Updated: October 21, 2026, 10:08 PM IST
| New Delhi
موسمیاتی تبدیلی کے باعثہندوستان میں شدید گرمی، بے موسم بارشوں، سیلاب اور خشک سالی کے نتیجے میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ناقص بنیادی ڈھانچے اور بیماریوں کی پیشگی شناخت کے کمزور نظام کے سبب ڈینگو، ہیضہ، ملیریا اور دیگر امراض سے نمٹنے کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
شدید موسمی واقعات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ عموماً منہدم عمارتوں، تباہ شدہ سڑکوں اور زیرِ آب آنے والے گھروں سے لگایا جاتا ہے، لیکن ان واقعات کے بعد ایک ایسا خطرہ بھی سامنے آتا ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، بارشوں کے غیر متوقع انداز اور اچانک آنے والے سیلاب، خواہ الگ الگ رونما ہوں یا ایک ساتھ، بیماریوں کے پھیلاؤ کے قدرتی نظام کو بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ عوامل جراثیم کے زندہ رہنے کی مدت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، بیماری پھیلانے والے کیڑوں کی جغرافیائی حدود بدل سکتے ہیں اور انسانوں، جانوروں اور جراثیم کو ایک دوسرے کے زیادہ قریب لا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں غیر متوقع اوقات میں نئے علاقوں میں بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں شدید گرمی کی لہروں اور غیر معمولی شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ متوقع ہے۔ بین الاقوامی ترقیاتی مشاورتی ادارے آئی پی ای گلوبل اور جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) کی کمپنی ایسری انڈیا کی۲۰۲۵ء کی ایک تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ۲۰۳۰ء تک شدید موسمی حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق بڑے شہروں میں گرمی کی لہروں کے واقعات دوگنے ہونے کا امکان ہے، جبکہ ملک بھر میں شدید بارشوں کے واقعات میں ۴۳؍ فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بیماریوں کے پھیلاؤ کا محض سامنے آنے کے بعد مقابلہ کرنے کے بجائے، ان کے خطرات کو پہلے ہی صحت کے منصوبوں میں شامل کرنا اور ان کی روک تھام کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں پرائمری کے تمام اساتذہ کے تقرری ناموں کی جانچ کاحکم
مانسون اور خشک سالی کے خطرات
عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے مطابق گزشتہ دہائی میں ریکارڈ کی بدترین سیلابی صورتِ حال کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ہندوستان بھی تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے، جن میں ۲۰۲۵ء میں ممبئی اور۲۰۱۸ءمیں کیرالا میں آنے والے سیلاب شامل ہیں۔ بنگلورو کے منی پال اسپتال کے کنسلٹنٹ فزیشن سوریا پرساد کا کہنا ہے کہ شدید بارشیں اور سیلاب متعدی بیماریوں کے پیدا ہونے اور پھیلنے کیلئے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیلابی پانی نکاسیٔ آب کے نظام کو متاثر کر دیتا ہے اور انسانی و حیوانی فضلہ پانی کے ذخائر میں شامل ہو جاتا ہے، جبکہ گرم درجۂ حرارت جراثیم کو زیادہ دیر تک زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ بعض بیکٹیریا سے ہونے والی اسہال کی بیماریاں عموماً گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ پھیلتی ہیں۔ کولکاتا میں ۱۹۹۹ء سے۲۰۱۹ء تک کے اعداد و شمار پر مبنی۲۱؍ سالہ تحقیق میں ہیضے کے مریضوں کی تعداد میں سال کے دوران دو مرتبہ اضافے کا رجحان سامنے آیا۔ یہ اضافہ گرمیوں کے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور مون سون کے آغاز کے ساتھ مطابقت رکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ مردم شماری میں نجی افراد کی خدمات سے سیاسی مداخلت بڑھے گی‘‘
ہیپاٹائٹس اے اور ای کے مریضوں کی تعداد میں بھی اکثر مانسون اور اس کے بعد کے مہینوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ دہلی اور ممبئی میں ہیپاٹائٹس ای کی بڑی وباؤں کا تعلق مانسون کی شدید بارشوں کے بعد گندے پانی کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام میں شامل ہونے سے جوڑا گیا ہے۔ چنئی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق شدید بارش کے واقعے کے بعد۱۵؍ دن کے دوران معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ۶۰؍ فیصد زیادہ تھا۔ تاہم، حالیہ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ان بیماریوں کے روایتی موسمی انداز کو غیر متوقع بنا رہی ہے۔ اس سے یہ بدل سکتا ہے کہ بیماریاں کب اور کن علاقوں میں سامنے آئیں گی۔ سوریا پرساد کے مطابق پہلے ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس ای اور ہیضے کے زیادہ تر مریض مانسون سے پہلے کے گرم مہینوں میں سامنے آتے تھے، لیکن گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں یہ بیماریاں زیادہ کثرت سے اور سال بھر دیکھی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: منوج جرنگے کا کسان تنظیموں کو متحد کرکے حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کا اعلان
سیلاب جراثیم کی جانوروں سے انسانوں تک منتقلی کے طریقوں کو بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ سوریا پرساد نے وضاحت کی کہ اچانک آنے والے سیلاب چوہوں کو نالیوں، بلوں اور دیگر محفوظ ٹھکانوں سے باہر نکال سکتے ہیں، جبکہ آلودہ پانی جراثیم کو گھروں اور دیگر مقامات تک پہنچا سکتا ہے۔ لیپٹوسپائروسس ایک ایسی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ اس کے سالانہ مریضوں میں ۸۵؍ فیصد سے زیادہ کیس مانسون کے دوران اور اس کے فوراً بعد سامنے آتے ہیں۔ اس بیماری کا سبب بننے والے بیکٹیریا متاثرہ جانوروں کے پیشاب کے ذریعے پھیلتے ہیں اور آلودہ پانی یا مٹی میں کئی ہفتوں سے کئی مہینوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ سوریا پرساد کے مطابق چوہے لیپٹوسپیرا بیکٹیریا کے بنیادی میزبان ہیں۔ مانسون کے دوران سیلاب انہیں نالیوں، بلوں اور دیگر ٹھکانوں سے نکال کر گھروں اور نکاسیٔ آب کے راستوں میں لے آتا ہے۔ ان کا پیشاب پانی، خوراک اور مختلف سطحوں کو آلودہ کر سکتا ہے، جس سے خصوصاً شہری سیلاب کے دوران انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آرایس ایس سربراہ کا اقتدار کی تبدیلی کو طوفان مغرب قرار، ہند میں امکان مسترد
انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروجیکٹ کے اعداد و شمار کے مطابق۲۰۱۸ءکے سیلاب کے بعد کیرالا میں لیپٹوسپائروسس کے۱۳۱۸؍کیس سامنے آئے، جن میں ۵۳؍ افراد کی موت ہوئی۔ اشوکا یونیورسٹی میں طبیعیات اور حیاتیات کے پروفیسر اور یونیورسٹی کے مرکز برائے موسمیاتی تبدیلی و پائیداری کے سابق ڈائریکٹر گوتم مینن نے کہا کہ شدید بارش یا قدرتی آفات کا سبب بننے والے غیر معمولی موسمی واقعات مخصوص متعدی بیماریوں کے خطرات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس کے اثرات صرف آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں تک محدود نہیں ہیں۔ درجۂ حرارت اور بارشوں میں تبدیلی مچھروں اور بیماری پھیلانے والے دیگر جانداروں کی افزائش، رویّے اور جغرافیائی پھیلاؤ کو متاثر کر سکتی ہے۔ گرم موسم میں مچھر زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں اور افزائش کر سکتے ہیں، جس سے ڈینگی، ملیریا اور زیکا جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا موسم طویل اور متاثرہ علاقوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ: مقیم ہندوستانی تارکین وطن کا ایس آئی آر اورسی ای سی کیخلاف احتجاج
ہمالیائی پہاڑی دامن میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور بارشوں کے بدلتے انداز کی وجہ سے ملیریا پھیلانے والے اینوفلیز مچھر ان علاقوں اور بلندیوں پر بھی زندہ رہنے لگے ہیں جہاں پہلے سردی کے باعث ان کی بقا مشکل سمجھی جاتی تھی۔ ۲۰۲۴ء میں پونے میں شدید مانسون بارشوں اور سیلاب کے بعد زیکا وائرس کے انفیکشن میں اضافہ رپورٹ ہوا۔ صرف پانی کی زیادتی ہی صحت کیلئےخطرہ نہیں بنتی بلکہ خشک سالی اور پانی کی طویل قلت بھی مختلف طریقوں سے انفیکشن کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔ ۲۰۲۳ء کی ایک تحقیق کے مطابق پانی کے ذخائر سکڑنے سے انسان، مویشی اور جنگلی جانور پانی کے محدود ذرائع کے قریب جمع ہونے لگتے ہیں، جس سے جراثیم کی ایک جاندار سے دوسرے تک منتقلی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دیگر تحقیقات میں بھی ہجوم اور گنجان آبادی کو جراثیم کے پھیلاؤ میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ پانی کی قلت کے باعث بعض برادریاں غیر محفوظ یا متبادل آبی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جن میں ایسے ذرائع بھی شامل ہیں جو گھریلو جانوروں کے ساتھ مشترکہ ہوں۔ اس سے انسانوں اور جانوروں کے درمیان رابطہ بڑھتا ہے اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ صفائی، کھانا تیار کرنے اور حفظانِ صحت کیلئے پانی کی کمی بھی انفیکشن کے امکانات بڑھاتی ہے۔ ٹینکروں یا عوامی نلوں سے حاصل کردہ پانی کو طویل عرصے تک بڑے برتنوں میں ذخیرہ کرنے سے مچھروں جیسے بیماری پھیلانے والے جانداروں کی افزائش کے لیے نئی جگہیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کان کنی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو پولیس پریشان کرتی ہے‘‘
ناقص بنیادی ڈھانچہ
شدید موسمی حالات خود بخود بیماریوں کے خطرات پیدا نہیں کرتے، بلکہ ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں ان کے اثرات کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ شہری منصوبہ بندی کی خامیاں، سیلابی میدانوں میں تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں کے خاتمے نے بارش کے پانی کی نکاسی کیلئےدستیاب جگہ کم کر دی ہے، جس سے سطحی بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ شدید موسمی واقعات کے اثرات برداشت کرنے کیلئے بنایا گیا بنیادی ڈھانچہ بھی بڑی حد تک ماضی کے نسبتاً مستحکم بارشوں کے انداز کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا تھا۔ حال ہی تک ہندوستان میں بارش کے پانی کی نکاسی کے نظام کے ڈیزائن کیلئے مرکزی ادارے برائے صحتِ عامہ اور ماحولیاتی انجینئرنگ (CPHEEO) کی ہدایات کے تحت ایسی بارشوں کو بنیاد بنایا جاتا تھا جو ہر ایک سے دو سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہیں۔ جہاں بارشوں کے اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے، وہاں نالیوں کو عموماً۲۵؍ ملی میٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ بارش کی شدت برداشت کرنے کیلئے ڈیزائن کیا جاتا تھا۔ یہ مقدار حالیہ برسوں میں ہونے والی کئی شدید بارشوں کی شدت سے کہیں کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹائیگرشراف پر حملے کا معاملہ: وڈیٹیوار کا سوال ’’کیا وزارت داخلہ کا خوف ختم ہوگیا؟‘‘
مئی کے مہینے میں بنگلورو، دہلی اور ممبئی میں ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران۱۰۰؍ ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ ملک کے کئی دوسرے شہروں میں اب بھی پرانا اور ناقص انتظام والا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ جب ایک ہی دن میں ۱۰۰؍ ملی میٹر بارش ہوتی ہے تو نالیاں گاد، ملبے اور شہری کچرے سے بھری ہونے کے باعث پانی کی نکاسی میں ناکام رہتی ہیں۔ ہندوستان کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) کی۲۰۲۲ء کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد شہروں کے بلدیاتی اداروں کے پاس زیرِ زمین نکاسیٔ آب کے نظام کے تازہ نقشے موجود نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض نظام کئی دہائیاں پرانے ہیں۔ ممبئی اور کولکاتا میں زیرِ زمین نکاسیٔ آب کے نیٹ ورک کے کچھ حصے۱۰۰؍ سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں۔ آسام میں رواں سال جولائی سے آنے والے سیلاب بھی اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ماضی میں تعمیر کیا گیا بنیادی ڈھانچہ آج کے شدید موسمی حالات کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ریاست میں ۴؍ ہزار ۸۰۰؍کلومیٹر سے زیادہ طویل پشتے موجود ہیں، لیکن اندازوں کے مطابق ان میں سے تقریباً۶۰؍ فیصد کی مرمت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: مودی کی رہائش گاہ کے قریب ریس کورس مسجد کو چھ دن میں خالی کرنے کا حکم
ویلکم ٹرسٹ ریسرچ لیبارٹری کی سینئر پروفیسر اور ویلور کے کرسچن میڈیکل کالج میں مرکز برائے صحتِ عامہ کی معاون فیکلٹی کی رکن ستارا ایس آر اجمپور نے کہا کہ ہندوستان کا کوئی بھی حصہ ان اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ ان کے مطابق پانی کی خراب پائپ لائنیں، ذخیرہ کرنے کے ناقص نظام اور گڑھوں والے بیت الخلاؤں سے بہنے والا پانی زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر سکتا ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے تو امدادی کیمپوں میں صاف پانی کی فراہمی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ صحت کی سہولتوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث پانی کی کمی دور کرنے کیلئے ضروری ابتدائی علاج میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے۔ ہندوستان میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات تیاریوں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے بیماریوں کی نگرانی، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق منصوبہ بندی اور قومی ادارۂ انتظامِ آفات (NDMA)کیلئے صحتِ عامہ کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ قلعی کھل چکی ہے، ایس آئی آر فوراً منسوخ کریں‘‘
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور شدید موسمی واقعات پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے بوجھ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں ان موسمی واقعات کے نتائج کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ گوتم مینن کے مطابق ہندوستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والی بیماریوں کا خطرہ غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ ملک میں ملیریا، ڈینگی، چکن گونیا، جاپانی انسیفلائٹس، ہیضہ، لیپٹوسپائروسس اور کالا آزار جیسی بیماریاں پہلے سے موجود ہیں، اس لئے ان سے نمٹنے کی تیاریوں میں موجود خامیاں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بنیادی مسئلہ بیماریوں کی نگرانی کا کمزور نظام ہے، جس کے باعث بیماریوں کے پھیلاؤ کا پتا اکثر دیر سے چلتا ہے۔ صحت سے متعلق اعداد و شمار اور ماحولیاتی معلومات کو یکجا کرنے کا نظام بھی ابھی پوری طرح ترقی یافتہ نہیں ہے۔
چیلنج یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بیماریوں کو اچانک سامنے آنے والی وباؤں کے بجائے بدلتی آب و ہوا کا ایک قابلِ پیش گوئی اور تیزی سے قابلِ روک تھام نتیجہ سمجھا جائے۔ ہندوستان نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایک نظام تشکیل دینے کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کارٹر روڈ میں ترنگا ریلی نکالنے والوں کو پولیس نے حراست میں لیا
بیماریوں کی پیشگی شناخت اور روک تھام کی کوششیں
ہندوستان کی حکومت نے۲۰۱۸ء میں موسمیاتی تبدیلی اور انسانی صحت سے متعلق قومی لائحۂ عمل (National Action Plan for Climate Change and Human Health) شروع کیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد بیماریوں کی نگرانی، پیشگی انتباہی نظام، صلاحیت سازی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کی اسوسی ایٹ پروفیسر اپاسونا گھوش کے مطابق اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تمام ریاستوں نے ریاستی اور ضلعی سطح پر اپنی ٹیمیں قائم کر لی ہیں اور مقامی حالات کے مطابق منصوبے تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تاہم، یہ پروگرام ابھی تک وہ اہمیت حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ مستحق ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات گہرے اور طویل مدتی نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں اور پالیسی سازوں کو اس بات کی بہتر سمجھ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی مختلف پیچیدہ طریقوں سے صحتِ عامہ کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ قومی مرکز برائے امراضِ کنٹرول (NCDC) نے بھی ضلعی سطح پر آب و ہوا اور صحت کے خطرات کا جائزہ تیار کیا ہے۔ اس کے تحت ریاستوں کو روزانہ کی بیماریوں سے متعلق نگرانی کے اعداد و شمار، درجۂ حرارت سے ہونے والی اموات کے مقامی اندراجات اور موسمی معلومات استعمال کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہر علاقے کیلئے گرمی سے متعلق صحت کے خطرے کی حد مقرر کی جا سکے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی کی۲۰۲۵ء کی ایک تحقیق میں پونے کیلئے ایسا ماڈل تیار کیا گیا جو دو ماہ سے زیادہ پہلے ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈکلیئریشن میں رسید اور اکنالج وغیرہ نہ دینے کی ووٹروں کی شکایت
تحقیق کے مطابق جب درجۂ حرارت۲۷؍ ڈگری سیلسیئس سے زیادہ، بارش معتدل اور ہوا میں نمی۶۰؍ سے۷۸؍ فیصد کے درمیان ہو تو ڈینگی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، محققین نے واضح کیا کہ موسمیاتی حالات سے متعلق یہ حدود ہر علاقے میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ایسے ماڈل صحت کے حکام کو ممکنہ وباؤں کا پہلے سے اندازہ لگانے اور بروقت تیاری کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ سسٹین ایبل فیوچرز کولیبریٹوز کی اسوسی ایٹ فیلو برائے موافقت و لچک، پروی پٹیل نے کہا کہ ہندوستان کے پاس صحت کی نگرانی، موسم اور متعدی بیماریوں سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں، لیکن ان معلومات کو یکجا کرنے اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مسلسل اور مربوط اعداد و شمار کے ساتھ ان کا تجزیہ کرنے اور نتائج کی درست تشریح کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اعداد و شمار کی زمینی حقائق کی روشنی میں تصدیق اور ان کی بنیاد پر بروقت اقدامات کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اصل مقصد موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بیماریوں کے پھیلاؤ کا محض بعد میں مقابلہ کرنا نہیں، بلکہ انہیں پہلے ہی روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہونا چاہئے۔