Inquilab Logo Happiest Places to Work

’تحریکیں کبھی نہیں رکنی چاہئیں‘، ۹۹؍سالہ مجاہد آزادی ریونا کا جین زی کو پیغام

Updated: August 15, 2026, 6:02 PM IST | Bengaluru

وائی سی ریونا نے۱۵؍ سال کی عمر میں تحریکِ آزادی میں حصہ لینے کیلئے اسکول چھوڑ دیا اور برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ ۹۹؍سال کی عمر میں بھی ان کے دل میں ملک، جمہوریت اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا جذبہ زندہ ہے۔

Freedom fighterYC Revanna. Photo: X
مجاہدِ آزادی وائی سی ریونا۔ تصویر: ایکس

یہ ۱۹۴۲ء کی بات ہے۔ اس وقت وائی سی ریونا کی عمر صرف۱۵؍ سال تھی۔ وہ اور ان کے کئی دوست اور ہم جماعت اسکول کی کھڑکی سے کود کر باہر نکل آئے۔ کلاسوں میں بیٹھنے کے بجائے وہ ’’ہندوستان چھوڑو تحریک‘‘ میں شامل ہونے کیلئے دوڑ پڑے۔ ان سب کو کسی نہ کسی حد تک یقین تھا کہ وہ ایک ایسی بڑی جدوجہد کا حصہ بن رہے ہیں جو انگریزوں کو اس سرزمین سے نکال باہر کرے گی جسے وہ اپنا وطن کہتے تھے۔ آج۹۹؍ سال کی عمر میں ریونا، میسور کے ان آخری دو زندہ رجسٹرڈ مجاہدینِ آزادی میں سے ایک ہیں، جو اس وقت کے رہنماؤں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہی رہنماؤں نے انہیں اس روز کلاس چھوڑنے اور تحریک میں شامل ہونے کی ترغیب دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: یومِ آزادی: لال قلعہ تقریب میں کھرگے، راہل کو پھر پیچھے کی نشست، شامل نہیں ہوئے

وہ کہتے ہیں، ’’ہمارے اس وقت کے رہنما بہت باصلاحیت اور پُرعزم تھے۔ دیوراج ارس، ایس نجلنگپا اور ایم این جوئس (جنہیں عام طور پر ’میسور کا شیر‘ کہا جاتا تھا) نے ہمیں آزادی کی اہمیت کا احساس دلایا۔ احتجاج میں شامل ہونے کی اصل وجہ یہ جذبہ تھا کہ ہماری شرکت انگریزوں کو ملک سے نکالنے میں مدد دے سکتی ہے اور ہم خود اپنی حکومت قائم کر سکتے ہیں۔ ‘‘ریونا اگلے سال یومِ آزادی کے موقع پر۱۰۰؍ سال کے ہوجائیں گے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ۱۵؍ اگست کو میسور کے فریڈم فائٹرز پارک یا سبرائنکیرے پارک میں قومی پرچم لہرائیں گے، جہاں ہر سال یومِ آزادی کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ آزادی کے۷۹؍ سال گزرنے کے باوجود ریونا کا کہنا ہے کہ ملک کو ابھی بہت آگے جانا ہے۔ وہ زور دیتے ہوئے کہتے ہیں، ’’سوراج صرف ہندوستانی تحریکوں کا ایک حصہ تھا۔ نوجوانوں کو اس وقت تک منظم اور جدوجہد جاری رکھنی چاہیے جب تک ہم ’رام راجیہ‘ حاصل نہیں کرلیتے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ۱۹۴۷ء بمقابلہ ۲۰۲۶ء: ہندوستان میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں حیران کن اضافہ

صرف دو مجاہدینِ آزادی باقی رہ گئے
۹۹؍سالہ ریونا اپنے عروج کے زمانے میں میسور فریڈم فائٹرز اسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ اس وقت اس تنظیم میں ۱۴۵؍ رجسٹرڈ ارکان تھے۔ آج صرف ریونا اور مالے گوڈا زندہ ہیں، جو بھارت چھوڑو تحریک کے دوران برطانوی حکومت کے خلاف ہونے والی ہلچل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ ۱۹۴۲ءمیں ریونا کی احتجاج میں پہلی شرکت انہیں بہت مہنگی پڑی۔ اس زمانے میں برطانوی پولیس۱۸؍ سال سے زائد عمر کے رہنماؤں اور مظاہرین کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیتی تھی، لیکن نابالغوں کیلئے قوانین مختلف تھے۔ اگر نابالغ کسی احتجاج کے دوران پہلی مرتبہ گرفتار ہوتے تو پولیس انہیں جنگلوں میں چھوڑ دیتی، اس امید پر کہ بچے راستہ بھٹک جائیں گے۔ میسور میں نابالغ مظاہرین کو جس جنگل میں بدنام زمانہ طریقے سے چھوڑا جاتا تھا، اسے ’’کاکانا کوٹے‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ میسور سے تقریباً۷۳؍ کلومیٹر دور ہے اور اب نگرہولے ٹائیگر ریزرو کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملک کی ترقی کیلئے راہل گاندھی نے اتحاد و ہم آہنگی پر مبنی کانگریس کا نظریہ پیش کیا

آج کی طرح اس وقت بھی کاکانا کوٹے کے گھنے جنگلات میں ہاتھی، شیر اور تیندوے جیسے جنگلی جانور گھومتے تھے۔ اس علاقے کا نام قبائلی رہنما کاکا نائکا کے نام پر رکھا گیا تھا، جو انہی جنگلات میں چلتے تھے اور بعد میں میسور سلطنت کے ٹیکس وصول کرنے والوں کے خلاف کھلے عام بغاوت کر بیٹھے تھے۔ ریونا بتاتے ہیں، ’’جب مجھے پہلی مرتبہ اپنے دوستوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تو ہمیں جنگل کے بہت اندر لے جاکر اندھیری رات میں وہیں چھوڑ دیا گیا۔ گھر واپس پہنچنے میں ہمیں کئی دن لگ گئے۔ ‘‘دوسری مرتبہ گرفتار ہونے پر نابالغوں کو بھی جیل بھیجنے میں کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔ تاہم، ریونا نے احتجاج میں شرکت جاری رکھی۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اس مرتبہ پولیس ہمارا انتظار کر رہی تھی اور ہمیں جیل بھیجنےکیلئے تیار تھی۔ لیکن اس سے ہمیں ہندوستان کی آزادی کیلئےلڑنے سے نہیں روکا۔ ‘‘
میٹرک کے بعد ریونا نے گیارہویں جماعت میں داخلہ لیا، لیکن تحریکِ آزادی کا حصہ بننے کی خواہش نے بالآخر انہیں تعلیم چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی اور مہاتما گاندھی کے نقشِ قدم پر ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہوگیا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیہا بورا جے پور میں، کہا ’’نوجوانوں میں سرکار کیخلاف کافی غصہ ہے‘‘

دل سے گاندھی وادی
وائی سی ریونا یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے بہت کم عمری میں ہی مقامی مجاہدینِ آزادی اور ان کی کہانیاں سن کر آزادی کا مطلب سمجھنا شروع کردیا تھا۔ جنوری۱۹۳۴ء میں جب وہ سات سال کے تھے اور اپنی بہن سے ملنے میسور گئے ہوئے تھے، اسی دوران مہاتما گاندھی اچھوت پن کے خلاف اپنی مہم کے سلسلے میں شہر آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں بہت چھوٹا تھا۔ ہر کوئی گاندھی جی کو دیکھنے کیلئےسڑک کی طرف دوڑ رہا تھا۔ میں ایک متجسس بچہ تھا اور دور سے ان کی ایک جھلک دیکھ سکا۔ لیکن بعد میں ان کے نظریات اور فلسفے ہمیشہ میرے ذہن میں رہے۔ ‘‘ریونا۲۵؍ اگست ۱۹۲۷ءکو میسور سے تقریباً۴۵؍ کلومیٹر دور واقع ایک چھوٹے سے گاؤں ہالے یداتورے میں چناویرا دیورو اور رودرمّا کے یہاں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے مطابق بعد میں اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ان کے سیاسی خیالات مزید پختہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: یومِ آزادی کے موقع پر کاکروچ جنتا پارٹی کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کا آغاز کرے گی

برطانوی دور میں ان کے والد دیورو تجارت کرتے تھے، لیکن ریونا کی پیدائش کے چند برس بعد دریائے کاویری کے کنارے واقع ہالے یداتورے کا علاقہ سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس وقت میسور کے مہاراجہ کرشن راجا وڈیار چہارم نے بے گھر ہونے والے لوگوں کیلئے تباہ شدہ گاؤں سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ایک نیا قصبہ آباد کیا، جسے کرشن راجانگر یا عام طور پر کے آر نگر کہا جاتا ہے۔ ریونا کے خاندان نے بھی کے آر نگر میں نئی زندگی شروع کی۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم ملک میں جاری آزادی کی جدوجہد کے بارے میں سنتے تھے، لیکن اس کی اہمیت سے واقف نہیں تھے۔ جب میں ۱۵؍سال کا ہوا تو میں کے آر نگر کے سری کرشن راجندر گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں طالب علم تھا۔ اس وقت رہنما نوجوانوں کو تحریکِ آزادی میں حصہ لینے کی ترغیب دے رہے تھے۔ ‘‘اس کے بعد ریونا کو تحریک میں شامل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔

یہ بھی پڑھئے: یوم آزادی ۲۰۲۶ء کے موقع پر صدر جمہوریہ کا قوم سے خطاب

آزادی کے بعد بھی جدوجہد جاری رکھی
پانچ سال بعد۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء کو جب ہندوستان نے بالآخر برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کی تو ریونا نے بھی لاکھوں لوگوں کی طرح انتہائی خوشی کے ساتھ جشن منایا۔ لیکن ان کی جدوجہد کا اختتام یہاں نہیں ہوا۔ میسور کی نوابی ریاست کے اس وقت کے حکمران جیاچاماراجا وڈیار نے آزادی سے چند روز قبل۹؍ اگست۱۹۴۷ء کو ہندوستانی یونین میں شامل ہونے کیلئے ’’انسٹرومنٹ آف ایکسیشن‘‘ پر دستخط کئے تھے، لیکن انہوں نے جمہوری طور پر جواب دہ ریاستی حکومت کے قیام پر آسانی سے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اس کے خلاف میسور اسٹیٹ کانگریس نے، جس کی قیادت کے سی ریڈی کر رہے تھے، یکم ستمبر۱۹۴۷ء کو ’’میسور چلو‘‘ کے نام سے ستیہ گرہ شروع کیا۔ یہ نعرہ سبھاش چندر بوس کے ’’دہلی چلو‘‘ سے متاثر تھا۔

یہ بھی پڑھئے: وی ایچ پی کے ہنگامے کے بعد سردار پٹیل ودیالیہ میں پروفیسر زویاحسن کا خطاب منسوخ

ریونا نے بھی اس مارچ میں حصہ لیا۔ وہ کے آر نگر میں تقریباً ایک ہزار نوجوانوں کے پیدل مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ انہیں ۴۵؍ کلومیٹر کا سفر طے کرنا تھا، لیکن راستے میں ہی گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں اس وقت رہا کیا گیا جب مہاراجہ نے۲۴؍ستمبر۱۹۴۷ء کو عبوری حکومت کے قیام پر رضامندی ظاہر کردی۔ جیل سے رہائی کے بعد ریونا نے سرکاری اسکول میں استاد کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور۱۹۸۳ء میں ریٹائرمنٹ تک تدریس سے وابستہ رہے۔ اس دوران بھی وہ تحریر، احتجاجی تحریکوں اور سماجی خدمت میں سرگرم رہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ریونا اسکولوں اور کالجوں کی تقریبات میں شرکت کرکے طلبہ کو آزادی کی اہمیت اور معاشرے کو آگے لے جانے کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کی ’اسلامی‘ شناخت ملک کو متحد رکھنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے: سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر

اب وہ میسور کے شردادیوی نگر میں ایک پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ سال فروری میں اہلیہ کمالمّا کے انتقال کے بعد ان کی صحت بھی خراب ہوگئی۔ لیکن ناانصافی کے خلاف ان کا جذبہ آج بھی ناقابلِ تسخیر ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’چاہے انگریز ہوں یا آج اقتدار میں موجود لوگ، جب بھی ناانصافی ہو، نوجوانوں کو آگے بڑھ کر اس کے خلاف لڑنا چاہئے۔ احتجاج اور تحریکیں کبھی نہیں رکنی چاہئیں۔ ملک کی بھلائی کیلئے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ ‘‘اپنے دور اور موجودہ حالات کا موازنہ کرتے ہوئے ریونا کہتے ہیں، ’’بدقسمتی سے ملک مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہوگیا ہے اور ایسے معیاری لیڈر موجود نہیں جو سب کو ساتھ لے کر چل سکیں۔ کبھی کبھی جب میں یہ سب دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہندوستان کا انگریزوں یا میسور کے بادشاہ سے آزاد ہونا ہی بہتر نہیں تھا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ نوجوان میری رائے بدل دیں گے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK