Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کے طلبہ کیلئے مکمل اسکالرشپس، برطانیہ میں معروف شخصیات کی فنڈ ریزنگ مہم

Updated: July 31, 2026, 10:08 PM IST | Gaza

غزہ میں خیمے میں رہنے والی۲۶؍ سالہ گرافک ڈیزائنر ہبہ عابد کیلئے برطانیہ کی لینکاسٹر یونیورسٹی میں ڈیزائن مینجمنٹ میں ماسٹرز کی پیشکش جنگ کی تباہ کاریوں کے درمیان امید کی ایک کرن ثابت ہوئی۔ کئی معروف شخصیات اپنی قیمتی یا یادگار چیز عطیہ کر رہی ہیں۔

More than 20 famous British celebrities have donated their favorite and most valuable items. Photo: INN
برطانیہ کی ۲۰؍ سے زائد معروف شخصیات نے اپنی پسندیدہ اور قیمتی چیزیں عطیہ کی ہیں۔ تصویر: آئی این این

غزہ میں خیمے میں رہنے والی۲۶؍ سالہ گرافک ڈیزائنر ہبہ عابد کیلئے برطانیہ کی لینکاسٹر یونیورسٹی میں ڈیزائن مینجمنٹ میں ماسٹرز کی پیشکش جنگ کی تباہ کاریوں کے درمیان امید کی ایک کرن ثابت ہوئی۔ انہوں نے انادولو کو زوم کے ذریعے دیئے گئے انٹرویو میں کہا:’’مجھے برطانیہ کی لینکاسٹر یونیورسٹی میں ڈیزائن مینجمنٹ میں ماسٹرز کرنے کی پیشکش ملی۔ اس پیشکش نے مجھے یہ احساس دلایا کہ نسل کشی جیسے حالات میں بھی امید کےشجر زندہ رہ سکتے ہیں۔ ‘‘تاہم یونیورسٹی میں داخلے کی پیشکش مل جانا ہی کافی نہیں۔ برطانوی حکومت غزہ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کیلئےمکمل مالی معاونت (فل فنڈڈ اسکالرشپ) کو لازمی قرار دیتی ہے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے تعلیمی فلاحی ادارے فینکس اسپیس نے ’’اسکالرشپس فار غزہ‘‘ کے عنوان سے۱۰؍ روزہ نیلامی کا آغاز کیا ہے، جس میں ۲۰؍سے زائد معروف شخصیات اپنی ذاتی اشیا فروخت کر رہی ہیں تاکہ غزہ کے طلبہ کی مالی مدد کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ:۱۴۰؍ فٹ بال میدانوں کے برابر لگی جنگل کی آگ جوہری تنصیبات تک پہنچی

’’یہ خیرات نہیں ‘‘
اس مہم میں شریک معروف برطانوی اداکارہ جولیٹ اسٹیونسن نے برطانوی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا:’’ہماری حکومت نے اس نسل کشی میں عملی تعاون کیا ہے۔ کیئر اسٹارمر کی حکومت اسرائیل کو اسلحہ بھیجتی رہی، اس لئےہم بھی اس اجتماعی قتل کے ذمہ دار ہیں۔ ‘‘انہوں نے بتایا کہ غزہ کے طلبہ نے صرف یونیورسٹیوں میں درخواستیں جمع کرانے کیلئے بھی جان جوکھوں میں ڈالی۔ انہوں نے کہا:’’غزہ میں ہزاروں نوجوان انتہائی نامساعد حالات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ تمام یونیورسٹیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’بعض طلبہ چند منٹ کیلئے وائی فائی سگنل حاصل کرنے کی خاطر کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتے ہیں اور اس دوران اسرائیلی فائرنگ یا ڈرون حملے کا نشانہ بننے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ ‘‘اسٹیونسن نے زور دیتے ہوئے کہا:’’انہوں نے یہ مقام اپنی بے مثال محنت اور علمی صلاحیت کی بنیاد پر حاصل کیا ہے۔ یہ کوئی خیرات نہیں، بلکہ ان کی اپنی قابلیت کا ثمر ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ: تاریخی امن معاہدے میں حماس ’مکمل غیر مسلح ہونے‘ کیلئے رضامند: ٹرمپ کا دعویٰ

معروف شخصیات کیا عطیہ کر رہی ہیں؟
اس مہم میں ہر شخصیت اپنی پسندیدہ یا یادگار چیز عطیہ کر رہی ہے۔ سابق انگلش فٹبالر گیری لائنکر نے جاپان سے حاصل کردہ اپنے دستخط شدہ فٹبال شرٹ عطیہ کی، جبکہ اداکارہ میکسین پیک نے ایک ڈرامائی پروڈکشن کی ہوڈی پیش کی۔ جولیٹ اسٹیونسن نے ابتدا میں اپنی طالب علمی کے زمانے میں انعام کے طور پر ملنے والی شاعری کی ایک کتاب عطیہ کی۔ انہوں نے کہا:’’یہ میرے لئے بہت قیمتی کتاب تھی جو مجھے لاطینی زبان میں نمایاں کارکردگی پر اسکول انعام کے طور پر ملی تھی۔ شاعری میری پہلی محبت ہے، اور ایک نظم ہی نے مجھے اداکارہ بننے کی ترغیب دی۔ ‘‘بعد ازاں انہوں نے مزید رقم جمع کرنے کیلئے ایک اور پیشکش بھی شامل کی۔ انہوں نے کہا:’’میں ایک اور چیز بھی عطیہ کر رہی ہوں، یعنی جو شخص نیلامی میں کامیاب ہوگا، اس کے ساتھ ایک گھنٹے کی زوم گفتگو کروں گی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیپال: فرقہ وارانہ تشدد میں شدت، ۳؍ ہلاک، کرفیو، وزیر اعظم کی امن کی اپیل

’’الفاظ نہیں، عملی اقدامات ضروری ہیں ‘‘
برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اسٹیونسن نے کہا:’’صرف الفاظ کافی نہیں، انہیں اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا۔ سب سے پہلے اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنا بند کیا جائے، پھر اسرائیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ خوراک، صاف پانی اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنا بند کرے۔ ‘‘ اسی ماہ برنہم نے لیبر پارٹی کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی پر ابتدائی مؤقف کو غلط قرار دیتے ہوئے معذرت کی تھی اور اسرائیلی حکومت کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اپنانے کا وعدہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سفارتکاری کے حق میں تو یاہو کا جنگ پر زور

’’میں اس جنگ کو اپنے خواب تباہ نہیں کرنے دوں گی‘‘
غزہ سے کمزور انٹرنیٹ رابطے کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے ہبہ عابد نے بتایا کہ روزانہ کی تباہ کاریوں کے درمیان تعلیمی مستقبل کو بچائے رکھنا کس قدر مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا:’’جنگ سے پہلے میں تعلیم بھی حاصل کر رہی تھی اور ملازمت بھی، اور مجھے یقین تھا کہ محنت مجھے اپنے خوابوں تک پہنچائے گی۔ پھر ہمارا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا، میری گرافک ڈیزائنر کی ملازمت ختم ہوگئی اور ہمارا خاندان بے گھر ہو گیا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’لیکن میری زندگی کا سب سے بڑا نقصان میرے والد تھے۔ وہ لاپتا ہوگئے، اور ہمیں انہیں اسپتالوں میں شہید ہونے والوں کے درمیان تلاش کرنا پڑا۔ یہ میری زندگی کا سب سے دردناک لمحہ تھا۔ ‘‘آج وہ اپنی والدہ اور دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ غزہ میں ایک چھوٹے سے خیمے میں رہ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا:’’ہم اپنے آلات چارج کرنے کیلئے صرف سولر پینلز پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کا رابطہ بھی انتہائی کمزور ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر، اکثریت ایران پر فوجی کارروائی کے خلاف: سروے

ہبہ عابد کے مطابق اسکالرشپ صرف ان کی ذاتی تعلیم کا ذریعہ نہیں بلکہ فلسطین کی تعمیرِ نو میں کردار ادا کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ انہوں نے کہا:’’میں برطانیہ کی تعلیمی فیس اور رہائشی اخراجات برداشت نہیں کر سکتی اور مکمل اسکالرشپ کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھنا ممکن نہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’غزہ کے طلبہ صرف ایک موقع چاہتے ہیں۔ ایسا موقع جہاں ہم بمباری اور خوف کے بغیر محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ ‘‘اپنے مستقبل کے خواب کے بارے میں انہوں نے کہا:’’میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں اپنی ڈیزائن کی مہارت کو ایسے کاموں میں استعمال کروں جو لوگوں کیلئے فائدہ مند ہوں، فلسطین کی بحالی میں مدد کریں، اور یہ ثابت کریں کہ ناقابلِ تصور نقصان کے بعد بھی تعلیم امید پیدا کر سکتی ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK