکہ حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ تعلیم یافتہ خاتون آئندہ نسل کی بہتر تربیت کرسکتی ہے۔‘‘
وہ اپنی فیملی کے متعلق بتاتی ہیں، ’’ہم تین بہنیں ہیں اور ہم تینوں ہی اپنے والدین کی لاڈلی ہیں۔ گھر میں خوشگوار ماحول ہے۔‘‘ وہ گھریلو معاملات میں مشورہ بھی دیتی ہیں جس پر عمل بھی کیا جاتا ہے اور تعریف بھی ملتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ’’لڑکیوں کی پسند و ناپسند کے متعلق  بڑوں کو پوچھنا چاہئے۔ ان سے مشورہ بھی کرنا چاہئے۔‘‘ حنا کے مطابق موبائل فون ایک کارآمد شے ہے۔ وہ کمیونی کیشن اسکل کو بہتر بنانے کیلئے اس کا استعمال کرتی ہیں۔
بچیوں کے قومی دن کے موقع پر وہ پیغام دیتی ہیں کہ، ’’کچھ گھرانوں میں بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے نہیں دیا جاتا، انہیں کہنا چاہوں گی کہ اپنی بیٹیوں پر اعتماد کریں اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کریں کیونکہ ان میں بہت کچھ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کم عمری ہی سے بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں


لڑکیو، خوب پڑھو، کریئر بناؤ اور آگے بڑھو
شیخ مہ جبین سہلانی کا تعلق گوونڈی، ممبئی سے ہے۔ وہ شری نارائن گرو کالج میں باہویں جماعت میں ہیں۔ وہ بارہویں کے بعد فارمیسی کے شعبے میں اپنا کریئر بنانا چاہتی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق مہ جبین کہتی ہیں، ’’ تعلیم کے ذریعہ لڑکیاں اپنے خوابوں کی تکمیل کرسکتی ہیں۔ اس لئے انہیں تعلیم کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔ انہیں اپنی دلچسپی کے مطابق شعبے کا انتخاب کرنا چاہئے۔‘‘
وہ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ، ’’ہم تین بہنیں ہیں اور تینوں اپنے والدین کی آنکھ کا تارہ ہیں۔ ہم تینوں بہنیں مل جل کر پڑھائی کرتی ہیں۔ چونکہ مَیں بڑی ہوں اس لئے چھوٹی بہنوں کی پڑھائی میں مدد بھی کرتی ہوں۔ ہمارے گھر کا ماحول بہت اچھا ہے۔ ابّا ہم بہنوں کو کہتے ہیں جب تک پڑھنا ہے پڑھو، مَیں ہوں سپورٹ کے لئے۔ اس جملے سے ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ ابّا ہم سے ہماری رائے بھی پوچھتے ہیں۔‘‘
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لئے مہ جبین موبائل فون کو کارآمد آلہ قرار دیتی ہے۔ وہ خود پڑھائی کے سلسلے میں موبائل فون کا استعمال بھی کرتی ہیں۔ حالانکہ سوشل میڈیا سے دور ہیں۔ وہ ایجوکیشنل ایپس تک اپنے آپ کو محدود رکھتی ہیں۔
بچیوں کے قومی دن کی مناسبت سے وہ پیغام دیتی ہیں کہ، ’’لڑکیو، خوب پڑھو، کریئر بناؤ اور آگے بڑھو۔ یقیناً آپ کا عزم آپ کو کامیاب بنا سکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جو مثبت سوچ تم رکھ لو تو بازی جیت جاؤ گے!


یو پی ایس سی کرنا چاہتی ہوں تاکہ....
انصاری عجوہ شیرین عبدالباسط کا تعلق سلامت پورہ، بھیونڈی سے ہے۔ وہ رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں بارہویں جماعت میں ہیں۔ وہ پروفیسر بننا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی ان کی دلچسپی یو پی ایس سی کرنے میں ہے۔ وہ ملک کے اس اہم امتحان میں کامیابی حاصل کرکے قوم کی بہتری کیلئے کام کرنا چاہتی ہیں۔ وہ قوم کی مثبت شبیہ بنانا چاہتی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق عجوہ کہتی ہیں، ’’ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی لڑکیوں کو بااختیار بننے کیلئے تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔‘‘
اپنے خاندان سے متعلق وہ کہتی ہیں، ’’مجھے خوشی ہے کہ ہمارے خاندان میں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ کوئی ٹیچر، کوئی ڈاکٹر تو کوئی انجینئر ہے۔ اس لئے ہم جب بھی مل بیٹھتے ہیں تو مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوتا ہے۔ سب اپنی رائے پیش کرتے ہیں جسے دیگر لوگ سنتے ہیں۔‘‘ وہ گھر کی بڑی بیٹی ہیں اور ان سے ایک چھوٹا بھائی ہے۔
موبائل فون کے تعلق وہ کہتی ہیں، ’’موبائل بہت اچھی چیز ہے اگر اس کا استعمال صحیح ڈھنگ سے کیا جائے وہ مشعل راہ ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتی ہیں۔ ساتھ ہی یوٹیوب پر ایجوکیشنل ویڈیوز بھی دیکھتی ہیں۔ انہیں اُردو زبان سے بے حد لگاؤ ہے۔
نیشنل گرل چائلڈ ڈے کی مناسبت سے وہ پیغام دیتی ہیں کہ، ’’لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔ کیونکہ تعلیم یافتہ ہوں گی تو اپنی رائے کا اظہار کر پائیں گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بچّے نااہل یا تربیت کا فقدان؟ توجہ طلب سوال


مَیں اپنی ٹیچر جیسا بننا چاہتی ہوں
قریشی صبا خاتون مہتاب عالم کا تعلق گوونڈی، ممبئی سے ہے۔ وہ پرائیویٹ بارہویں امتحان کی تیاری کر رہی ہیں۔ طبیعت کی ناسازی کے سبب ان کا ایک سال ضائع ہوگیا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ بارہویں کا امتحان پرائیویٹ دینے والی ہیں۔ بارہویں کے بعد وہ بی ایس سی میتھمیٹکس اسٹیٹسٹکس کرنا چاہتی ہیں۔ ریاضی میں دلچسپی ہونے کے سبب وہ اس شعبے میں اپنا کریئر بنانے کی خواہشمند ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق کہتی ہیں، ’’میری ایک ٹیچر ہے۔ وہ اب بھی کوئی نہ کوئی امتحان کی تیاری کرتی رہتی ہیں۔ وہ ہمیں مشورہ دیتی ہیں ہمیشہ پڑھتے رہو، خالی مت بیٹھو۔ وہ بتاتی ہیں کہ تعلیم کے ذریعہ لڑکیاں بااختیار بن سکتی ہیں۔ مَیں اُن کے جیسا بننا چاہتی ہوں۔ خوب پڑھنا چاہتی ہوں اور دوسری لڑکیوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دوں گی۔‘‘
وہ اپنی فیملی کے متعلق کہتی ہیں، ’’ہم چار بہن اور چار بھائی ہیں۔ ابّا اکثر مجھ سے مشورہ کرتے ہیں جس پر کبھی کبھی شاباشی بھی ملتی ہے۔‘‘
صبا پڑھائی کے لئے موبائل فون کا استعمال کرتی ہیں۔ وہ اکثر میتھس کے سوالات کے متعلق سرچ کرتی ہیں۔ وہ چیٹ جی پی ٹی سے بھی مشکل سوالات پوچھتی ہیں۔
نیشنل گرل چائلڈ ڈے کی مناسبت سے وہ پیغام دیتی ہیں کہ، ’’محنت کرو، پڑھائی پر دھیان دو، سیلف اسٹڈی کو ترجیح دو۔ مختصراً یہ کہ پڑھو، پڑھو اور صرف پڑھو۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK